بلاگ کیا ہے؟ اچھا بلاگر کون؟ نورین تبسم

بلاگ سوچنے، محسوس کرنے اور پھر لفظ لکھنے کی صورت اپنے احساس کا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بچوں اور بڑوں کو اپنی طرف مائل کرتا وہ نیا کھلونا ہے جو کبھی بھی کہیں بھی بیٹھ کر کھیلا جا سکتا ہے، بس اپنی انگلیوں کا لمس اور جدید دور کی ٹیکنالوجی کا ساتھ درکار ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک مخصوص اکاؤنٹ بنا کر سوچ کو لفظ کے لباس میں بلا جھجکے لکھ دینا بلاگ کہلاتا ہے۔\r\n\r\nہمارا ذاتی بلاگ ہماری ڈائری کی طرح ہمارے احساس کی خوشبو کا ایک رنگ برنگ گلدستہ ہوتا ہے۔ جس طرح ڈائری میں ہم اپنی سوچ، اپنا تخیل لکھتے ہیں تو کہیں پڑھے گئے خوبصورت لفظ اور کبھی کسی کی زندگی کا نچوڑ سنہرے اقوال بھی درج کرتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی معاملہ بلاگ کا بھی ہے، فرق صرف یہ کہ ہم اپنی قیمتی ڈائری بہت سنبھال کر رکھتے اور چھپا کر لکھتے ہیں تو بلاگ کی صورت ایک ایسا قابلِ اعتماد دوست ملتا ہے کہ ہم سب کچھ بلاخوف و خطر اس کے سپرد کر کے شانت ہو جاتے ہیں۔\r\n\r\nبلاگ لکھنے والا بلاگر کہلاتا ہے۔ ایک بلاگر کے لیے لکھنا ذمہ داری یا کام نہیں بلکہ سکون اور تنہائی کا ایک شاندار لمحہ ہے جو وہ اپنے ساتھ گزارتا ہے۔ بلاگ بنا کسی ہچکچاہٹ کے اپنی سوچ اور اپنے دل کی باتیں لکھ دینے کا نام ضرور ہے لیکن اُسے بےدھیانی میں کبھی پوسٹ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اپنے لکھے پر اگر دوسری نظر نہیں ڈال سکتے تو کسی اور سے یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ وہ پہلی نظر ڈالے اور ٹھہر بھی جائے۔\r\n\r\nبلاگ لکھنا بلاگ پڑھنا تازہ ہوا کا جھونکا تو ہے پر صرف اُن کے لیے جن کو نئی دُنیا دیکھنے کی لگن ہو۔ جو اپنی زندگی متعین کردہ قواعد و ضوابط، آرام دہ خواب گاہوں اور ڈرائنگ روم کی سیاست سے بری الذمہ ہوکر بادِ نسیم جیسی فطری تازگی کےساتھ گزارنے کے خواہشمند ہوں۔\r\n\r\nادب ہو یا بلاگ، ہمیشہ لکھنے والے کی ذات کا آئینہ اور اُس کی سوچ کا ترجمان ہوتا ہے۔ ادب معاشرے کی روایات اور اصنافِ سخن کے دائرے میں گردش کرتا ہے تو بلاگ ایسی کسی بھی پابندی سے آزاد ہے۔\r\n\r\nبلاگ کا معیار لکھاری کا مرہونِ منت ہے تواس کی تصدیق قاری کی نظر کرتی ہے۔ معیاری بلاگ وہی ہوتا ہے جس میں لکھاری کا احساس پڑھنے والے کو چھو جائے اور وہ اسے اپنے دل کی بات لگے۔ لیکن ایسا تب ممکن ہے جب لکھنے والے نے دل سے لکھا ہو۔ ایک بلاگر لکھاری پہلے ہوتا ہے قاری بعد میں، یا یوں کہہ لیں کہ قاری ہر کوئی ہو سکتا ہے لیکن بلاگر بننے کے لیے قاری نہیں بلکہ لکھاری ہونا اولین شرط ہے۔\r\n\r\nبلاگ اور کتاب\r\nکتاب اور بلاگ میں دور کا بھی رشتہ نہیں۔ کچھ بھی قدرِمشترک نہیں۔ کتاب زمانوں سے چلی آ رہی ہے اور بلاگ کا زمانہ دیکھنے والی آنکھوں کی تو اپنی کتابِ زندگی ہی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔\r\n\r\nبلاگ ذہن میں در آنے والے بےساختہ خیالات اور فوری احساسات کو بلا کسی کانٹ چھانٹ کے لفظ کے سانچے میں ڈھال کر ساری دنیا کے سامنے بےدھڑک پیش کر دینے کا نام ہے جبکہ تجربات زندگی، شب و روز کی ریاضت، غور و فکر، اور سب سے بڑھ کر انسانوں اور اُن کے لکھے الفاظ کے گہرے مطالعے اور عمیق سوچ بچار اور کانٹ چھانٹ کے بعد کتاب لکھنا وہ گوہرِ نایاب ہے جس کی چمک خودبخود ہی دلوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے۔\r\n\r\nکتاب کی عظمت سے انکار نہیں اور اس کے پڑھنے کی لذت بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ لفظ سے محبت کرنے والوں کے لیے کتاب عشقِ خاص کا درجہ رکھتی ہے، جو لُطف محبوب کو چھونے، اُس کو اپنی مرضی سے برتنے میں ہے وہ مزہ ہواؤں میں ہزار پردوں کے بعد لمس میں کہاں۔\r\n\r\nبلاگ کو بےشک فارغ وقت اور فارغ دماغ کی محبت ہی کہا جائے جو اکثر اس وقت ضرورت بھی بن جاتی ہے جب گھٹن بڑھ جائے یا اپنی سوچ کے نکاس کا اور کوئی راستہ دکھائی نہ دے۔ لیکن یہ بھی سچ ہےکہ جس کا جو محبوب ہو اُسے وہی بھاتا ہے۔ یہ نگاہ کا کمال ہے یا اپنی اوقات کا جو جیب دیکھ کر ہی سودا خریدنے کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔\r\n\r\nبلاگ لکھنا، بلاگ پوسٹ کرنا کتاب لکھنے اور کتاب چھپنے سے بھی بڑا نشہ ہے۔ وہ اس طرح کہ کتاب ایک بار چھپ جائے تو اس میں ردوبدل کی قطعاً گنجائش نہیں۔ کتابت کی غلطی یا خیال کی پُختگی نظرثانی پر کتنا ہی مجبور کرے لیکن لفظ جلد کی قید میں آ کر پتھر پر لکیر کی طرح ثبت ہو جاتا ہے، اور بڑے بڑے ناموں والے ادباء کو چھوڑ کر دوسرے ایڈیشن کا خواب ایک عام لکھاری دیکھنا تو کجا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جبکہ بلاگنگ کی دُنیا میں لکھنے والا اپنی کائنات کا بلاشرکت غیرے مالک ہوتا ہے۔ لفظ اُس کے ساتھ رہتے ہیں، ساتھ سوتے ہیں، اُس کے اندر سانس لیتے ہیں۔ جب چاہے انہیں چھو لے، لپٹا لےاور اُن سے خفا ہو جائے تو پرے بھی کردے۔\r\n\r\nتخلیق اظہار چاہتی ہے لیکن کتاب کی صورت اپنے احساس کے اظہار کے لیے نہ صرف ہم دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں کہ وہ اُنہیں اپنائیں، سراہیں، محسوس کریں۔ پرنٹ میڈیا کی بات کریں تو اخباری تحاریر یا کالمز بےشک ہر روز لاکھوں نظروں کو چھوتے ہیں لیکن شام کو ردی کی ٹوکری کی نذر بھی ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف بلاگ نہ تو لکھنے والے پر بوجھ بنتا ہے اور نہ ہی پڑھنے والے پر۔ بلاگ تو روزمرہ اخبار جیسا نہیں کہ جس کا دن چڑھتے ہی بےچینی سے انتظار شروع ہوجاتا ہے اور شام تک خاص خبر ہوئی تو گرماگرم، ورنہ اگلے روز نئے مصالحے، نئی ہانڈی کا تڑکا۔\r\n\r\nبلاگ میں محفوظ ہونے کے بعد لفظ لکھنے والے کے ساتھ تو رہتے ہیں بلکہ ”برقی کبوتر“ اُنہیں دُنیا کے کونے کونے میں بھی پہنچا دیتے ہیں اور لکھاری کے نام سے زیادہ اس کے لفظ کی تاثیر پڑھنے والوں کو روکتی ہے۔ قاری بلاگر کی صورت تو کیا نام سے بھی واقف نہیں ہوتے جبکہ اس کے برعکس کتاب، کالم یا دوسری تخلیقات کو پڑھتے ہوئے لفظ سے پہلے سرورق یعنی نام پر ہی نگاہ ٹکتی ہے۔\r\n\r\nبات مختصر یہ کہ بجا بلاگ بلاگ ہے اور کتاب کتاب۔ کتاب لکھنے اور چھپنے کا نشہ صاحب ِکتاب ہی جان سکتے ہیں۔ کتاب لکھنا بڑا کام اور بڑے نام والوں کا کام ہے۔ لیکن اصل مرحلہ کتاب کا چھپنا اور پھر پڑھنے والوں تک اُس کی رسائی ہے۔ یہی اصل امتحان ہے۔ اس سے بھی بڑا مسئلہ پڑھنے والوں کا اسے سراہنا ہے ورنہ سب خسارا ہے۔ کتاب چھپوائے جانے سے لے کر پڑھوائے جانے تک دوسروں کی ضرورت یا اخلاقی احسان کی طالب ہوتی ہے جبکہ بلاگ ایسی کسی بھی قسم کی ضرورت یا طلب سے بالاتر ہے۔ اس موقع پر صاحب ِکتاب یا صاحبِ نام کا یہ سوچنا یہ کہنا بجا ہو گا کہ ”انگور کھٹے ہیں“۔ شاید اس سوال کا جواب وہ بلاگر بہتر طور پر دے سکیں جنہوں نے بلاگنگ میں نام کما کر صاحب ِکتاب کی صف میں قدم رکھا ہے۔ بلاگ لکھنے سے جہاں خیال کو ایک مستند جگہ ایک ذریعہ میسر آتا ہے وہیں بلاگستان میں دوسرے بلاگرز کی تحاریر پڑھتے ہوئےسب کہنے کی آزادی کا احساس ہوتا ہے۔\r\n\r\nآخری بات\r\nمطالعہ حاصلِ زندگی ہے تو لکھنا حاصلِ مطالعہ۔ لفظ پڑھنے کا حق صرف لفظ لکھ کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ کتاب ہو یا بلاگ جس کی قسمت میں لفظ کا جتنا حصہ لکھ دیا گیا، وہ اُسے مل کر ہی رہتا ہے اور لکھنے سے لے کر پڑھنے تک ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق اس بہتے چشمے سے فیض یاب ہوتا ہے۔\r\n\r\nبلاگنگ زندگی کے پتھریلے راستے پر چلتے ہوئے ذرا سا سائباں ضرور ہے لیکن زندگی محض بلاگنگ یا لفظ کی کاری گری کا نام نہیں۔ لکھنا پڑھنا چاہے جتنا بھی اوڑھنا بچھونا بن جائے، یہ من کو تو شانت کر سکتا ہے لیکن تن کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam