قائداعظم کی آخری خواہش - ابرار نذیر

پوری قوم اپنے محسن اور محبوب قائد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کر رہی ہے. کیسے کیسے نامساعد حالات میں انھوں نے قوم کی ناؤ کو کنارے لگایا، بلاشبہ محمد علی جناح ایک عظیم قائد، ایک عظیم رہنما اور ایک عظیم قانون دان تھے، اور حقیقتاً اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی جدوجہد اور ان کی کاوشوں کو سلام عقیدت پیش کیا جائے.

لیکن کیا ہی اچھا ہو، اگر ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر اس پہلو کو سوچیں کہ بحیثیت قوم اور بحیثیت فرد قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کو کس حد قابل عمل جانا اور کس حد تک ان کے فرامین کو ریاست کے لیے معیار بنایا. آج جو مختلف گوشوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ قائد اعظم کی تعلیمات سے دوری ہے. اس میں آوازیں اٹھانے والے، آوازیں لگانے والے اور آوازیں سماعت کرنے والے سب کے سب برابر کے شریک ہیں، کیونکہ قائد اعظم کے فرامین اور ان کی دی گئی ہدایات کی روشنی میں ہم نے اپنے اپنے دائرہ میں اپنا کردار ادا نہیں کیا.

قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خصوصیت اور سب سے نرالی خوبی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ مکار حریف بھی کبھی انھیں قانون کے شکنجے میں نہیں جکڑ سکا. اور ادھر اپنا کیا حال ہے؟ کہ اپنے مؤقف اور بات منوانے کے لیے ہر جائز و ناجائز، ہر ممکن و ناممکن حربہ استعمال کرنا ہے، ہمارا ضمیر اس وقت ہمیں کتنا ملامت کر رہا ہوتا ہے جب ہمارے دامن پر قانون توڑنے کے داغ لگے ہوں اور ہم قائد اعظم کی شخصیت پر گھنٹے گھنٹے کا لیکچر جھاڑ رہے ہوں.

ایک دفعہ قائداعظم کچھ نوجوانوں سے بات کر رہے تھے. آپ نے پوچھا کہ کون کون پاکستان میں شامل ہوگا، سب مسلمان بچوں نے ہاتھ کھڑے کیے، پھر آپ نے پوچھا کس کس بچے کی سائیکل پر لائٹ موجود ہے، صرف ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا، آپ نے فرمایا کہ صرف یہ پاکستان میں جائے گا، نوجوانوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ جو قانون پر عمل نہیں کرتا، اسے ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

بات ذرا بڑھ گئی ہے. اب ہم آتے ہیں اس عنوان کی طرف جو اوپر لگایا، لیکن یہ ذہن میں رہے کہ کسی پر تنقید مقصود ہے نہ کسی کی تنقیص مطلوب ہے. 30 جولائی 1948ء کو لاہور میں اسکاؤٹ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے ارشاد فرمایا:
”میں نے بہت دنیا دیکھ لی، اللہ تعالٰی نے عزت، دولت، شہرت بھی بےحساب دی، اب میری زندگی کی ایک ہی تمنا ہے، مسلمانوں کو باوقار اور سربلند دیکھوں. میری خواہش ہے کہ جب مروں تو میرا دل گواہی دے کہ جناح نے اللہ کے دین اسلام سے خیانت اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم کی امت سے غداری نہیں کی. مسلمانوں کی آزادی، تنظیم، اتحاد اور مدافعت میں اپنا کردار ٹھیک ٹھیک ادا کیا، اور میرا اللہ کہے کہ اے میرے بندے! بے شک تو مسلمان پیدا ہوا اور بے شک تو مسلمان مرا (حوالہ تقریر ماہنامہ شاہراہ تعلیم دسمبر)

لگے ہاتھ یہ بھی جائزہ لیتے ہیں کہ قیام پاکستان کے مطالبے کی وجوہات کیا تھیں؟ یہ وجوہات سیکولرازم، لبرل ازم اور غیر فطری ریاست کے کھوکھلے نعروں سے ہوا نکال دیں گی، جب مسلمانان ہند کی جدوجہد کے نتیجے میں انگریز ہندوستان کو آزاد کرنے پر تیار ہوا تو انگریزوں نے کانگریس سے مذاکرات شروع کر دیے، اس پر مسلمانوں نے احتجاج کیا کہ کانگریس صرف ہندو کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ الگ وطن کا مطالبہ مسلم قوم کا ہے. اس وقت ایک زوردار آواز بلند ہوئی کہ ہمارا رہن سہن، کلچر، طرز بود و باش الگ الگ ہے، لہذا ہمیں الگ وطن چاہیے. یہ آواز قائداعظم محمد علی جناح کی تھی، اس مطالبے میں مسلمانوں کی پسماندگی، تعلیمی سہولیات کے فقدان، اقلیت کو سیاست سے دور رکھنے کی وجوہات کا ذکر کہیں نہیں ملتا.

آئیے عہد کریں کہ پاکستان کو قائد کے بتلائے ہوئے اصولوں پر چلانے کے لیے اپنے اپنے دائرہ میں جو ہماری ذمہ داری بنتی ہے، اسے ادا کریں گے.