رائج مصطلحات، حقیقت کے آئینہ میں - اسامہ الطاف

گزشتہ چند سالوں میں مغربی تمدن سے متاثر حضرات اور میڈیا چینلز کے ذریعے ہمارے معاشرہ میں کچھ الفاظ بہت عام ہوگئے ہیں ،ان الفاظ کے معانی کی حقیقت جانے بغیر ان کا کثرت سے استعمال کرنا اور اس کی ترویج کرنا خطرہ سے خالی نہیں۔\n\nمثال کے طور پر آزادی کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے، اور مکمل آزادی کے حصول پر زور دیا جاتا ہے، خاص طور پر خواتین اور مسلم ریاستوں میں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے آزادی کی اہمیت بیان کی جاتی ہے، یوں تو بظاہر آزادی کا لفظ بہت اچھا معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کو کس سیاق میں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے یہ جاننا ضروری ہے، اگر آزادی سے مراد ناحق غلامی اور طبقاتی نظام سے آزادی ہے (کہ معاشرہ کے مظلوم طبقہ کے خون پسینے پر ظالموں کا ٹولہ پل رہا ہو) تو اس کا حصول مطلوب ہے بلکہ شرعی نقطہ نظر سے فتوحات کا ایک اہم مقصد بھی ہے، لیکن اگر آزادی کیم اصطلاح کو اس مقصدکے لیے استعمال کیا جائے کہ ہر فرد کو بولنے کی مکمل آزادی دے دی جائے، چاہے اس سے نوجوانوں کی ذہن خراب ہو، یا ہر قسم کا لباس اختیار کرنے کی اجازت دے دی جائے چاہے اس سے معاشرہ کی اخلاقیات پر منفی اثر پڑے، یا کوئی سر پھرا یہ کہے کہ بطور مسلمان ہمیں اللہ اور رسول ﷺکی کی تعلیمات کا پابند ہونا ضروری نہیں، تو یہ آزادی نہیں بلکہ اپنے نفس سے دھوکہ اور مغرب کی اندھی غلامی ہے۔\n\nاسی طرح تجدید Modernisation کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے، یہ لفظ بھی اپنے معانی میں انتہائی مجمل ہے اور اس کی مزید توضیح کی ضرورت ہے۔ اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تجدید دنیوی امور میں مطلوب ہے، کہ نئی اختراعات ہوں، نئی سوچیں سامنے آئیں، انسانی زندگی کو مزید سہولیات سے آراستہ کیا کرنے کے لیے نئے طریقے ایجاد کیے جا\0\0ئیں، لیکن دینی امور میں تجدید کی کوئی گنجائش نہیں، دینی امور میں تجدید کو بدعت کہا جاتا ہے، لہذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وحی کے اصولوں سے ہٹ کر کوئی نیا طریقہ انفرادی یا سماجی زندگی میں اپنایا جاسکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت کا باسی ہے، اور شرعی نقطہ نظر سے اس کاعمل قابل قبول نہیں۔ \nیہ دو رائج مصطلحات کی تفصیل ہے اور مقصود آزادی اور تجدید کا مکمل ترک نہیں بلکہ ان کا صحیح استعمال ہے۔