ایک چھوٹی سی درخواست بنام اردگان - محمد دین جوہر

محمد دین جوہر مختصر فوری درخواست بنام عالی مقام والا شان اردگان\n\nجناب عالی\nمؤدبانہ گزارش ہے کہ ترکی کے داخلی حالات کی وجہ سے آنجناب آج کل بہت مصروف ہیں، لیکن چند انتہائی ضروری معروضات پر غور کے لیے آپ کا تھوڑا سا قیمتی وقت درکار ہے۔ جناب کے الطاف عمیم سے امیدوار ہوں کہ فدوی کو مایوس نہیں فرمائیں گے۔\n\nگزارش ہے کہ عظیم پیشوا اور متبحر عالم عزت مآب فتح اللہ گولن مد ظلہ العالی نے، ترکی میں جو خون خرابہ ہوا، اس پر اپنے پہلے الہامی فرمان میں اسے ”آپ کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ“ قرار دیا ہے۔ معاً بعد دنیا کے واحد حق گو میڈیا نے، ظاہر ہے کہ اس سے مراد صرف مغربی میڈیا ہی ہوتا ہے، اس کی فوری تصدیق فرمائی ہے۔ پاکستان میں بھی ترکی سے محبت رکھنے والے لوگ اس خون خرابے کو بھول کر اس عظیم پیشوا کے فرمان کو ہی اہم سمجھتے ہیں۔ لیکن کچھ ناہنجار ابھی بھی متردد ہیں، حالانکہ حق پرست مغربی میڈیا نے اس الہام واجب الاذعان کے درست ہونے کی گواہی دے دی ہے اور اسے چار دانگ عالم میں مشتہر بھی کر دیا ہے۔ ہمارے خیال میں ترکی کی سالمیت، ترک جمہوریت اور عوام کی جانوں کا ضیاع ایک بالکل معمولی اور ضمنی مسئلہ ہے جسے خاکم بدہن آپ غیرضروری اہمیت دے کر خواہ مخواہ الجھا رہے ہیں۔ دنیا کی کمزور قوموں اور مسمانوں کے ساتھ یہ روز کا معمول تھا۔ خاکم بدہن! آپ نے معمول میں خلل ڈال کے ہمیں بہت پریشان کر رکھا ہے۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اپنے محترم سفیر کو ہدایت جاری فرمائیں تاکہ وہ یہاں ایک بیان دے دیں کہ یہ معمول میں خلل نہیں تھا بلکہ آپ کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ ہی تھا تاکہ ہماری پریشانی ختم ہو۔ بھائی چارے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ترکوں کی وجہ سے ہمیں پریشانی ہو کیونکہ ہمیں اور بہت کام ہیں۔ ہم آپ کے سفیر محترم کے بیان کی ایک کاپی عالی مقام سیسی کو خود ہی بھجوا دیں گے، اس کی فکر نہ فرمائیں۔ اس معاملے میں ذرا جلدی کی التجا ہے۔\n\nدوسری گزارش یہ ہے کہ نیٹو کے ساتھ وابستہ ترک فوج کی جن بٹالینوں اور دیگر فوجیوں نے اس مسئلے میں شاندار کردار ادا کیا ہے، وہ ٹینکوں میں سوار سرشام سیر سپاٹے کے لیے باہر نکلے تھے۔ وہ اصل میں باسفورس کے نئے پل اور آپ کے ”ذاتی“ نئے محل کی سیر بھی کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ عظیم پیشوا اور متبحر عالم اپنی صلاح مشورے کی مصروفیت اور صحت کی وجہ سے ابھی ترکی نہیں آ سکتے، اور دونوں نئی جگہوں کی تصویریں ان کو وٹس ایپ کرنی تھیں کیونکہ یہ ان کے جانے کے بعد بنی تھیں۔ خاکم بدہن! آپ کان کے انتہائی کچے واقع ہوئے ہیں اور لگائی بجھائی میں آ کر ان کو باغی سمجھ لیا، حالانکہ مغربی میڈیا نے بتایا ہے کہ وہ ترکی میں ”جمہوریت“ کو فروغ دینے کی خوش خرامی پر تھے۔ واللہ! پتہ نہیں آپ کیوں کسی کی بات نہیں مانتے۔ حیرت ہے کہ آپ کو یہ چھوٹی سی بات سمجھنے میں غلطی لگی حالانکہ پہلے سے یہاں اُڑی ہوئی ہے کہ آپ بہت سمجھدار ہیں۔ یہ ”جمہوریت“ دراصل پنسلوانیائی سلوک کی نئی مشق ہے جو ٹینکوں پر بیٹھ کر کی جاتی ہے۔ اس مشق کے دوران عوام کو گھر بیٹھ کر وظیفہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ ان کی غلطی ہے کہ باہر نکلے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کو پس مرگ سزا دلوانی چاہیے۔ لیکن آپ بالکل پریشان نہ ہوں، ایسی مکھیاں روز مرتی رہتی ہیں۔ گزارش ہے کہ ایف سولہ میں بیٹھ کر سیر آفاق کرنے والوں کو آپ معاف فرما دیں، کیونکہ لڑائی اچھی نہیں ہوتی، دونوں کا نقصان ہوتا ہے اور بندہ خواہ مخواہ گناہگار بھی ہوتا ہے۔ ان سب کو اعلی اعزاز کے ساتھ نوکریوں پر بحال کر دیں اور نئے صدارتی محل کو اس عظیم پیشوا کا زاویہ بنا دیں تاکہ اوبامہ اور مرکل وغیرہ کو وہاں وعظ کے لیے بلایا جا سکے۔ ان دونوں کا وعظ نہایت سریع الاثر ہے، اور شفائے تامہ رکھتا ہے۔ اس اچھے رویے پر آپ یقیناً عنداللہ ماجور ہوں گے۔ اگر ہمارے ہاں سے بھی کچھ واعظ بلا لیے جائیں تو ثقافتی اور تہذیبی بوقلمونی پیدا ہو جائے گی اور آپ کے درجات انتہائی بلند ہو جائیں گے۔ ثواب کا کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے، لیکن ساتھ ساتھ آپ کو فوری توبہ کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔\n\nتیسری گزارش ہے کہ نیٹو اور جدید پنسلوانیائی تصوف کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ترکی کی سیاست اور عوام سے تو بالکل ہی کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات سمجھنے کی جلد از جلد کوشش کریں کہ اس میں آپ کا اپنا فائدہ ہے۔ واللہ! یہ درخواست گزار آپ کا والہانہ بہی خواہ ہے، یہ مشورہ صرف آپ کے فائدے کے لیے ہے۔ اگر سمجھ نہیں آتی تو عظیم پیشوا اور متبحر عالم کے کسی ٹیوشن سینٹر میں داخلہ لے کر تیاری کر لیں اور پھر اس کے کسی اسکول سے سند بھی لے لیں۔ کیونکہ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ آپ پاکستان آ رہے ہیں۔ حضور ! یاد رہے کہ آج کل یہاں ڈگری کی بڑی سختی ہے۔ آپ اتنے بڑے سیاست دان بن گئے ہیں لیکن آپ کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ نیٹو ایک گولف کلب ہے اور اس نے گولف کو جس طرح فروغ دیا ہے، اس کی اصل اہمیت کا اندازہ صرف روس کو ہوا ہے یا ہمارے ہاں کچھ تجزیہ نگاروں کو ہوا ہے۔ باقی لوگوں نے اس کی بڑی ناقدری کی ہے۔ آپ کو بھی اسی ناقدری کی وجہ سے چین نصیب نہیں ہوا اور نہ لگتا ہے کہ ہوگا۔ عظیم پیشوا اور متبحر عالم نے جس طرح امیر طبقے میں تعلیم کو فروغ دیا ہے، وہ ترکی کی ترقی کے لیے زیادہ اہم ہے، بلکہ صرف وہی اہم ہے اور اعلی نوکریوں میں آ کر خفیہ منصوبے سے اقتدار پر قبضہ کرنا ان کا پیدائشی حق ہے اور وہ انعام و اکرام کے سزاوار بھی ہیں۔ آپ نے ٹٹ پونجیا، کٹکھنی اور چپڑ قنات عوام کے ووٹوں سے اقتدار پر قبضہ کیا ہوا ہے جو جمہوریت کے مبادی کے بالکل خلاف ہے۔ یہ تو کھلا تضاد ہے۔ حق گو مغرب نے صاف کہہ دیا ہے کہ آپ بھی مرسی کی طرح آمر بن گئے ہیں، جبکہ انہیں سیسی جیسے آمر کی فوری ضرورت ہے۔ آپ نے اچھے خاصے پروگرام میں کھنڈت ڈال دی ہے۔ آپ کو گولف کے مزید فروغ اور اشرافیائی تعلیم کے لیے پنسلوانیا میں ایک دفعہ ضرور حاضری دینی چاہیے۔ یہ ثواب دارین تو ہے ہی، فلاح دارین بھی یقیناً ہے۔\n\nہمارے ہاں کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ ترکی میں کوئی سیاسی اور فوجی جھگڑا ہوگیا ہے۔ لگتا ہے کہ کسی دشمن نے شرارت سے اڑائی ہے۔ کچھ لوگوں نے ایسی لغویات پر یقین بھی کر لیا تھا اور فقیر بھی گمراہ ہونے لگا تھا۔ وہ تو بھلا کرے ہمارے ایک دوست چند سال قبل ترکی کی سیر کو گئے تھے، اور واپسی پر انہوں نے ایک نیا تہذیبی تناظر فراہم کیا ہے جو ہمارے ہاں نہ صرف کارآمد ہے بلکہ اسے بہت پسند بھی کیا گیا ہے۔ اگرچہ کسٹمز سے گزرتے ہوئے اس تہذیبی تناظر کو پکڑ لیا تھا لیکن منت سماجت سے چھوٹ گئے۔ شکر ہے کہ وہ ترکی جا نکلے ورنہ یہاں تو دند ہی مچی رہتی۔ انہوں نے واپس آ کر فرمایا کہ ۱۹۹۷ ء میں جب آپ ازمیر گئے تھے اور نماز پڑھنے اور عظیم پیشوا اور متبحر عالم کا وعظ سننے ان کی مسجد میں بھی گئے تھے۔ نماز کے بعد اس مسجد کے لان میں لگے درختوں سے آپ نے ایک پاؤ انجیر اور آدھ پاؤ زیتون توڑ لیے تھے۔ جب عظیم پیشوا اور متبحر عالم کو اس کی خبر ہوئی تو بات بگڑ گئی۔ آپ کو بھی چاہیے تھا کہ پہلے اس کی اجازت لیتے۔ تب سے دلوں میں فرق آ گیا۔ دلوں میں فرق آنے سے بندہ خواہ مخواہ گناہگار ہوتا ہے۔ اللہ معاف فرمائے، سنا ہے کہ آپ کو ایسے کام کرنے کی بچپن سے عادت ہے۔ ہمارے دوست بہت راست گو ہیں اور اب میں بھی انہی کی بات کو درست سمجھتا ہوں۔ اصل میں ان کا ارادہ تھا کہ وہ ازمیر جا کر ان درختوں کو دیکھ آتے تاکہ بات بالکل قطعی الدلالہ ہو جاتی، لیکن وقت کی قلت سے نہ جا سکے۔ اگر آپ ہماری بات مان لیں تو ایک آدھ کلو انجیر اور زیتون واپس کر کے اس مسئلے کو حل کر دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔ کیونکہ اس وقت جو مسئلہ ترکی میں پیدا ہوگیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ آپ دونوں لگتا ہے کہ بھُولے نہیں ہیں، بھولے ہیں۔ معاف رکھیے، پتہ نہیں آپ بھی کس طرح کے سیاستدان ہیں کہ نمازوں کا شوق بھی پالا ہوا ہے۔ صبح شام مغرب میں آپ کے خلاف ہجو، کردارکشی، آمریت، چور بازاری وغیرہ کا الزام لگتا ہے اور آپ کے تقویٰ کو تو کوئی مان کے نہیں دیتا۔ ایسے تقویٰ کا کیا کرنا جس سے امریکہ ہی راضی نہ ہو۔ جبکہ عظیم پیشوا اور متبحر عالم کے تقویٰ کی گواہی تو امریکہ بھی دے رہا ہے، میڈیا بھی دے رہا ہے، سی آئی اے دے رہی ہے، پورا یورپ اٹھ کھڑا ہوا، نیویارک ٹائمز دے رہا ہے، ہمارے ہاں بھی لوگ پورا زور لگائے ہوئے ہیں۔ چونکہ امریکہ اور یورپ بالکل غیرجانبدار، حق گو اور اعلی ترین اخلاقیات کا صالحانہ نمونہ ہیں، اس لیے آپ ہی قصوروار ٹھہرے ہیں۔ اصل تقویٰ تو اس جادو کی طرح ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ آپ اپنی مصروفیت کے وجہ سے محل سے باہر نہیں نکلتے، کسی سے پتہ کروا لیں کہ کس کا جادو کس کے سر چڑھ کر کیا بول رہا ہے یا ہمارے ہاں سے ہی رپورٹ منگوا لیں، انشاء اللہ شافی ہو گی۔\n\nالحمد للہ، ثم الحمد للہ، ثم صد شکر کہ آپ کا امریکہ سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔ یہ بات سن کر ہماری تو جان میں جان آئی۔ پتہ چلا ہے کہ اوبامہ صاحب نے بہت کھل کر آپ کی حمایت کی ہے اور بہت مشکل وقت میں آپ کی یاوری کی۔ ہمارے ہاں بعض لوگ رقت جذبات میں یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ۱۴؍جولائی سے ہی اس نے آپ کی حمایت شروع کر دی تھی۔ وہ ایف سولہ بھی آپ کی حفاظت ہی پر تعینات تھے ورنہ آپ کے مالیکیول کی دریافت کے لیے نوبل پرائز دینا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے بچ جانے پر نوبل کمیٹی میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ الحمد للہ۔ ہمارے جو دوست ترکی گئے تھے، وہ ترکی ڈرامے کے بعد واپسی کے لیے بےچین تھے۔ انہوں نے دوبارہ ترکی جانے کی ٹھانی لیکن ہماری بھابھی آڑے آ گئیں۔ وہ تو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان کی عینک ایک ہوٹل میں بھول گئی تھی۔ اسی بہانے وہ عازم سفر تحقیق ہوئے۔ ان کو عینک بھی مل گئی اور اللہ کا خاص کرم یہ ہوا کہ اب تو وہ ترکی کا پورا انسائیکلوپیڈیا بن کر آئے ہیں۔ ان کی عینک بھی اب زیارتِ گاہ خاص و عام ہے۔ اتفاق سے استنبول کے قہوہ خانوں میں کئی یورپی تحقیقی صحافیوں اور دانشوروں سے ان کی ملاقات رہی اور الحمد للہ بہت روشن دماغ لوٹے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ امریکہ نے عین وقت پر آپ کی حمایت بلاوجہ نہیں کی۔ آپ کی اوبامہ صاحب سے دوستی تب سے ہے جب اوبامہ صاحب اور آنجناب اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے تو آپ دونوں ہم جماعت اور ہم سبق تھے۔ یاد رہے کہ مواعظ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا بھر سے لوگ اپنے بچوں کو چند دہائیاں قبل تک پاکستان بھیجا کرتے تھے، اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ نیٹ پر سارے اخبار میسر ہوتے ہیں۔ ہمارے دوست کے ذرائع نے اسے یہ بھی بتایا کہ گلستان، بوستاں سے فارغ ہونے کے بعد اسماعیل میرٹھی بھی آپ کو پڑھایا گیا تھا تاکہ ہمارے واعظین کے مضامین باقاعدہ پڑھنے کی سعادت آپ کو تاعمر حاصل رہے۔ اوبامہ صاحب بچپن میں ذرا کمزور تھے اور جب زبانی امتحان ہوا تو آپ نے میرٹھی کی نظم فر فر سنا دی، اور وہ کچھ اٹک گئے تھے۔ اس طرح کچھ شکرنجی پیدا ہو گئی تھی۔ اسے کافی سنجیدگی سے لیا گیا کیونکہ اصل میں یہی ایک بہت بڑا سیاسی مسئلہ تھا۔ اگر بچے یہاں کے ہوں تو ایک دبکے میں شیر و شکر ہو جاتے ہیں، لیکن آپ کا اور اوبامہ صاحب کا معاملہ اور تھا۔ یہاں کے واعظین کی چشم بصیرت نے دیکھ لیا تھا کہ عنقریب تاریخ عالم آپ دونوں کی دوستی پر منحصر ہونے والی ہے۔ اس پر پاکستان کے قلم قبیلہ واعظین کی ایک کانفرنس ہوئی، جس میں کئی دن کی گفت و شنید کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ اب عین وقت پر اوبامہ صاحب نے حق دوستی ادا کر دیا، اور آپ کی یاوری کی ہے۔ دوستی ہو تو ایسی۔ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ یہاں کی اعلیٰ تعلیم کا رنگ آپ دونوں پر چوکھا آیا۔ آنجناب والا تبار سے التماس صرف یہ ہے کہ اسی طرح کی ایک کانفرنس استنبول میں بھی منعقد کی جائے تاکہ باقی مسئلے جو رہ گئے ہیں ایک ہی دفعہ حل ہو جائیں۔ اس میں اوبامہ صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جائے تاکہ وہ سرشام نکلنے والوں کے سرغنہ کے لیے نوبل امن انعام کی سفارش کر سکیں۔\n\nآنجناب کا وقت قیمتی ہے۔ اسی اجمال کو تفصیل پر محمول فرما کر جلد کارروائی فرمائیے گا۔ بھول نہ جائیے گا۔ ثواب بھی پائیےگا۔ ہمارا دل بھی لبھائیےگا۔ بندے کو وفادار ہی پائیے گا۔ کسی کی باتوں میں نہ آ جائیے گا۔ ہمارا شکریہ بھی قبول فرمائیےگا۔\n\nالعارض\n\nواعظِ تجزیہ نگار، سکنہ فسونِ کارساز، ضلع میڈیائے شیریں مقالاں، خطۂ خوش خصالاں

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سرکیاکہنے ہیں.مزہ آیا خوش رہیں..ترکی کے معاملے پر اب یقینًا ڈرامائی کالم نگاری بند ہوجائے گی