تبصرہ نگاری ایک فن - نعیم الدین جمالی

پاکستان کےا ندر دن بدن کتب بینی اور کتاب دوستی زوال پذیر ہو رہی ہے. کچھ وقت نکال کر لوگ مطالعہ کرلیتے تھے، موبائل اور انٹرنیٹ کی بدولت وہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے، اسی طرح کتاب کے متعلقات اور علم و ادب کی اصناف بھی ماند پڑتی جا رہی ہیں. ماہرین فنون ہم کو پے درپے داغ فرقت دے رہے ہیں. جن کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہوتا، اس وجہ سے وہ علوم و فنون ناپید ہو رہے ہیں. انھی اصناف میں سے ”تبصرہ نگاری“ ادب کی ایک معروف اور اہم صنف ہے، اس صنف کا ایسے علوم سے تعلق ہے جن پر مزید کام ہونا چاہیے لیکن بجائے ترقی کے یہ کام کم سےکم تر ہوتا جارہا ہے، تبصرہ نگار بہت ہی تھوڑی رہ گئے ہیں، پہلے تو وطن عزیز میں کتاب پڑھنے والے ہی بہت تھوڑی تعداد میں ہیں، باقی جو مطالعہ اور کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں وہ کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتے.

آئیے! دیکھتے ہیں تبصرہ نگاری کس کو کہتے ہیں.
تبصرہ نگاری کی لغوی معنی، تفصیل، تشریح اور توضیح کے ہیں، صاحب فیروزاللغات تبصرہ کے لغوی معنی میں لکھتے ہیں "تنقید، ریویو، نقد ونظر، توضیح اور جامع اللغات کے مطابق ”تبصرہ کسی بات کے متعلق رائے ظاہر کرنے کو کہتے ہیں.“
تبصرے کی کوئی خاص تعریف نہیں ملتی بلکہ ہر کسی نے اپنے مطابق تعریف کی ہے، البتہ بنیادی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ ”کسی کتاب پر تعریفی، تنقیدی، اصلاحی تاثرات دینا تبصرہ کہلاتا ہے. تبصرہ اصل دستاویز کا نچوڑ یا حاصل ہوتا ہے.“

انگریزی زبان میں تبصرہ نگاری کی تاریخ 1840ع میں شروع ہوئی جب ایڈگر ایلن پوئی(adgor allan poe) نے معروف گراہم میگزین میں کتابوں پر تبصرے کا آغاز کیا. مغرب میں کتابوں کے پڑھنے کے ساتھ اس پر تبصرے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، اگر کسی کتاب پر کسی اہم اخبار میں چند لفظ چھپ جائیں تو وہ کتاب بیسٹ سیلر ہوجاتی ہے بلکہ کوئی کتاب، ناول، سفرنامہ اس وقت تک زیادہ فروخت نہیں ہوتا جب تک کسی اہم اخبار میں اس پر تبصرہ نہ ہوا ہو.

تبصرہ نگاری ابتداء ہی سے مصنفین، مؤلفین، شاعروں اور ادیبوں کا مشغلہ رہا، غالب نے سر سید کی کتاب ”آثار الصنادید“ اور ”آئین اکبری“ پر تبصرہ لکھا، حالانکہ دونوں کتابیں شاعری پر نہ تھیں، علامہ الطاف حسین حالی کو تبصرہ نگاری میں کمال حاصل تھا، حافظ محمود شیرازی کے لکھے ہوئے تبصرے کتاب کے بارے دوٹوک رائے ہوا کرتی تھی، بابائے اردو مولوی عبد الحق ایک بلند پایہ تبصرہ نگار تھے.

اکابر علما کا بھی یہی طرز رہا کہ وہ جب کسی کتاب کو پڑھتے تو اس پر تبصرہ ضرور کرتے، علامہ سید سلیمان ندوری رح کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی لائبریری میں کوئی ایسی کتاب نہ تھی جس پر ان کا تبصرہ لکھا ہوا نہ ہو. مولانا یوسف بنوری رح کی کتابیں آج بھی موجود ہیں جن پر جابجا ان کا لکھا ہوا تبصرہ نظر آتا ہے. شیخ الاسلام علامہ مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کے تبصرے مرتب ہوکر شائع ہوگئے ہیں، جو ایک اچھی روایت ہے.

تبصرے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کتاب کو ایک نظر دیکھنے سے ہی کتاب کا نچوڑ حاصل ہوجاتا ہے بلکہ بعد میں آنے والوں کے لیے ایک اہم.سنگ میل ہوتا ہے، وہ پڑھنے والے کی رائے کو بھی جان سکتے ہیں، اور تبصرہ نگار کو اس سے حوصلہ ملتا ہے اور سوچ بچار کے نئے زاویے عطا ہوتے ہیں.

تبصرہ نگاری کا فن اتنا اہم ہے کہ اگر آپ کسی اخبار یا رسالے میں کسی کتاب پر تبصرہ لکھ رہے ہیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ آپ کے لکھے ہوئے الفاظ کتاب کو مقبول یاغیر مقبول بنا دیں گے، آپ کو اگر کتاب میں خامیاں نظر آتی بھی ہیں تو اشاروں اور کنایوں میں کہنا چاہیے، واضح الفاظ میں کبھی بھی نقد نہیں کرنا چاہیے، وطن عزیز پہلے لکھنے پڑھنے والوں کی قلت، پھر جو لکھ رہے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوئی تو یہ قطرے بھی برسنا بند ہوجائیں گے.

تبصرے کا طریق کار کیا ہونا چاہیے؟
1. سب سے پہلے کتاب کانام،
2. مصنف کانام.
3. مترجم کانام،
4. پبلیشر کانام.
5. قیمت.
اس کے بعد عموما تبصرے کے تین حصے کیے جاتے ہیں.
1. موضوع کی اہمیت،
2. کتاب کا تعارف، خوبیاں، ظاہری حسن، طباعت، ٹائٹل، فونٹ وغیرہ
3. کتاب میں خامیوں پر نقد لیکن تعمیری انداز میں،
سال کے آغاز سے میں نے جو کتب پڑھی ہیں، ان پرتبصرہ لکہنا شروع کردیا ہے. آئیے! آپ بھی اب جو کتب پڑھیں ان پر تبصرہ ضرور لکھیں.

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.