کمال اور عباد کا سچ - سید جواد شعیب

سید جواد شعیب بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے\nکمال نے سچ بولا تو عباد سچائی کا علمبردار بن گیا\nلیکن قسم خدا کی نہ سچ میں بولا نہ تو بولا\nجو بولے یہی بولے\nایک رشوت العباد بولا تو دوجے نےمصطفٰی کدال بولا\nجناب عباد نے اعتراف کیا کہ\nکراچی کی ترقی میں سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کا کردار انتہائی کلیدی تھا\nنعمت اللہ خان انتہائی ایماندار ناظم اور بہت ویژن والے انسان ہیں۔ بطور ناظم بہت محنت کی\nنعمت اللہ خان کے بعد آنے والی سٹی حکومت نے مایوس کیا۔\nجس رفتار سے نعمت اللہ خان نے کام شروع کیا، وہ برقرار نہ رکھی جا سکی۔\nمصطفی کمال کو مصطفی کدال کہتے کہتے ٹھیکیدار کہا\nیہ بھی کہا کمیشن لیے چائنہ کٹنگ کی\nاور تو اور یہ بھی کہہ گئے کہ انہیں چوک پر لٹکا دیں گے\nجو سانحہ بارہ مئی کے قتل عام میں ملوث تھے\nجو بلدیہ فیکٹری میں انسانوں کو زندہ جلانے والے تھے\nجو فوج سے لڑنے کے لیے جدید اسلحے سے لیس تھے\nجو زمینوں پر قبضے بھتہ خوری اور چائنہ کٹنگ کے خالق تھے\nجو عظیم احمد طارق اور حکیم سعید شہید کے قاتل تھے\nصرف یہی نہیں،\nاپنے کل کے دوست و ہمنوا کو گھٹیا، اور نفسیاتی مریض قرار دیتے ہوئے ڈاؤ ہیلتھ یونیورسٹی میں علاج کی پیشکش بھی کرگئے\n\nلیکن ایک سچ وہ بھی تھا جو کمال کا تھا\nیعنی مصطفی کمال کا تھا\nکراچی کی سیاست میں عشرت العباد کرمنل شخصیت ہے\nکراچی کی سیاست میں سب سے برا کردار عشرت العباد کا ہے\nکون سی چائنا کٹنگ کے پیسےگورنر کو نہیں ملتے رہے\nگورنر ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کر آکسیجن فراہم کرتا رہا\nگورنر کو کراچی کی بزنس کمیونٹی رشوت العباد کے نام سے پکارتی ہے\nاس شخص کو کوئی ایسا شخص نہ ہو جو پیسے پہنچاکر نہ آیا ہو\nگورنر آرمی چیف، ڈی جی رینجرز، وزیراعظم، وزیر اعلی سب سے رابطے میں رہتا ہے\nگورنر سندھ ہمارے متعلق ملکی اداروں کو اب منفی فیڈنگ کر رہا ہے\nیہ گورنر سندھ شپ چھوڑنا نہیں چاہتا،\nیہ الطاف حسین سے بھی رابطے میں ہے، ہم سے بھی اور فاروق ستار سے بھی\nگورنر سندھ کو عہدے سے ہٹایا جائے\nنام ای سی ایل میں ڈالا جائے\nگورنر سندھ کو فوری گرفتار کیا جائے\n\nاگر یہ بھی سچ ہے جو کمال کا ہے\nاور وہ بھی سچ ہے جو عباد کا ہے\nتو پھر کچھ رہ نہیں جاتا سمجھنے کو لیکن\nسمجھے وہ جو سمجھنا چاہے\nاے میرے پیارے کراچی والو!\nذرا سوچو تو سہی\nٹھہرو تو سہی\nدیکھو تو سہی\nآپ کے شہر کی دو پسندیدہ ہستیاں\nایک نے دنیا بھر میں میئرشپ میں (جھوٹا) دوسرے نمبر کا اعزاز پایا\nدوسرا چودہ سالوں سے گورنر ہاؤس میں کراچی والوں کی آواز مانا جاتا رہا\nیہ دونوں سچ بول رہے ہیں\nاب انہیں جھوٹا مت کہہ دینا\n\nجھوٹے تو وہی تھے جو اتنے سالوں اتنے مہینوں اتنے ہفتوں اور اتنے دنوں پہلے چیخ چیخ کر بولتے رہتےتھے\nچلو ان کو دفع کرو وہ سب جھوٹے ٹھہرے\nکراچی دشمن ، مہاجر دشمن قرار دے کر مسترد کردیے گئے\nاور\nاردو بولنے والوں کا فخر ڈاکٹر عشرت العباد بنے\nکراچی کو کمال کی ترقی دینے والا مصطفی کمال کراچی کے لیے نعمت قرار دیا گیا\nدونوں ساتھ ساتھ چلے اور اس شہر کی نمائندگی کرتے رہے\nدیکھو اب قائم رہنا\nان کے ساتھ رہنا انہیں سچا ماننا\nکمال اور عباد جو کہہ رہے وہی سچ ہے\nپیچھے مت ہٹنا\nبس یہی سچ ہے\nایک نے کمال کا ایک سچ کیا بولا\nتو عباد سچائی کا علمبردار بن گیا\nواضح رہے یہ میں نے نہیں بولا ہے\nجو کمال و عباد نے بولا ہے\nوہی سچ ہے بس یہی بولا ہے\nاہلیان کراچی کو اور کیا کیا سننا اور دیکھنا ہے\nابھی بہت کچھ باقی ہے\nبس دیکھتے جائیے\nآج کے لیے اتنا ہی کافی ہے\n\n(سید جواد شعیب جیو نیوز کراچی سے وابستہ ہیں اور سینئر کورٹ رپورٹر ہیں)