اوسلو میں چند روز - پروفیسر مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن اکتوبر 2014ء میں ناروے کے مسلمانوں کی دعوت پر اوسلو آیا تھا اور اُس دورے کا بنیادی مقصد’’سندرے نوراسترند مسلم سنٹر، اوسلو‘‘ کے سنگِ بنیاد کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت تھی، اُس دورے کے احوال میں اپنے کالم میں بیان کرچکا ہوں۔ اِس مسلم سنٹر کی انتظامیہ کے ارکان میں طاہرمحمود سلام، راجا محمد اقبال، غلام سرور، محمد معصوم زبیر، محمد عدنان، منشا خان، سید زبیر علی، امتیاز احمد، محمد نذر، عبدالرؤف، رفعت مسعود اور سید اظہر حسین شامل ہیں۔ یہ حضرات ماشاء اللہ دعوتی جذبے اور صالح فکر کے حامل ہیں۔ میں نے اُس موقع پر اِن حضرات سے گزارش کی تھی کہ جامع مسجد پر مشتمل اِس مرکز کی تعمیر میں بینکوں سے سود پر رقم حاصل نہ کی جائے، انہوں نے میرے اس مشورے کی پاس داری کی اور دو سال کے عرصے میں پچاس ملین کراؤن کا یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا۔\n\nالحمد للہ علیٰ اِحسانہ! یہ ایک کثیر المقاصد منصوبہ ہے، جو خوبصورت جامع مسجد، کانفرنس ہال اور ایجوکیشنل وِنگ پر مشتمل ہے اور مستقبل میں اِس میں توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے اور اس اسلامی مرکز میں تمام جدید سہولتیں دستیاب ہیں۔ 28 اکتوبر 2016ء کو اِس کا باقاعدہ افتتاح تھا اور انتظامیہ نے مجھے افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے دوبارہ شرکت کی سعادت بخشی۔ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ صاحبزادہ محمد عبدالمصطفیٰ ہزاروی بھی میرے شریکِ سفر تھے اور اس مرکز کے لیے ادارے کے ذمے داران کی مشاورت سے امام و خطیب اور مدرّس کے فرائض انجام دینے کے لیے ہم نے مولانا طاہر عزیز باروی کا انتخاب کیا تھا اور وہ بھی شریکِ سفر تھے۔ افتتاحی تقریب میں گولڑہ شریف کے صاحبزادہ پیر نظام الدین جامی اور برطانیہ سے مولانا فاروق علی چشتی بھی تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر ناروے سے تمام مکاتبِ فکر کے ممتاز علمائے کرام اور اسلامی مراکز و مساجد کی انتظامیہ کے ذمے داران بھی شریک تھے۔ افتتاحی تقریب میں ناروے کے وزیرِ اعظم کے سیکرٹری ایرنا سولبرگ کے علاوہ اوسلو کی میئر ماریانے بورین، ڈائریکٹر اِنٹی گریشن اینڈ ڈائیورسٹی اومانشو اولاتی اور مقامی کمیون کے ذمے داران کے علاوہ اوسلو کے مسلمان خواتین وحضرات کی بڑی تعداد شریک تھی۔\n\nافتتاحی تقریب جمعۃ المبارک کو صبح 10تا 12بجے نارویجن اور انگریزی زبان میں تھی، اس میں مجھے انگریزی میں خطاب کے لیے دس منٹ کا وقت دیا گیا، میں نے کہا:\n’’دوسال پہلے دین سے محبت رکھنے والے چند رجائیت پسند اہلِ دل اور اولوالعزم حلقۂ احباب نے جاگتے میں کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھا اور پھر پیچھے مڑ کر یا دائیں بائیں نہیں دیکھا، بلکہ تَن مَن دَھن ،الغرض پوری تن دہی کے ساتھ اپنے خواب کی تعبیر پانے میں جُت گئے۔ اُن کی محنت اور اخلاص کا یہ ثمر ہے کہ دوسال کے مختصر عرصے میں اُس خواب کی عملی تعبیر ایک عظیم الشان جامع مسجد اور کثیرُالمقاصد اسلامی مرکز کی صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ یہ جامع مسجد اور مسلم سینٹر ایک چوراہے کے کنارے نہایت اہم محلِّ وقوع پر واقع ہے اور ہر طرف سے گزرنے والے کی نظر اِس پر پڑنا ناگزیر ہے، چہار سو منظر نہایت حسین اور دلکش ہے، جو غیر مسلم ملک میں کسی بھی جامع مسجد اور اسلامک سنٹر کے لیے ایک غیر معمولی نعمت ہے۔ حُسنِ اتفاق سے قرب و جوار میں مسلمانوں کی آبادی بھی مُعتَد بِہ تعداد میں موجود ہے۔‘‘\nچونکہ تقریب میں غیرمسلم بھی موجود تھے، لہٰذااس تناظر میں، میں نے کہا:\n’’ہم اپنے عقائد ،اَخلاقی اَقدار وتہذیبی روایات پر مفاہمت کیے بغیر انسانیت کے عظیم تر مقاصد کے لیے دیگر مذاہب بالخصوص الہامی مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے لیے تیار ہیں اور میری نظر میں امن کا قیام، ظلم وفساد، تخریب اورنفرت انگیزی کا خاتمہ، نسل ورنگ اور مذہب کے امتیاز کے بغیر سب کے لیے یکساں معیارِ عدل اور ترقی کے یکساں مواقع اِن مقاصد میں سرِ فہرست ہیں۔ موجودہ دور میں کوئی شخص یا طبقہ اپنے خیالات اور نظریۂ حیات کو دوسروں پر جبراً مسلّط نہیں کرسکتا، ہمیں دلیل و استدلال کے شِعار کو اپنانا ہوگا اور فریقِ مخالف اور اپنے مخاطَب کو قائل (Convince)کرنا ہوگا۔ مغربی دنیا نے گزشتہ دو تین عشروں سے طاقت کے بل پر امن کے قیام اور فساد کے خاتمے کا جو شِعار اپنایا ہے، اُن کے مفکرین کو اب اس پر غور کرنا چاہیے کہ آیا اِس سے ظلم اور فساد کا خاتمہ ہوگیا ہے، شَر کو جڑ سے اکھیڑ دیا گیا ہے یا حکمت سے عاری طرزِ عمل نے فساد کی نئی صورتوں کو جنم دیا ہے اور دنیا پہلے سے زیادہ خطرات کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ آج انسانی اور مادّی وسائل کا مُعتَد بہ حصہ ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں سیکورٹی پر خرچ ہورہا ہے۔ اگر دانش و فراست سے کوئی حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی تو یہی وسائل انسانوں کی فلاح، تعلیم اور اَخلاقی تربیت پر خرچ ہوتے اور انسانی احترام پر مبنی عالمی معاشرہ وجود میں آتا ‘‘۔\n\nناروے میں لوگ اپنی پسندکے کسی مذہبی ادارے کی رکنیت اختیار کرسکتے ہیں اور حکومت اُس ادارے کو فی ممبر ایک ہزار کراؤن سالانہ دیتی ہے، یہ رعایت اسلامی مراکز کو بھی حاصل ہے۔ جامع مسجد میں پہلی نماز جمعۃ المبارک کی ادا کی گئی ،جس کی امامت و خطابت کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ جمعہ کے اجتماع کا غالب حصہ پاکستانی مسلمانوں پر مشتمل تھا، اس لیے میں نے اردو میں خطاب کیا اور موقع کی مناسبت سے گفتگو کی۔ اُس کے بعد 29 اور 30 اکتوبر کو دو مجالس سے خطاب کیا، دوسری نشست خواتین کے لیے مخصوص تھی۔ جمعۃ المبارک اور بعد کی دونوں مجالس میں مسجد کے تمام ہال پوری گنجائش کے مطابق پُر تھے۔ جمعۃ المبارک کے لیے مسجد کے باہر بھی شامیانے کے انتظامات کیے گئے تھے۔ مغربی معاشرے میں امتِ مسلمہ بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کوجو مسائل درپیش ہیں، اِن خطابات میں، میں نے ان پر گفتگو کی۔\n\nسب سے اہم مسئلہ شادیوں کا ہے، بہت سے پاکستانی والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی پاکستان میں موجود اپنے کسی قریبی رشتے دار کے بیٹے یا بیٹی سے کریں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان اور مغرب کے ماحول میں تعلیمی معیار، آزاد خیالی اور دیگر اعتبار سے کافی تفاوُت ہے۔ پاکستان سے شادی کر کے جانے والوں کی ترجیح مغربی ممالک کے ویزے اور وہاں کی شہریت کا حصول ہوتا ہے، لہٰذا ابتدا میں انہیں ہر شرط قبول ہوتی ہے اور ہر قیمت پر مفاہمت کے لیے تیار ہوتے ہیں، لیکن وہاں کا مستقل ویزا یا شہریت ملنے کے بعد اُن کے انداز بدل جاتے ہیں اور بعض اوقات رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ رشتوں کے طے کرنے میں تعلیم، ذہنی سطح اور حسَب کو پیشِ نظر رکھا جائے، اِسی کو فقہِ اسلامی میں ’’کُفْو اور کِفایت‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اِس کی حکمتیں قابلِ فہم ہیں۔ میں نے عرض کی کہ والدین شادی کے معاملے میں اولاد کی رائے اور رضامندی کو ممکن حد تک پیشِ نظر رکھیں، فقہِ حنفی میں بالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اُس کی مرضی کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ یقینا والدین اور اولاد کی سوچ میں فرق ہوتا ہے، خاص طور پر وہ والدین جواپنی عمر کے شعوری دور میں داخل ہونے کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان سے گئے تھے، اُن کے لیے اپنے ماضی کی اَقدار اور روایات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا جبکہ مغرب میں پیدا ہونے کے بعد تعلیم پاکر شعور کے دور میں داخل ہونے والی نسل کی ترجیحات اور ذہنی سطح مختلف ہوتی ہے۔ وہاں نرسری اور کنڈر گارٹن ، جسے آج کل Play Group کہاجاتا ہے، سے ہی بچوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے، اُن میں خود سری کی حد تک خود اعتمادی پیدا کی جاتی ہے اور اسکول گریجویشن تک پہنچتے پہنچتے ذہنی نہاد (Mind Set) پختہ ہوجاتا ہے، اُسے موڑنا یا توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نکاح کے موقع پر اولاد سے مکالمہ کیا جائے، اپنی خواہش یا رائے جبراً مسلّط کرنے کے بجائے مشاوَرت اور دلیل و استدلال کے شِعار کو اپنایا جائے۔ جوان اولاد کے ذہنوں اور خواہشات کو تسخیر کرنے کے بجائے انہیں قائل کیا جائے، امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ نیز لازم ہے کہ اولاد کو بچپن ہی سے دینی تعلیم وتربیت کا ماحول فراہم کیا جائے، اِس سے ان کے دل میں والدین کا احترام اور تعظیم پیدا ہوتی ہے اور وہ بغاوت پر آمادہ نہیں ہوتے۔ مشترکہ خاندانی نظام اسلام کا وِرثہ اور مشرقی اَقدار کا امتیاز ہے۔ مغرب میں بھی اب اِس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے، لیکن چونکہ وہ حرّیَّتِ نسواں اور تہذیبی اَقدار کے حوالے سے بہت آگے جاچکے ہیں، اس لیے سرپَٹ دوڑتے ہوئے تہذیبی گھوڑے کی طنّابیں کھینچنا اُن کے لیے دشوار ہے، کیونکہ اِس سے گرنے اور کچلے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔\n\nمغربی تہذیب کی خود اختیار کردہ ایک ابتلا یہ بھی ہے کہ نکاح اور طلاق کو دشوار بنا دیا گیا ہے، اس کے برعکس مَرد و زَن کے آزادانہ اختلاط اور غیر شادی شدہ اِزدواجی زندگی اور توالد و تناسُل کوآسان بنادیا گیا ہے، جسے اسلامی شریعت اور مشرقی اَقدار کی اصطلاح میں حرام کاری اور وَلَدُ الحرام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دوسری شادی، جو رجسٹرڈ کی جاسکے اور جس پر قانونی حقوق مرتّب ہوتے ہیں، مغربی قانونی نظام میں ممنوع ہے۔ جو مسلمان قانونی رجسٹریشن کے بغیر شرعی طریقے سے دوسری شادی کرتے ہیں، اُن پر قانونی احکام مرتّب نہیں ہوتے اور وہاں کے قانون کے مطابق حقوق نہیں ملتے اور طلاق یا تفریق کی صورت میں عورت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ اِن مسائل کے حل کے لیے وہاں مسلمانوں کی ایک غیر سرکاری شرعی عدالت یا مشاورتی کونسل کا قیام اشد ضروری ہے، لیکن یہ تب مؤثر ہوسکتا ہے کہ اِسے رضاکارانہ طور پر اپنایا جائے، کسی باقاعدہ شرعی ثالثی نظام (Arbitration Council) کو وہاں کی حکومتیں متوازی عدالتی نظام سے تعبیر کرتی ہیں اوروہ اِس کی اجازت دینے کے روادار نہیں ہیں۔\n\nاوسلو میں نوبیل امن پرائز کے مقام اور نارویجن پارلیمنٹ کو بھی دیکھا۔ اوسلو کے کیتھڈرل چرچ میں بشپ آف اوسلو Ole christian kvarme سے ملاقات ہوئی، یہ نارویجن شاہی خاندان کے اعلیٰ مذہبی پیشوا ہیں، اُن سے میں نے کہا: امن کا قیام اور ظلم و فساد کا خاتمہ تمام الہامی مذاہب میں قدرِ مشترک ہے، لیکن امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کی آڑ میں کسی طاقتور قوم کو کمزور اقوام اور ممالک کی آزادی کو سلب کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے اور تمام مذہبی رہنمائوں کو چاہیے کہ اس کے بارے میں یک زبان ہوکر آواز بلند کریں۔