بشن سنگھ مرا نہیں تھا - مسعود اشعر

مسعود اشعر ’’کیا زندہ رہنے کا حق صرف انہی کو ہے جو خاردار تاروں کے اس طرف یا اس طرف رہتے ہیں؟ زمین پر ان دو طرفوں کے وجود میں آنے کے بعد وہ سب لوگ کیا کریں جن کیلئے زمین سب طرفوں سے بے نیاز ہوتی ہے اور جو سمجھتے ہیں کہ مذہب آدمی کا ہوتا ہے زمین کے ٹکڑے کا نہیں؟‘‘\r\n\r\nیہ اقتباس ہے ناصر عباس نیر کے اس افسانے کا جس کا نام ہے ’’بشن سنگھ مرا نہیں تھا‘‘۔ بشن سنگھ سعادت حسن منٹو کے افسانے’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا وہ کردار ہے جو افسانے سے نکل کر ہماری ٹوٹی پھوٹی تاریخ کا لازوال نشان بن گیا ہے۔ ہم تو ناصر عباس نیر کو اردو ادب کے ایک ممتاز اور منفرد نقاد کے طور پر جانتے تھے۔ ان کی نظری اور عملی تنقید اور مابعد نو آبادیاتی مطالعے سے ہم خاصے مرعوب تھے اور خوش تھے کہ انہوں نے ان لوگوں کے منہ بند کر دیے ہیں جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ تنقید تو ہندوستان میں لکھی جا رہی ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے اندر ایک افسانہ نگار بھی چھپا ہوا ہے۔ اب ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’خاک کی مہک‘‘ سامنے آیا ہے تو ہم ان سے اور بھی مرعوب ہو گئے ہیں۔ یہ افسانے ایک سوچنے سمجھنے اور انسانی نفسیات اور انسانی رشتوں پر تنقیدی بصیرت رکھنے والے نقاد کے افسانے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ تنقید کی طرف تو بعد میں آئے پہلے افسانے ہی لکھتے تھے۔ اور ان کے چند افسانے رسالوں میں شائع بھی ہوئے تھے مگر وہ افسانے ہم تک نہیں پہنچے تھے۔ اب ہم نے ان کے افسانے پڑھے تو افسوس ہوا کہ انہوں نے افسانے لکھنا کیوں چھوڑ دیے تھے۔ انہیں زبان پر جو قدرت حاصل ہے اس نے ان کے افسانوں میں وہ بیانیہ تخلیق کیا ہے جو ہمارے افسانوں سے غائب ہو گیا تھا۔ یہ بیانیہ صرف کہانی ہی بیان نہیں کرتا بلکہ جو کہانی بیان کی جا رہی ہے اس کی پرتیں کھولنے کیلئے فلسفیانہ مباحث کا سہارا بھی لیتا ہے۔ یہاں آ کر ٖافسانہ نگار اور نقاد ایک ہو جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک صاحب بصیرت نقاد کے افسانے ہیں۔ افسانوں کا اسلوب اور زبان ایسی رواں دواں ہے کہ بیانیے میں کہیں بھی بوجھل ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کا انداز بیان اپنی گرفت میں ایسا لیتا ہے کہ ہم پڑھنا شروع کرتے ہیں تو پڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ افسانے سوال پر سوال اٹھائے چلے جاتے ہیں۔ اور پڑھنے والے کو بھی اپنے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اور یہی ان افسانوں کی خوبی ہے۔ اوپر ایک افسانے کا جو اقتباس دیا گیا ہے وہ ایسا ہی سوال ہے جو ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ایسے ہی سوالوں سے ہمیں ہر افسانے میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعے میں آٹھ افسانے شامل ہیں۔ آخر میں ’’حکایات جدید و مابعد جدید‘‘ کے عنوان سے چار کہانیاں شامل ہیں جو ان سوالوں کو ہی آگے بڑھاتی ہیں جو ان کے طویل افسانوں کا حصہ ہیں۔ اب ہم تو یہی کہیں گے کہ ناصر عباس نیر کو اور بھی افسانے لکھنا چاہئیں۔ ان کے افسانوں نے اردو میں اچھے افسانے پڑھنے والوں کی بھوک اور بڑھا دی ہے۔ تنقید اپنی جگہ اور افسانے اپنی جگہ۔ ہم ان کی تنقید سے بھی محروم نہیں ہونا چاہتے اور ان کے افسانے بھی پڑھنا چاہتے ہیں۔\r\n\r\nاب اردو ادب کا ذکر ہو رہا ہے تو اکادمی ادبیات کی طرف بھی رجوع کرنا ضروری ہے۔ خدا خدا کر کے اس اکادمی کو یاد آیا ہے کہ وہ ہر سال پاکستانی ادب کا انتخاب بھی شائع کرتی تھی۔ آخرکار اس نے 2010کے افسانوں، انشائیوں، مقالوں، نظموں اور غزلوں کا انتخاب شائع کیا ہے۔ نثری ادب ایک جلد میں اور شعری ادب دوسری جلد میں ہے۔ سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ اس مرتبہ کتابوں کی شکل و صورت پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ دونوں جلدیں اچھے کاغذ پر اور خوبصورت انداز میں شائع کی گئی ہیں۔ اب جہاں تک انتخاب کا تعلق ہے وہ تو انتخاب کر نے والے یا انتخاب کرنے والوں کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ لیکن نثری انتخاب دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس سال ہمارے ہاں بہت اچھے افسانے نہیں لکھے گئے۔ سوائے ایک افسانے کے جس کے لکھنے والے شاید ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں کوئی بھی افسانہ ایسا نہیں ہے جسے زیادہ دیر یاد رکھا جا سکے۔ اسد محمد خاں ’’ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی‘‘ کے عنوان سے جو قسط وار کہانی لکھ رہے ہیں وہ ان کی آپ بیتی ہے۔ اب اگر وہ اسے کہانی کہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ ہمیں مان لینا چاہئے۔ بہرحال اس میں انتخاب کرنے والوں کا بھی قصور نہیں ہے۔ اس سال جیسے افسانے لکھے گئے ان میں انہیں یہی افسانے پسند آئے ہوں گے۔ سال کے سال انتخاب سے ہمیں یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں کیا لکھا جا رہا ہے، اور کیسا لکھا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ہم نے تو اردو ادب کا انتخاب دیکھا ہے۔ امید ہے اکادمی نے پاکستان کی دوسری زبانوں کے ادب کا انتخاب بھی چھاپا ہو گا۔ پاکستان کی ہر زبان یہ حق رکھتی ہے کہ اس کے ادب کو بھی عام قاری تک پہنچایا جائے۔ اور ہاں، اکادمی نے احمد ندیم قاسمی کی صد سالہ سالگرہ کے حوالے سے اپنے رسالے ’’ادبیات‘‘ کا ایک خاص شمارہ بھی شائع کیا ہے۔ یہ ضخیم شمارہ ندیم صاحب کی نثر و نظم کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو نے جب سے اکادمی کا انتظام و انصرام سنبھالا ہے اکادمی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اور یہی اکادمی کا کام ہے۔