نفرتوں کی دیواریں توڑنا ضروری ہے : حمزہ شبیر کشمیری

ہر خاص و عام کی خدمت میں .....

(نفرتوں کی دیواریں توڑنا ضروری ہے.
ہر بشر کو آپس میں جوڑنا ضروری ہے.
آنچ مسلماں پر آۓ جن ہواؤں کے دم سے.
رخ ان ہواؤں کا موڑنا ضروری ہے.)
عصر حاضر میں ملک پاکستان کے اندر جس طرف بھی نظر دوڑائی جاۓ ہمیں ایک ایسے المیہ کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ جس کا تذکرہ تو ہر اک کی زباں پر نظر آتا ہے ..
لیکن اس کی وجوہات و سد باب کی طرف شاید ہی کسی کی توجہ ہوئی ہو ....
جی ہاں .!!!
میں بات کر رہا ہوں تفریق مسٹر و ملا کی .....
میں ایک ایسے معاشرہ کا فرد ہوں کہ جہاں مولوی کو دنیا کی کوئی عجیب شئی تصور کیا جاتا ہے .... اور مولوی حضرات ایک عامی فرد کو اس نظر سے نہیں دیکھ پاتے جس زاویہ سے وہ اپنے ہم مثل کو پرکھتے ہیں .....
مولوی صاحب اگر عوام کے کسی فعل پر تنقید کر دیں تو فتوؤں کی آڑ میں ان کی خوب پذیرائی کی جاتی ہے ...
عامی آدمی اگر مولوی سے وابستہ کسی نظم کے منفی پہلو کو سامنے لے آتا ہے تو اس پر لبرل ہونے کا الزام دے دیا جاتا ہے .....
جی ہاں !!!
میں ایک ایسے معاشرہ کا فرد ہوں جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے ... جہاں ہر کوئی تنقید کا حق صرف خود کو دیتا ہے ...
جی ہاں !!!!
میں ایک ایسے معاشرہ کا فرد ہوں جہاں دلیل کی جگہ گالی دی جاتی ہے .....
جی ہاں !!!
میں ایک ایسے نظام کا حصہ ہوں جہاں چہرے تبدیل ہوتے ہیں . نظام نہیں ... جہاں لوگ بدلتے ہیں ، سیاست نہیں ... جہاں ایک نا کارہ پرزہ کی جگہ دوسرے ناکارہ پرزے کو ثبت کیا جاتا ہے ....
میں ایک ایسے معاشرہ کا فرزند ہوں کہ جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے ...
میں ایک ایسی سوسائٹی میں سانس لے رہا ہوں کہ جہاں کسی بھی چیز کی قدر اس کے فقدان کے بعد ہوتی ہے ....
جہاں اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے ....
جہاں ہر کوئی اپنا اچھا چاہتا ہے .. چاہے دوسرے کا کتنا ہی خسارہ کیوں نہ ہو ....
پھر ایسے حالات میں جو بچی کچی قصر باقی تھی وہ مسٹر اور ملا کی تفریق نے ختم کر ڈالی .....
وہی مسلم قوم جو ایک وقت میں اقوام عالم کے لیے مشعل راہ ہوتی تھی ، جو امن و امان کا پیغام ہوتی تھی ، جو اتحاد و اتفاق کی زندہ مثال ہوتی تھی ...
آج خود ٹکڑوں میں بکھری پڑی ہے ... ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، دہشت گردی کے دلدل میں پھنس کر رہ گئی ہے ... اقوام عالم کے نزدیک اسے شدت پسند گردانا جاتا ہے ....
سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ہو ، مسلم سٹوڈنٹ آرگنائیزیشن کا ہو یا جامعہ الرشید کراچی کا .... جہاں بھی دیکھو ہر کوئی یہی نعرہ لگاتے نظر آتا ہے ... تفریق مسٹر و ملا کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے ....
لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ کسی نے بھی اس طرف بھی اپنی فکر کا رخ کیا ہو کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ اس کا سد باب کیسےممکن ہے ؟
کم سے کم بھی اگر کہا جاۓ تو معاشرہ کی خرابی میں 30 سے 40% تک کا حظ کثیر اسی تفریق کی وجہ سے ہے ..لیکن اس کے باوجود اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ..... مسٹر اور ملا میں سے ہر اک بس خود کو بر حق اور دوسرے کو باطل سمجھ بیٹھا ہے ...
اس وقت امت مسلمہ کی صفوف میں اتحاد کی ضرورت ہے ..
یاد رکھو یہ تفریق صرف 2 گروہوں کے ما بین تفریق نہیں بلکہ امت مسلمہ میں تفریق ہے ..
جو انگریز کی طرف سے اس وقت ڈالی گئی تھی جب مسلمانان بر صغیر پاک و ہند کے اندر تعلیمی شعور بیدار ہوا تھا ...
جب امت مسلمہ ایک صف میں کھڑی ہو چکی تھی ... لیکن انگریز کو یہ ہرگز گوارہ نہ تھا ....
یاد رکھو یہ مکر و فریب کے حامی لوگ جب کسی قوم کو شکست دینے میں نا کام ہو جاتے ہیں تو اس ملک و قوم کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے بعد وار کرتے ہیں ....
کھوکھلے تو ہم ہو چکے ہیں لیکن وار ابھی باقی ہے .. سنبھل جاؤ اب بھی .. کہ وقت اب بھی باقی ہے...
اگر اتحاد چاھتے ہو تو یہ شدت پسندی والا رویہ ترک کرنا ہو گا . ..
یاد رکھو کہ متشدد صرف مولوی ہی نہیں ... شدت پسند عناصر جانبین سے پاۓ جا رہے ہیں ... تالی کبھی بھی ایک ہاتھ سے نہیں بجھتی ...
اصلاح کی ضرورت جانبین سے ہے .. نہ کہ جانب واحد سے ...
سنو !!!
اگر تم اپنی اور معاشرہ کی اصلاح چاھتے ہو تو دوسرے کے مقام کو سمجھنا ہو گا ...
دوسرے کی عزت کرنا سیکھنا پڑے گا ....
یہ وقت باہم اختلافات کو اجاگر کرنے کا نہیں ہے ...
یہ وقت ہے تمام اختلافات کو بالا طاق رکھتے ہوئے ایک صف میں آ کھڑے ہونے کا .....
سنو اگر تم اصلاح چاھتے ہو تو انگریز کی اس سازش کو نا کام کرنا ہو گا ....
خود کے اختلافات کو بھلا کر باطل کے مقابلہ میں ڈٹ جانا ہو گا ...
یہ ملک پاکستان جس نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا ہے اس نظریہ کو اپنانا ہو گا ..... کہ ہمیں باطل سے ٹکرانا ہو گا .....
اگر تم ایسا نہ کر پاۓ تو یاد رکھو یہ اختلافات تو یہیں رہ جایں گے .. لیکن تمہارا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا ....
(مت گھبراؤ مسلمانو !! خدا کی شان باقی ہے ...
ابھی اسلام زندہ ہے ، ابھی قرآن باقی ہے )
و ما علینا الا البلاغ ...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */