یہ تھپڑ پہلا تھپڑ ہے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کسی بھی ادارے کا گارڈ بااختیار شخص ہوتا ہے جسے ادارے کی طرف سے نظم و نسق اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے. عموما یہ جاب غیور و غصہ ور پٹھان قوم کو سونپی جاتی ہے.\n\nجس معاشرے میں قطار کا اصول آبزرو کیا جائے، نظم و ضبط کی پابندی عمومی شعار ہو، وہاں گارڈ کا کام محض بیرونی خطرات کی روک تھام اور صاحب لوگوں کو سلیوٹ مار کر دروازہ کھولنا باقی رہ جاتا ہے.\n\nلیکن کل سے بار بار نظر آتی ویڈیو میں موجود عوام کا بےقاعدہ ہجوم کسی نظم کا پابند دکھائی نہیں دیتا. یہی ہجوم بلاخیز جب کلرک بادشاہ کی کھری پر کھڑکی توڑ حملے کرتا ہے تو سیکیورٹی پر مامور گارڈ کو اس عوامی بھگڈر سے حاکمانہ انداز اور عوامی لب و لہجہ میں نپٹنا پڑتا ہے. وہی لہجہ جسے عوام سمجھتی ہو. جب گارڈ کو اوپر سے سخت آرڈرز ہوں تو لامحالہ اس کا لہجہ اور کمانڈ بھی واضح اور دوٹوک ہوگی. وردی اور گولی کی طاقت بھی موجود ہے، اور ذمہ داری بھی ہے.\n\nلہجہ سخت ہونے کے لیے چند عوامل اور بھی دیکھے جانے چاہییں. ہو سکتا ہے کہ گارڈ کے گھر میں کوئی بیمار ہو جس کی دوا کے پیسے مہیا نہ ہو رہے ہوں، بچے کی فیس ادا نہ کر پایا ہو یا بیوی سے لڑ کر نکلا ہو. الجھا سلجھا گارڈ دھکے مارتے ہجوم کو سنبھالنے میں نازیبا الفاظ استعمال کر بیٹھا ہو. ایک کم تعلیم یافتہ اور بنیادی ادب آداب سے ناواقف شخص سے آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں.\n\nمیرا ماننا ہے کہ ہر شخص کا رویہ دوسرے شخص کے اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کا آئینہ دار ہوتا ہے. خاتون اینکر ایک پڑھے لکھے طبقے کی نہایت بری نمائندگی کر رہی تھیں. ان کے لب و لہجے سے غصہ صاف جھلکتا ہے. اینکر نے ہاتھ میں پکڑا مائک اور پیچھے موجود کیمپ ٹیم کو پورے زور و شور سے استعمال کیا. ویڈیو میں خاموش گارڈ کے ساتھ رپورٹنگ کرنے والی خاتون اینکر کا لہجہ، الفاظ اور انداز نہایت نامناسب تھے. اس ناخواندہ گارڈ نے پہلوتہی کی دو تین دفعہ کوشش کی جسے خاتون اینکر کی غصیلی اور جذباتی رپورٹنگ نے ناکام بنا دیا، حتی کہ خاتون نے رخ بدل کر دور جاتی بلا کو آواز دے ڈالی.\n\nعین ممکن ہے کہ موقع پر موجود ہجوم میں پٹھان گارڈ کے جاننے والے بھی موجود ہوں جن کے سامنے اس عزت افزائی کی کہانی نمک مرچ کے ساتھ اس کے محلے میں پہنچنے کا شافی انتظام بھی موجود رہا ہو. اس رپورٹنگ کے بعد گارڈ کو اپنی ساکھ اور نوکری ہاتھ سے جاتی نظر آئی. اشتعال دلانے والے الفاظ نے ذہنی خلفشار کو بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچا دیا اور ”ہاتھ اٹھ گیا“\n\nجب آپ کسی کمزور بلی کو ایک کونے میں محصور کر دیں تو جان بچانے کے لیے وہ بھی پلٹ کر حملہ کرتی ہے. یہی قانون فطرت ہے. یہ فوری اشتعال کا عین فطری رسپانس تھا جس میں پاسبان عقل چھٹی منا رہا ہوتا ہے. کیمپ ٹیم اور خاتون رپورٹر کی اچھی قسمت کہ فوری اشتعال کے باوجود تھپڑ کی طرح پٹھان گارڈ کی بندوق کا رخ ان کی سمت نہ تھا ورنہ نتیجہ اور بھی بھیانک بھی ہو سکتا تھا. \nآپ کہیں گے کہ خاتون کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہیے، بالکل! لیکن خاتون کو بھی اپنی عزت کروانا آنا چاہیے.\n\nاب وقت آ گیا ہے کہ بےلگام لائیو فی البدیہہ کوریج کے لیے بھی کوئی لگام (ضابطہ اخلاق) وضع کی جائے ورنہ ”جوتا ڈرونز“ کی طرح ”تھپڑ کریسی“ کی روایت بھی زور پکڑ جائے گی.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.