جشن آزادی کا یہ انداز - افشاں فیصل شیوانی

14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی ملک بھر میں جوش وخروش سے منایا گیا اور جوش اس حد تک تھا کہ کچھ لوگ اپنے ہوش و حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور بھرپور طریقے سے اپنے آزادی کے احساس کو تقویت دی۔ کچھ لوگ ون ویلنگ کر کے اپنے آپ کو ہر طرح کی پابندی سے آزاد سمجھتے رہے، تو کچھ لوگوں نے بدتہذیبی کا مظاہرہ کرنے میں خود کو آزاد خیال کیا۔ کچھ لوگوں نے شوروغل مچا کر آزادی کا اظہار کیا تو کہیں ٹی وی پر بےہنگم ناچ و گانے اور قہقہوں نے آزادی کی فضا کو جلا بخشی۔ بیشتر لوگوں نے خود کو قانون کی پابندی سے آزاد خیال کیا اور ٹریفک قوانین کی پابندی سے گریز کیا تو کچھ لوگوں نے پڑوسی ملک کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گاڑی پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر آزادی کا جشن منایا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو اپنی زندگی ہار کر ان آزاد لوگوں کے جشن کو روشن کرنا پڑا، شوق جذبات میں ہونے والی ہوائی فائرنگ نے ان گھروں کے چراغ گل کر دیے۔\n\nآزادی کے جشن کو جوش و جذبے کے ساتھ تو منایا گیا مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر اسے عقیدت و احترام کے ساتھ بھی منایا جاتا۔ یہ ملک بے شک ہمیں تھالی میں سجا کر تحفے کے طور پر نہیں پیش کیا گیا بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے بےشمار قربانیاں دی گئی ہیں جنھیں جشن مناتے وقت یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ کہیں نماز شکرانہ ادا کی گئی نہ کسی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، وہ لوگ جو اس آزاد ملک کے آزاد رہنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے۔\n\nجشن منانے کا صرف یہی ایک طریقہ تو نہیں بلکہ ملک و قوم کی کچھ تھوڑی سی خدمت کر کے بھی اس جذبے کو تقویت بخشی جا سکتی ہے۔ کہیں کسی اسکول کا سنگ بنیاد رکھا جاتا تو کہیں کسی ہسپتال کے قیام کی خبر سامنے آتی، ملازمین کی پنشن میں اضافے کا بل پاس کیا جاتا تو شہداء کے خاندانوں کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا جاتا اور ان کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جاتا۔\n\nمگر ہم سمجھتے رہے کہ ہرے رنگ کو ہر طرف سجا کر ہم نے سارے قرض چکا دیے، وہ قرض جو اس ملک کے ہم پر ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اس سب کا ملک و قوم کو کیا فائدہ پہنچا؟ اور سوائے تفریح کے کیا حاصل ہوا؟ تو کیوں نہ آئندہ کچھ اس انداز سے جشن آزادی منایا جائے کہ ملک و قوم کو ہم پر فخر محسوس ہو اور ہم اپنے ملک کو کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ پاکستان سے محبت کریں اور پاکستان کو آباد کریں۔ پاکستان زندہ باد۔