عمران خان کے پاس کیا آپشنزموجود ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

سب سے پہلے یہ اعتراف کرنا چاہوں گا کہ اصولی طور پر مجھے عمران خان کی طرف سے دو نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور شہر بند کرنے کی دھمکی پر تشویش ہے۔ اس بات سے متفق ہوں کہ کسی بھی شخص کو اس حد تک احتجاجی سیاست کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ بالکل بھی درست نہیں کہ وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ کر کے کاروبار زندگی معطل کر دیا جائے، شہریوں کی زندگی اجیرن اور حکومت مفلوج ہو کر رہ جائے۔ اسی طرح کسی وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے اور حکومت ختم کرنے کی کوئی روایت قائم نہیں ہونی چاہیے۔ ایک بار اگر ایسا ہو گیا تو پھر بار بار ہوتا رہےگا۔ کل کو عمران خان اقتدار میں آ گیا تو پھر اس کے ساتھ بھی اپوزیشن ایسا کر سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مسلم لیگ (ن) کے حامی لکھاری اور تجزیہ نگار مسلسل یہ دلائل دہرا رہے ہیں، ان سے مجھے اصولی طور پر اتفاق ہے۔ درست بات ہے کہ سیاسی نظام ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے، کسی طالع آزما کو آنے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ سب باتیں بجا ہیں، درست ہیں، ان سے ہر عقل و ہوش رکھنے والا شخص اتفاق کرنے پر مجبور ہوگا۔ ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ پھر عمران خان کو کیا کرنا چاہیے؟ اس کے پاس کیا آپشنز بچی ہیں؟\n\nعمران کے پاس احتجاج کے سوا اور کون سا راستہ کھلا ہے؟ اس سوال کا جواب اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت یا ان کے میڈیا سیل سے مانگا جائے، حکمران جماعت کے اتحادی مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی، ڈاکٹر مالک بلوچ، شیرپائو وغیرہ سے رائے لی جائے یا پھر ہمارے پیارے ملک کو فرینڈلی اپوزیشن کی اصطلاح کا تحفہ دینے والی پیپلزپارٹی اور حکومتی وزیر برائے اپوزیشن امور کا عوامی خطاب پانے والے قائد حزب اختلاف جناب خورشید شاہ کی طرف رجوع کیا جائے تو یہ سب متفقہ طور پر یہی فرمائیں گے کہ عمران خان کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں، وہ پاناما لیکس والا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائے، جہاں( محتاط اندازے کے مطابق ) اگلے ڈیڑھ دو برسوں میں ٹی او آرز طے ہوجائیں گے، تب تک نیا الیکشن سر پر آپہنچے گا تو قوم کے عظیم مفاد میں اس مسئلے کو اگلی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے گا۔ عمران خان تب تک اپنی کے پی کے حکومت کی طرف رجوع فرمائیں یا آرام سے بنی گالہ میں رہیں اور ٹی وی پر جناب وزیراعظم کے ملک و قوم کے مفاد میں کیے جانے والے عظیم الشان ترقیاتی پروگرام دیکھ کر محظوظ ہوں، دل چاہے تو تالیاں بھی بجا لیں۔ اگلے الیکشن کے بعد، جس میں2013ء والے نتائج کا ری پلے ہی دیکھنے کے نوے فیصد سے زیادہ امکانات ہیں، اس کے بعد عمران خان چاہے تو ایک بار پھر دھاندلی کا نعرہ لگا سکتا ہے، جس کے بعد پورا حکومتی میڈیا اور اس کے حمایتی قلم کار و تجزیہ کار طنز کے نت نئے اسلوب تراشتے ہوئے خان کا مضحکہ اڑائیں گے، اسے دھاندلی خان کہہ کر نکو بنائیں گے۔ تب خان صاحب چاہیں تواپنے بیٹوں کی تربیت کے لیے انگلستان تشریف لے جا سکتے ہیں، کرکٹ کمنٹری کی آپشن ان کے پاس ہمیشہ کھلی ہے یا پھر دوبارہ سے سوشل ورک شروع کر دیں۔ غرض یہ کہ جو مرضی کریں، مگر پیارے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف کچھ نہ بولیں۔ اس طرح اور اس سے ملتی جلتی باتیں ہیں جو شریف خاندان، ان کے سیاسی اتحادی اور ان سے وابستہ میڈیا والے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر کہتے اور سمجھاتے ہیں۔\n\nسچ تو یہ ہے کہ میرے جیسے لوگ عمران خان کی آل آؤٹ وارکے حامی نہیں ہیں، احتجاجی تحریک کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانے کو قطعی سپورٹ نہیں کرنا چاہتے۔ دو سال پہلے اسلام آباد کے دھرنے کی میں نے مخالفت کی تھی۔ آج بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ شہر بند کر دینا انتہا پسندی ہے۔ سیاسی عمل میں اس شدت تک نہیں جانا چاہیے۔ مجھے نہیں پتا کہ عمران خان کے اس ایڈونچر کا کیا انجام ہوگا؟ وہ لوگ اکٹھے کر پائے گا یا نہیں؟ اس کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن ہوجائے گا،گرفتاریاں، نظربندی یا کچھ اور؟ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ دو نومبر کے فائنل شو میں ابھی نو دس دن پڑے ہیں، امید کرنی چاہیے کہ معاملہ سنبھال لیا جائے گا۔ سوال تو مگر یہ ہے کہ کس سے امید کی جائے؟ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے ادارے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے اس گلے سڑے سسٹم میں اتنی قوت، سکت اور مزاحمت موجود نہیں جو اپنی من مانی پر تلے ہوئے حکمرانوں کو راہ راست پر لا سکے اور جس سے اپوزیشن کو انصاف پانے کی امید ہو۔ میرا اصل دکھ اور المیہ ہمارے سسٹم کی یہی ناکامی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے پاس کوئی ایسی ٹھوس دلیل موجود نہیں جس کے ذریعے میں عمران خان یا تحریک انصاف کو آل آؤٹ وار سے روک سکوں، انہیں قائل کر سکوں کہ آپ اسلام آباد کا محاصرہ نہ کریں، شہر بند نہ کریں، آپ کوہمارا سسٹم انصاف مہیا کرے گا۔ سردست میرے پاس صرف اقوال زریں ہیں، اخلاقی حوالے ہیں، اصولی کتابی باتیں ہیں جو اس کالم کے پہلے پیرے میں سب دہرا دی ہیں، مگر بدقسمتی سے مجھے خود وہ الفاظ کھوکھلے، بے معنی اور کمزور لگ رہے ہیں۔\n\nمیں نہیں چاہتا کہ عمران خان یا کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے احتجاج کو انتہا پر لے جائے، شہر بند کرے، حکومت الٹانے کی کوشش کرے۔ ان سب باتوں پر میں یقین نہیں رکھتا، ان کی وکالت نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اتنا مایوس بھی ہوں کہ ہمارا یہ سسٹم عمران خان کو انصاف دے سکتا ہے۔ نہیں، قطعی نہیں۔ غیر جانبدار ذہن رکھنے والے کسی شخص کو اس میں شک ہوگا کہ پاناما لیکس والا پورا معاملہ بڑا اہم اور حساس ہے۔ شریف خاندان پر پچھلے بیس برسوں سے یہ الزام لگ رہا تھا کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کر کے لندن میں جائیداد خریدی۔ اس کے جواب میں شریف خاندان، مسلم لیگی رہنما اور ان کے صحافتی وکیل دھڑلے سے انکار کر دیتے تھے۔ پاناما لیکس نے اس دیرینہ الزام کو پہلی بار وزن دیا۔ جناب وزیراعظم نے اس بات کو محسوس کیا اور وہ فوراً ٹی وی پر آئے، قوم سے خطاب کیا، اپنی صفائی پیش کی اور اعلان کیا کہ اس الزام کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا۔ عملی طور پر کیا ہوا؟ حکومت نے سرتوڑ کوشش کی کہ ایسا کوئی کمیشن نہ بن سکے، شاید انہیں معلوم ہے کہ اس طرح وہ بری طرح پھنس جائیں گے۔ دانستہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے گئے، عمران خان نے اتمام حجت کے لیے پارلیمنٹ کی آپشن استعمال کی۔ وہاں پہلے تو پارلیمانی کمیٹی ایسی بنائی گئی جس میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی تعداد زیادہ ہو۔ پھر ٹی او آرز کا ایسا ڈرامہ رچایا گیا کہ کئی مہینے اس میں صرف ہوگئے۔ تھوڑی سی بھی معلومات رکھنے والا ہر شخص جانتا تھا کہ یہ اتفاق رائے کبھی نہیں ہوگا۔ مسلم لیگی ارکان اسمبلی نجی محافل میں مسکراتے ہوئے کہتے کہ ہم پاگل ہیں جو اتفاق رائے کر لیں گے، اپنی گردن میں رسہ کیوں ڈالا جائے گا؟ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ پیپلزپارٹی نے تو سیاسی ڈرامہ بازی کی حد کر دی۔ ایک بیان حکومت کے خلاف مگر عملی طور پر حکومت کی سپورٹ۔ متحدہ اپوزیشن بنا کر ایک قدم بھی نہ اٹھایا۔ عمران نے اپنے طور پر جدوجہد شروع کی تو پھر اسے طعنے دیے گئے۔ لگتا ہے کہ جناب زرداری اور خورشید شاہ اس پوری قوم کو بے وقوف سمجھتے ہیں؟ افسوس کہ قوم اتنی بےوقوف کبھی نہیں تھی، اگر ہوتی تو تین صوبوں سے پیپلزپارٹی کا صفایا نہ ہوتا۔ سندھ میں بھی چونکہ دوسری آپشن نہیں تھی اس لیے وہاں وہ سلوک نہیں ہوا۔\n\nالیکشن کمیشن، نیب، ایف بی آر نے تو ثابت کیا ہے کہ وہ ریاست کے نہیں بلکہ حکومت کے ادارے ہیں۔ عدالتوں کا ہم احترام کرتے ہیں، ان پر کام کے دباؤ کا اندازہ ہے مگر بعض اوقات تاخیر سے انصاف مل بھی جائے تو وہ بےفائدہ ہوتا ہے، جیسے سزائے موت پا جانے والوں کو موت کے بعد بےگناہ قرار دیا جا رہا ہے یا خواجہ آصف اور سعد رفیق کے حلقوں کا فیصلہ تین سال گزرنے کے باوجود نہیں ہو سکا، کیا پارلیمنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد فیصلہ ہونا چاہیے؟ پاناما کیس کا نوٹس لینے کا فیصلہ مستحسن ہے، مگر سپریم کورٹ کوئی تفتیشی ادارہ یا ٹرائل کورٹ تو ہے نہیں۔ پاناما کوئی قانونی نکتے والا کیس نہیں ہے، اس کے لیے تو جوڈیشل کمیشن ہی بننا چاہیے اور فوراً ۔ عوام اور اپوزیشن رہنمائوں کو قومی اداروں سے انصاف کی امید باقی رہے تو انتہا پر جانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔ پھر شدت پر آمادہ رہنماؤں کو قوم مسترد کر دے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو صرف اقوال زریں کے زور پر عوامی احتجاج اور سیاسی ایجی ٹیشن کو روکنا ممکن نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.