دھوکہ - ریاض علی خٹک

ریڑھی پر چھولے لگانے والا املی آلو بخارے کی جگہ ٹاٹری استعمال کرتا ہے، چھوٹا چنا سوڈے سے پھلا کر موٹا کر دیتا ہے، شربت والا چائنہ کے فلیور لے کر پھلوں کا جوس بیچتا ہے، چینی کی جگہ شکرین استعمال کرتا ہے.

دکان والا قیمت پر نئی قیمتوں کے سٹیکرز لگاتا ہے، ایکسپائر اشیاء کی تاریخ ناقابل شناخت کر کے بیچتا ہے. ٹھیکیدار سستے میٹیریل سے عمارتیں بناتا ہے. گوشت والا حرام کھلاتا ہے. مصالحے والا رنگ بیچتا ہے. مزدور مالک کی آنکھ دیکھ کر کام کرتا ہے. مالک اپنے مال میں ملاوٹ میں مشغول ہوتا ہے.

سبزی والا پانی چھڑک کر وزن بڑھاتا ہے، مرغی والا بیمار مرغیاں کم وزن باٹوں پر بیچتا ہے. سرکار کے کارندے وردی پہن کر سڑک پر رشوت لیتے ہیں، رشوت دینے والے دھویں کا زہر اگل کر زائد کرایہ لیتے ہیں. جج وکیل سے رشوت لیتا ہے، وکیل مجرم سے. جس طرف جاؤ یہی داستان ہے.

شاید آپ اسے ہزاروں صفحوں میں بھی نہ سمیٹ پائیں کہ دھوکہ دہی، جھوٹ، فریب، مسجد کی محراب سے عدل کی ایوان تک ہر جگہ دستیاب ہے. جب ہم آلودگی کی بات کرتے ہیں، تو اس آلودگی میں کچرا، بند نالیاں، دھویں سے بھری فضا شامل ہوتی ہے. ایسے ہی معاشرہ دھوکے سے مکمل آلودہ ہے.

سوال مگر یہ ہے.

ہم یہ سب کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ جواب بہت سادہ ہے. یہ ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں. جو ہزار ہا سروں کا بنا عفریت بن کر واپس ہماری طرف ہی پلٹتا ہے. انسان معاشرتی جانور ہے. ہم نے اکٹھے رہنا ہے. اکٹھے زندگی بسر کرنی ہے. تو یہ کیسے ممکن کہ ہمارے کیے اعمال پلٹ کر ہمیں واپس دگنے بھاؤ کے ساتھ نہ ملیں؟

اب اس آلودہ ماحول میں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم بھی اسی رنگ میں رنگ جائیں، لیکن یاد رکھیں بتدریج بڑھتا دھوکہ اس معاشرے کو کھا جائے گا. دوسرا حل یہ ہے کہ ہم اپنی ذات پر اس چکر کو روک لیں. ہم عہد کر لیں کہ ہم نے دھوکے کے اس چکر میں اپنے حصے کی کمک نہیں دینی. بظاہر یہ معاشرے کو بدلنے کی قوت نہیں رکھتی لیکن اگر یہی سوچ بتدریج پروان چڑھتی گئی تو یہ اُمید ہے کہ آج نہیں تو کل جگہ جگہ اس دھوکے کا چکر رکنا شروع ہوجائے گا.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.