حکمرانی کی جبلت اور سپاہی کا تھپڑ! مجاہد حسین خٹک

مجاہد حسین خٹک قدرت نے انسانوں میں حکمرانی کی طاقتور جبلت پیدا کی اور پھر آزمائش کے طور پر سب کو ایک محدود دائرے میں، جزوی حکمرانی بھی عطا کر دی۔ انسان تمام عمر اختیار کے اس دائرے کو وسیع کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ اس وسعت کے لیے اسے قوت کی کسی نہ کسی شکل کی ضرورت ہوتی ہے۔ دولت، شہرت، اختیار، جسمانی قوت اور حسن، یہ تمام قوت کی گوناگوں صورتیں ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی چھوٹی سی سلطنت وسیع کرتے رہتے ہیں۔ جسقدر ہماری دولت بڑھے گی اسی حساب سے ہمارے اختیار کی دنیا وسیع ہو گی۔ ایک سب انسپکٹر جب انسپکٹر بنتا ہے تو اس کی مملکت کی سرحدیں مزید پھیل جاتی ہیں۔ ایک ماڈل جب ٹی وی اور فلموں میں کام شروع کرتا ہے تو اس کی شہرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔\n\nہماری اس سلطنت کی رعیت وہ لوگ ہیں جن پر ہمارا بس چلتا ہے۔ سب سے زیادہ بے بس انسان وہ ہے جو ہم پر جذباتی انحصار رکھتا ہے۔ یہ غللامی کی ایسی زنجیر ہے جو اگرچہ نظر نہیں آتی لیکن اس سے رہائی ناممکن ہوتی ہے۔\n\nچھوٹے بچے اوربوڑھے لاچار والدین بھی ہماری مملکت کے باشندے ہیں کیونکہ یہ مکمل طور پر ہم پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ان سے ہمارا سلوک ایک ظالم یا لاپرواہ ڈکٹیٹر جیسا ہے تو پھرایک فرعون میں اور ہم میں فرق صرف مملکت کی وسعت اور تنگی کا رہ جاتا ہے۔\n\nہم قوت کی ایک قسم، یعنی دولت پر زکواۃ بھی دیتے ہیں، ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں اور صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں۔ لیکن باقی اقسام کے معاملے میں ہمارے دل پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ جسمانی طور پر طاقتور انسان کی زکواۃ یہی ہے کہ وہ بےبس اور کمزور لوگوں کا دفاع کرے، ان کا بوجھ اٹھائے۔ کلرک سے لے کر کمشنر تک، مختلف محکموں کے اہلکار بھی روزانہ اپنا دربار سجاتے ہیں۔ ان کی رعایا شکلیں بدل بدل کرداد رسی کے لئے حاضری دیتی ہے۔ کچھ لوگ بہت زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں جن کے مسائل اگر روٹین سے ہٹ کر حل کئے جائیں تو یہ اختیارات کی زکواۃ ہو گی۔\n\nہم سب دن میں کتنے ہی کردار بدلتے ہیں۔ ایک لمحہ ہم اپنی سلطنت کے بادشاہ ہوتے ہیں تو دوسرے لمحے کسی اور کی رعایا بن جاتے ہیں۔ نادرا کے دفتر کے باہر موجود باوردی سپاہی کے لیے قطار میں کھڑی عورتیں رعایا ہیں۔ وہ حسن سلوک کے ذریعے ایک عادل حکمران بھی بن سکتا ہے یا پھر اپنے اختیار کے نشے میں ایک آمر جیسا رویہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔\n\nجب ٹی وی کی اینکر وہاں وارد ہوتی ہے تو سپاہی کی حیثیت ایک رعیت کی سی ہو جاتی ہے۔ یہ خاتون صحافی جو اپنے دفتر میں ایک رعایا کی حیثیت رکھتی تھی، جب نادرا کے دفتر پہنچتی ہے تو اپنے لامحدود اختیارات کا احساس اسے اس مختصر سی دھرتی کا مالک بنا دیتا ہے۔ اسی طرح وہ سپاہی جو وہاں ایک جابر حکمران بنا بیٹھا تھا، ایک لمحے میں ہی اپنی حیثیت کھو بیٹھا۔ یہ کایا پلٹ اس کی انا کو ٹھیس پہنچاتی ہے مگر وہ بے بسی سے اسے برداشت کرتا ہے۔ اسی دوران اینکر اپنے اختیار کی تلوار کو بے مہابا استعمال کرتی جاتی ہے اور آخر کار ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ رعایا کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ ایک تھپڑ کی شکل میں بغاوت پر اتر آتی ہے۔ یہ اس سارے قصے کی حقیقت ہے۔\n\nہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ آخرت میں ہم سے صرف دولت کا حساب نہیں لیا جائے گا، بلکہ اختیار کی جو بھی صورت ہمیں عطا کی گئی ہے، اس کے لیے بھی ہم مکمل جوابدہ ہوں گے۔ یہ احساس اگر قلوب میں مستحکم ہو جائے تو اردگرد پھیلے دکھ اور المیے کسقدر آسانی سے ختم ہو جائیں۔