رجب طیب اردوان کا خطاب اور غوروفکر کے چند پہلو - ارشد زمان

ارشد زمان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر رجب طیب اردوان نے نہایت جامع، بامقصداور پراثر خطاب کیا جس میں جامعیت، روانی، ربط، ٹھہراؤ، متانت، جسارت اور بلا کا اعتماد تھا۔ انھوں نے نکات کو ضرور دیکھا مگر کاغذ پر لکھوائی گئی تقریر املا نہیں کروائی، کاغذ سے پڑھ پڑھ کے تقریر نہیں کی۔ یہ ذہانت، حافظے اور خوداعتمادی کی اعلی مثال ہے۔انھوں نے پاکستانی حکمرانوں، مقتدر قوتوں اور عوام کے سامنے بہت واضح انداز میں کچھ ٹھوس نکات رکھے ہیں جس پر گہرے غوروفکر کی ضروورت ہے۔\n\nایک اہم نکتہ جو طیب اردوان نے اٹھایا، وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور ترکی سمیت پوری اسلامی دنیا دہشت گردی کا شکار ہے اور اس مکروہ کھیل میں کچھ ”اپنے نادان“ بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہو رہے ہیں اور مسلمان ملکوں کو عدم استحکام سے دوچار کرانے کے علاوہ عالمی سطح پر اسلام کی غلط تصویر پیش کرانے کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں، حالانکہ اسلام اپنی سرشت میں امن و سلامتی کا علمبردار دین ہے. اس پورے گیم کے ڈانڈے مغرب اور امریکہ سے مل رہے ہیں اور اس مکروہ کھیل کی سرپرستی اور مکمل امداد وہیں سے مل رہی ہے۔\nاس کے دو اہم پہلو ہیں جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے یعنی اپنے اصل دشمن کو پہچان لینا ازحد ضروری ہے۔ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اپنے اصل دشمن، ان کےمکروہ عزائم، طریقہ واردات اور پالیسیوں کا پتہ نہ ہو تو کس طرح اس کا مقابلہ کیا جاسکے گا؟ محض اندھیرے میں تیر چلانے سے دہشت گردی کے عفریت سے پیچھا نہیں چھڑایا جاسکتا. بس لازمی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو حکمت عملی اپنائی گئی ہے، نتائج کی روشنی میں اس کا بےلاگ تجزیہ کیاجائے اور اس مؤثر حکمت عملی وضع کی جائے۔ محض طاقت کے اندھادھند استعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا. طاقت کے ناگزیر اور مطلوبہ استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی، فکری، علمی، سماجی، معاشی اور اخلاقی پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔\n\nطیب اردوان نے ترکی میں درپیش مشکلات اور ناکام فوجی بغاوت کا بھی تذکرہ کیا۔ اشارہ ان کا یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا دیگر مسائل، ان پر قابو تب پایا جا سکتا ہے جب نتیجہ خیز پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مؤثر طرز حکمرانی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ فی الوقت بیش بہا قربانیوں کے باوجود دہشت گردی اور دیگر مسائل پر قابو پانے میں ناکامی کا ایک اہم سبب ناقص طرز حکمرانی، انتظامی بد نظمی اور ہر سطح پر نااہل قیادت کی موجودگی ہے۔ اس تناظر میں ایک جانب عسکری اور سیاسی قیادت یعنی تمام سٹیک ہولڈرز میں مکمل ہم آہنگی ضروری ہے اور دوسری جانب قانون پر بھرپور عملدرآمد اور انصاف کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرنا بھی ناگزیر ہے۔\n\nطیب اردوان نے کہا کہ اسلام کے ساتھ تعلق پر ہمیں فخر ہے، اسلام ہمارے لیے سب سے افضل دین ہے۔ دین اسلام کے چھت تلے ہمیں اپنے مسقبل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق حکومت قائم کرسکتے ہیں۔ ایک پوری تاریخ اور تلخ ترین تجربے کی جانب انھوں نے نہایت بلیغ اور مؤثر انداز میں توجہ دلانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح آج وہ سیکولرازم کے عفریت کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ نشاندہی ان کی یہ ہے کہ مرعوب اور غلام ذہنوں نے ترک قوم کو اپنی قابل فخر تاریخ، شناخت اور ماضی سے کاٹ کر تہذیب، تمدن، ثقافت، اقدار، روایات اور ہیروز کو چھینا اور زبردستی تہذیب مغرب مسلط کرکے اسے سیکولرازم اور لبرل ازم کا میٹھا زہر کھلا کھلا کر نیم مردہ کردیا۔ عریانیت، اباحیت اور مادیت کو گھوڑے پر بٹھا کر انھیں ترقی و خوشحالی کے سفر پہ دوڑا دیا گیا، مگر گرتے پڑتے وہ کبھی بھی منزل کو نہ پاسکے اور یورپ کا مرد بیمار کہلانے لگے۔ ترقی و خوشحالی کو تو وہ نہ پاسکے البتہ اپنے دین سے وہ بہت دور ہوتے چلے گئے۔ دیر آید درست آید کے مصداق ترک قوم کو احساس ہوچلا کہ دین اسلام کی چھت تلے ہی بہتر مسقبل کے لیے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بلاشبہ جب انھوں نے دین اسلام کی طرف رجوع کرکے اسلامسٹوں کو اقتدار کے لیے چنا تو وہ مایوس نہیں ہوئے اور ترقی کے منازل کو طے کرکے نہ صرف خوشحالی کے حصول میں کامیاب ٹھہرے بلکہ دنیا میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت پا کر عزت، خودمختاری، غیرت اور فخر کے ساتھ سر اٹھاکر چلنے کے بھی قابل ہو پائے۔\n\nطیب اردوان کی تقریر پر ڈیسک بجا جاکر داد دینے والے ذرا اس پہلو پہ بھی کچھ وقت کے لیے سوچنے کی زحمت فرمائیں کہ آخر ہم کیوں سیکولرازم اور لبرلزم کے بت تراشنے میں مصروف ہیں اور کس حکیم کے بتانے پر اسے ترقی و خوشحالی کا نسخہ سمجھ بیٹھے ہیں؟ اس حقیقت میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ ترقی مذہب سے بغاوت، لادینیت، عریانیت، اباحیت اور بےلگام آزادی میں نہیں بلکہ اپنی تہذیب، تمدن، اقدار اور نظریے کے ساتھ جڑ کر ارفع مقاصد، بلند عزائم، واضح ترجیحات اور بہترین حکمت عملی اور مؤثر پالیسی کو لیے حکمت و استقامت اور بصیرت کے ساتھ چلنے میں ہے۔ اسلام ہمارا فخر ہے اور اسلام کے احکامات کی روشنی میں بنائے گئے نظام ہی میں ہماری عزت ہے۔ جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ لادین، غلام، مرعوب، کرپٹ، بزدل اور غیر کے در پر سجدہ ریز قیادت کے ہوتے ہوئے خوشحالی، آزادی، خودمختاری، عزت، وقار اور فخر کے ساتھ جیا جا سکتا ہے تو وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں۔\n\nہماری شہ رگ کے قریب صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ کہہ کر طیب اردوان نے ہمیں عزت اور فخر کے ساتھ جینے کا گر سکھایا ہے، کہ اگر اللہ کے نظام کے مطابق زندگی گزارنی ہو، اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق ہو، اس پہ اعتماد ہو، اس سے تائید و نصرت کی طلبی ہو اور اسی کی در پر سجدہ ریزی ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔\nوہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے\nہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات\n\nجمہوریت کیسے مستحکم ہوگی؟ تمام ادارے آئینی دائروں میں رہ کر کیسے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے؟ وقت آنے اور تکلیف و ضرورت کے وقت عوام کو ٹینکوں کے سامنے لٹانے پر کیسے آمادہ کیا جا سکتا ہے؟ ان تمام سوالات، خواہشات اور حسرتوں کے جوابات رجب طیب اردوان کےخیالات میں پنہاں ہیں. ہم کہنے کی جسارت کریں گے کہ اس سب کچھ کو حقیقت کا روپ کون دے گا؟\nجی ہاں ایک پاکستانی اسلامسٹ طیب اردوان،\nجو صاحب ایمان بھی ہو،\nویژنری بھی ہو،\nبہادر و دلیر بھی ہو،\nملک و ملت کے ساتھ مخلص بھی ہو،\nصاحب علم، صاحب دانش اور صاحب بصیرت بھی ہو،\nاور صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.