اے میرے پیارے اچھے چاند ! حمیرا خاتون

رات کے دوسرے پہر اچانک آنکھ کھلی، چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ، میرے چہرے پر چاندنی بکھیرتا، میری کھڑکی میں کھڑا مسکرا رہا تھا، جب میں بھی مسکرائی تو وہ ہنس دیا، میں نے کہا، کیوں عاشقوں کے دل کو آزماتے ہو، کیوں تڑپاتے ہو، اور پھر پلٹ کر چل دیتے ہو،

کسی کے ہوتے ہی نہیں، کیا ہرجائی پن ہے، انشاء جی یاد آ گئے، چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے، چاند مسکرایا، پلٹ کر ماں کے مقدس چہرے پر نظر ڈالی، تخلیق کی منزل کو چھوتے ہی، جنت قدموں تلے آتے ہی، چاند محبوب اور عاشق کا روپ چھوڑ کر، بھائی کا لاڈلا روپ دھار لیتا ہے، اور لوریوں میں چندا ماموں بن کر، ننھے فرشتے کو، بہلانے چلا آتا ہے۔اے میرے پیارے اچھے چاند۔ ( رات کے اس پہر چاند کو دیکھ کر لکھا گیا۔)

Comments

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون کو پڑھنے لکھنے سے خاص شغف ہے۔ بچوں کی بہترین قلم کار کا چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ طبع آزمائی کے لیے افسانہ اور کہانی کا میدان خاص طور پر پسند ہے۔ مقصد تعمیری ادب کے ذریعے اصلاح ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.