والدین کے ساتھ حسن سلوک - نورین تبسم

”اللہ نے تمھیں پیدا کیا پھر وہ تمھیں وفات دیتا ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ بےشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے۔“ (سورہ النحل16، آیت 70)

ایک جائز تعلق کے توسط سے عورت اور مرد جب ماں باپ کے منصب پر فائز ہوتے ہیں تو آنے والا بچہ جسمانی، جذباتی اور معاشرتی ہر لحاظ سے اُن کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ وہ اُن کی آنکھوں سے دُنیا دیکھتا ہے، اُن کے لمس سے زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے، اُن کے رویوں کی چاشنی سے معاشرے کے تلخ و شیریں حقائق کو سمجھتا ہے تو ان کی زندگی کہانی سے اپنے حالات و مسائل کا تانا بانا بنتا ہے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ ماں باپ کتنے کمزور کیوں نہ ہو جائیں یا کتابِ مقدس کے الفاظ میں ”ارذلِ عمر“ کو ہی کیوں نہ پہنچ جائیں، کہ جب انسان علم رکھنے کے باوجود لاعلم ہو جاتا ہے، اور اُن کا وجود بجائے سہارا دینے کے خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے ہی کیوں نہ لگ جائے، اُن کی موجودگی کا غیر مرئی احساس قضا و قدر کے سامنے ایک ڈھال کی صورت ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ یہ ڈھال اُن کی زندگی میں اُن کے سامنے کبھی نہیں دکھتی بلکہ اکثر تو اپنے حصے کا کام ختم کرنے کے بعد اُن کا وجود محض ایک ذمہ داری یا معاشرتی دباؤ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اُن کے رہنما اٗصول ہماری تیز رفتار زندگی کا ساتھ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں تو اُن کے ہزار بار سُنے قصوں کی بازگشت سے ہم جان چھڑاتے ہیں۔ ہر چیز حق ہے۔ ہر خیال بھی اللہ کی طرف سے ہی آتا ہے۔ خالقِ کائنات نے کچھ بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ ناحق صرف یہ ہے کہ ہم اُسے سمجھنےسے قاصر رہتے ہیں، اِسی لیے برتنے میں غلطی کر جاتے ہیں، بسااوقات یہی غلطی ماں باپ اور اولاد کے بیچ وسیع خلیج حائل کر دیتی ہے۔ جہاں ماں باپ خودساختہ ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں، وہیں اولاد بھی اپنی دُنیا آپ دریافت کرنے کے زعم میں ایک بےغرض قطب نما کھو دیتی ہے۔

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت23 میں والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا گیا. اِس آیت ِقُرآنی میں والدین اور اولاد کے باہمی تعلق، اُن کے حقوق و فرائض، والدین کی توقعات، اولاد کی ذمہ داریاں، غرض کہ ہر مسئلے کا حل اور ہر اُلجھن کا واضح جواب موجود ہے۔

احسان دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو کسی بھلائی کا بدلہ اُتارنے کے لیے کیا جائے، اور ایک احسان یہ ہے کہ صلے کی توقع رکھتے ہوئے بھلائی کی جائے۔ احسان دونوں معنوں میں دیکھا جائے تو ایک پسندیدہ عمل ہرگز نہیں، ہمیں تو ایسی نیکی کا حُکم دیا گیا ہے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔

قرآن پاک میں اولاد کی پیدائش اور پرورش کے دوران پیش آنے والی تکالیف تفصیل سے بیان کر کے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ یہ وہ احسان ہے جس کے صلے کا تقاضا اللہ کی طرف سے ہے۔ اولاد کا ماں باپ پر احسان کرنا فرض ہے کیونکہ ماں باپ کے اولاد پر احسانات بتلائے گئے ہیں۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ قرآن پاک میں کہیں بھی والدین کو یہ حُکم نہیں دیا گیا۔ والدین کو اولاد پر اپنی بھلائی کا احسان جِتانے کی قطعی اجازت نہیں، بلکہ دیکھاجائے تو گُناہ ہے کہ جو کام اللہ نے اپنے ذمے لیا، ماں باپ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   جنگل کا پھول - ام محمد سلمان

ماں باپ کو اولاد کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی تلقین ہے۔ اُن کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ اولاد سے توقع رکھنا صرف اپنے آپ کو دُکھ دینے والی بات ہے۔ اولاد کو اچھے طریقے سے پال پوس کر بڑا کرنے، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اُن کی تعلیم وتربیت کرنے، زندگی میں سر اُٹھا کر چلنے اور اپنے آپ پر بھروسہ کرکے عطا کرنے والا ہاتھ پانے تک ماں باپ کی ذمہ داری بالکل ایسے ہی ہے جس طرح آزاد پرندے تنکا تنکا جمع کر کے گھونسلہ بناتے ہیں، محبتوں کے ثمر کو بےمہر فضاؤں کی دست بُرد سے بچانے کی تگ و دو کرتے ہیں، مجبور و بےکس کمزور جانوں کو خوراک سے تقویت دیتے ہیں، اِن کو آسمان کی وسعتوں میں جینا سکھاتے ہیں، اور پھر ایک مقررہ وقت کے بعد اپنے اپنے آسمان پر پرواز کر جاتے ہیں۔

انسان چاہے تو اپنے آس پاس بکھرے مظاہرِ فطرت سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، اور ذہنی و جسمانی آزادی کا سبق پرندوں سے بہتر کہیں سے نہیں سیکھا جا سکتا۔ لیکن مخلوق اور اشرف المخلوق کے درمیاں فرق سمجھنا ہی بنیادی نکتہ ہے۔ یہی آج کا المیہ ہے. والدین خود ترسی کا شکار ہیں کہ اولاد ہمارا خیال نہیں رکھتی۔ انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ احسان کا حُکم صرف اولاد کو ہے، والدین کو نہیں۔ اولاد کی پرورش ہر قسم کی غرض سے بالاتر ہو کر کریں گے تو خود بھی ہمیشہ سُکھی رہیں گے، اور اولاد بھی جذباتی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر اپنی مرضی سے سیدھے راستے کا انتخاب کرے گی۔ اجر تو صرف اور صرف اللہ کے ذمے ہے۔ دیکھا جائے تو اجر دُنیا میں ہی مل گیا ہے کہ اولاد کی پیدائش اور پرورش ایک انسانی رویہ ہے، اس میں والدین کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری جسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ہرحال میں سر انجام دینا پڑتا ہے، اللہ نے اس ذمہ داری کو اپنے فضل سے اتنا بڑا رُتبہ دیا کہ قُرآن پاک میں شرک سے بچنے کے بعد دوسرا حکم ماں باپ کے ساتھ بھلائی کا ہے۔

ماں اور باپ، دو ایسے رشتے جو موجود ہوتے ہوئے نہیں دکھتے اور جب ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں، پھر دکھائی دیتے ہیں۔ ماں باپ کے جانے کے بعد سب مفاد کے رشتے رہ جاتے ہیں۔ ہم جتنا اپنی توجہ کا پانی ڈالتے ہیں اتنا ہی پھل کھاتے ہیں، ذرا نظر چونکی، توقع کے کانٹے نکل آتے ہیں اور ہمیں اندر سے لہولہان کر دیتے ہیں۔

ہمارے ماں باپ، بڑے بہن بھائی اس اجنبی اور بےمہر دُنیا میں ایک دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔ دیوار، جس کی قدر اور اہمیت سے ہم شہروں میں رہنے والے واقف نہیں۔ بےشک زمین انسان کی پہلی ضرورت ہے، جس پر قدم رکھ کر وہ کاروبار زندگی کا آغاز کرتا ہے، لیکن دیوار کی اہمیت و ضرورت صحرا کے مکینوں اور سمندروں کے باسیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں جان سکتا۔ پہاڑوں میں بسنے والے زمین کے اندر ہی اندر اُتر کر کسی کھوہ کسی غار میں پناہ تلاش کر لیتے ہیں تو اونچے نیچے راستوں پر درختوں کا ساتھ کسی حد تک دیوار کی طلب سے بےنیاز کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہونہہ نا سمجھ! - اختر عباس

دیوار چاہے کچی مٹی کی لپائی سے بنی ہو یا اینٹ پتھر سے جوڑ کر مضبوط کی جائے، ہماری اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق ہی ہوا کرتی ہے۔ ہمارے قد سے بڑی یہ دیوار وقت کے سورج کی گھٹتی بڑھتی تپش میں سایہ فراہم کرتی ہے تو برہنہ پا سفرِ زندگی طے کرتے ہوئے ذرا دیر کو ”ڈھو“ لگا کر بیٹھنے کا آسرا بھی ہے۔ یہ لمحے بھر کا ساتھ دُنیا کے اس دشتِ لا انتہا میں کسی نعمتِ مترقبہ سے کم نہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم اس طور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ یہ دیوار ہمیں اپنے ہر کام میں رُکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ اینٹوں سے بنی دیوار کی طرح بےحس! جس سے سر تو ٹکرایا جا سکتا ہے لیکن اس میں سے اپنا راستہ نہیں نکالا جا سکتا۔ یہی ہماری سوچ کی خرابی ہے۔ دیوار اپنا راستہ آپ تلاش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس دیوار میں جانے کتنے خزانے دفن ہوتے ہیں جو وقت کے لامحدود فریم میں ہمارے لیے چُنے جاتے ہیں، اور ہم اپنی زندگی کے محدود وقت میں ہی اِن کے حصول کی ہوس رکھتے ہیں۔ ہم ناسمجھی اور کم عقلی کی زبان سے چاٹ چاٹ کر اس دیوار کو کھوکھلا کرنے کی اذیت میں گرفتار رہتے ہیں۔ یوں کبھی سکون نہیں پاتے۔

ایک پل کو ٹھہر کر سوچ لیں کہ اس دیوار کے پار کیا ہے؟ یہ دیوار اجل کی گہری کھائی کے کنارے پر دھرے ٹمٹماتے چراغ کی مانند ہے جو فنا کے جھونکے سے کسی پل بھی بُجھ سکتا ہے۔ ستم اس دیوار کا ہٹنا یا چراغ کا بجھنا نہیں، ہماری محرومی بھی نہیں، بلکہ اصل کہانی یہ ہےکہ پھر ہمیں اس کی جگہ لے کر خود دیوار بنا دیا جاتا ہے یا بننا ہمارا مقدر ہے۔ وہ دیوار جس سے ہم ہمیشہ حالت جنگ میں رہے، یہ جانے بنا کہ اس کی موجودگی ہمارے لیے اس میدانِ کارزار میں ذرا سی مزید مہلت کی خوش فہمی کا باعث تو تھی۔ ہاں خوش فہمی۔ ہم عقل مند تو یہ سوچتے ہیں کہ روانگی کی اس قطار میں بےشک ہمارے بڑے آگے کھڑ ے ہیں، لیکن موت کا فرشتہ اس قطار کو نہیں دیکھتا، اور جیسا اسے کہہ دیا گیا وہ کسی کو کب درمیان سے اٹھا لے جائے ہم نہیں جانتے، لیکن اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارے اس فہم کی خوش فہمی ہمارے لیے زندگی پر اعتماد کے حوالے سے امید کے چراغ تو روشن رکھتی ہے لیکن رشتوں کے ہونے پر یقین بھی کسی حد تک ختم کر دیتی ہے۔

رشتے ناطوں کو سنوارتے سنوارتے انسان جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو کتنا ہی آزاد کیوں نہ محسوس کرے، لیکن اخلاقی اور جذباتی طور پر وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا اور اسی قید و بند کے دائرے میں اپنی شناخت برقرار رکھنے ہوئے زندگی سمجھنا اصل امتحان اور کامیابی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں