قوم لوط اور پاکستانی معاشرہ - فارینہ الماس

اس ہندی آرٹ فلم کا عنوان تھا ”علی گڑھ“۔ نام پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شاید علی گڑھ تہذیب اور اس کے خمیر میں گنُدھی علم دوستی سے متعلق کوئی فکر انگیز کہانی سننے اور دیکھنے کو ملے گی۔ کہانی گھومتی تھی”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی “ کے مراٹھی زبان کے ایک نہایت قابل استاد ”ڈاکٹر شری نواس رام چندر“ کے گرد جن کا علم و ادب سے خاص شغف اور بحیثیت استاد ان کی قابلیت، ان کی خاص عزت و تکریم کا باعث تھی۔ پھر اچانک ہی وہ یہ بھرم گنوا بیٹھے، ان کی بدنامی اور تذلیل کا باعث بنا ان کا ”ہم جنس پرست“ ہونا۔ پھر فلم کے اختتام تک قدیم اور دقیا نوسی اقدار کا تمسخر اڑاتے ہوئے جدید شخصی آذادی کے راگ الاپے گئے. جس قدر پروفیسر صاحب کے اس فعل کو جائزیت دلائی جا رہی تھی، گمان ایسا ہونے لگا کہ شاید ایسے لوگ معاشرے کی خاص محبت اور اپنائیت کے مستحق ہیں۔\n\nماضی میں انڈیا کی اکثر فلموں میں مزاح اور تفریح کے عنصر کے طور پر ایسے کردار اضافی طور پر فلم کا حصہ بنتے رہے لیکن اب ایسی آرٹ فلمیں بننے لگی ہیں جن میں ایسے کرداروں سے ہمدردی دکھائی جاتی ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی زندگی کا ایک خاص پہلو جزباتیت، رومانویت اور جنسی خواہش پر مشتمل ہے۔ یہ ایک نہایت اہم حیاتیاتی پہلو ہے۔ قدرت نے اس میں حیات کا تسلسل اور بقا رکھی ہے۔اس تسلسل میں قدرت نے مخالف صنف کے لیے ایک خاص کشش کا عنصر پیدا کیا جسے affectional attraction کا نام دیا جاتا ہے۔ انسانوں میں ایک خاص جماعت بھی پائی جاتی ہے جو دونوں صنفوں کے لیے یکساں کشش محسوس کرتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اپنے ہم جنس کے لیے کشش کا پلڑہ بھاری ہو جاتا ہے۔ اس کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کی تعداد گزشتہ کئی برسوں سے اچھی خاصی بڑھ چکی ھے۔ خصوصاً مغرب کی جیلیں، گرجا گھر، فوج اور ہاسٹلزایسے ہی ہم جنس پرستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس کمیونٹی میں لڑکوں کے لیے گے اور لڑکیوں کے لیے لزبین کی ٹرم استعمال کی جاتی ہے۔ عالمی سطح پر اس کمیونٹی کے حقوق کے لیے باقاعدہ تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ ان کے لیے گذشتہ سالوں میں بہت سی عالمی کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ ان کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اب انھیں باہمی شادیاں رچانے کا بھی حق دلایا جا چکا ہے۔\n\nسوال یہ ہے کہ آیا یہ عنصر محض پیدائشی ہے یا ماحولیاتی بھی؟ اگر اس میں صرف ماحول کا عمل دخل ہے تو کیا کسی تزکیے یا تھراپی سے ایسے انسانوں کو بدلا جا سکتا ہے؟ کچھ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ دماغ کا خاص حصہ hypothalamus عام انسان کی نسبت ہم جنس پرستوں میں سائز میں ذیادہ بڑا پایا جاتا ہے جو اس خاص رحجان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کی بڑی وجہ بیٹے کی باپ سے انتہائی قربت اور ماں سے دوری ہے۔ اس طرح بچے میں اپنی مخالف صنف سے کشش کی حس خاصی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری صورت میں اگر بچہ باپ سے دور ہے اور ماں سے بہت قریب ہے تو بھی وہ مرد کی شناخت کو فراموش کر کے اپنی شناخت کو ماں سے وابستہ کر لیتا ہے۔ ماں اسے انتہائی قرُ بت تو دیتی ہے لیکن اس دوران اسے یہ سکھانا بھول جاتی ہے کہ مرد کی طرح کیسے اپنے افعال و اعمال کا اظہارکیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ دنیا کو ایک عورت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے، اور عورت کی طرح حسّاس ہو کر اپنے جذبات اور تکلیف کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ وہ مرد کو مخالف صنف سمجھ کر اس سے قربت پیدا کر تا ہے۔ اگر بچہ بچپن میں جنسی ہوس کا شکار ہو جائے تو بھی وہ ایسا بن سکتا ہے۔ نفسیات دان اس کی ایک وجہ انسان کی معاشرے کے سخت قوانین سے اپنی نفرت کا اظہار بھی بتاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی گھٹن کی تلافی کرتا ہے۔ اسے ایک ہارمونک مسئلہ بھی مانا جاتا ہے۔ اس کا تعلق جینز اور بیالوجی سے بھی جوڑا جاتا ہے، یہ اور بات ہے کہ سائنس ابھی تک ایسا کوئی جینز دریافت نہیں کر پائی۔\n\nمغرب نے ایسے لوگوں کو خوش دلی سے قبول کیا کیونکہ وہ دنیا کو اپنی روشن خیالی اور وسیع النظری کا پیغام دینا چاہتا ہے۔ کئی مشرقی ریاستوں نے بھی مغرب کی پیروی شروع کر دی ہے تاکہ مغرب کے دل میں جگہ بنائی جا سکے۔ البتہ کچھ مسلم ریاستوں نے اس پر سخت قوانین لاگو کر رکھے ہیں اور اکثر مسلم ریاستیں تذبذب کا شکار ہیں کہ اگر سختی کرتی ہیں تو مغرب ان کی جہالت اور تنگ نظری کا واویلہ کرے گا اور اگر تسلیم کرتی ہیں تو انتہا پسندوں کے عتاب کا شکار ہونا پڑےگا۔ سو وہ اس معاملے میں چپ سادھے ہوئے ہیں۔\n\nپاکستان کے عموماًمڈل کلاس طبقے میں ہم جنس پرستی کو انتہائی نفرت اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ہمارے ملک میں اس طرح کے لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے لوگ غربت کا شکار طبقے میں بھی پائے جاتے ہیں، اور ایلیٹ کلاس میں بھی یہ کمیونٹی بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں نے burger gay clubs بنا رکھے ہیں۔عموماً فارم ہاﺅسز اور بنگلوں میں ان کی باہمی پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ ہماری فیشن انڈسٹری میں ایسے لوگوں کی خاصی تعداد ہے ۔گویا یہ صنف ایک ایسی حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان لوگوں کا میل ملاپ زیادہ تر سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹس سے ہوتا ہے جو خاص طور پر اس کمیونٹی نے چلا رکھی ہیں۔ یہ کمیونٹی خفیہ کوڈز بھی استعمال کرتی ہے۔ مڈل کلاس کے لڑکوں کے لیے شیشہ کیفے، نیٹ کیفے، ویڈیو شاپس وغیرہ میٹنگ پوائنٹس بنتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ سالوں میں ایسے ہم جنس پرست جوڑے بھی منظرٍعام پر آئے جو باہمی شادیاں رچانے کے خواہش مند تھے۔ ایک شخص لیاقت علی نے16 سال کے افغانی لڑکے سے شادی رچائی، اسی طرح ایم ایس سی کی ایک طالبہ حدیقہ اور ڈائریکٹرمارکیٹنگ صائمہ ناہید کو شادی کی اجازت دلوانے کے لئے باقائدہ پٹیشن دائر کی گئی۔ معاشرے میں اسے جواز نہ ملنے کے باوجود یہ عنصر تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔گو کہ بعض حالات میں یہ لوگ واقعی اصلاح اور توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور انھیں علاج اور نفسیاتی تھیراپی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر اس طبقے میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو اس فعل کو محض اپنی ہوس پرستی کی تسکین کے لیے سرانجام دیتے ہیں۔ جب ان کی جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے مخالف صنف میسر نہ ہو سکے تو وہ چھوٹے اور معصوم ہم جنسوں کو زبردستی اپنے عزائم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔\n\nانتہائی قابل افسوس بات ہے کہ ہمارے ہاں لبرل انتہاپسند طبقہ مذہب سے اپنی عداوت کو نبھانے کے لیے اس فعل کو بھی معاشرے سے جواز دلوانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ یہ طبقہ مغربیت کی دھن میں اس قدر مبتلا ہو چکا ہے کہ مغرب کی نفسی اور نفسیاتی بیماریوں کو بھی اپنا لینا چاہتا ہے، اور ان کے ایسے اقدامات کی بھی مداح سرائی میں مگن ہے جنھیں خود مغربی معاشرے نے بھی پوری طرح جواز نہیں بخشا۔ لبرلز کی ایک بڑی تعداد کھلم کھلا مذہب کو چھوڑنے کا اعلان کرنے تو آمادہ نہیں لیکن اسے قرآن کے واضح احکامات کو بھی جھٹلانے میں کوئی عار یا جھجھک محسوس نہیں ہوتی۔ قرآن کی سورہ الاعراف کی آیت نمبر 79 اور80 میں ہے۔”اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کے.“ قرآن پاک میں اللّہ تعالی نے قوم لوط کے نیست و نابود ہونے کی وجہ اسی ہم جنس پرستی کو قرار دیا ہے۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ ”اللّہ کی ان لوگوں پر لعنت ہو جو وہ کام کرتے ہیں جو قوم لوط کیا کرتی تھی۔“ ان واضح احکامات کے باوجود لامحدود آزادیوں کے اس تصور کو اپنانا چاہتے ہیں جس کے نقائص نے انسان کو معاشرہ سازی پر مجبور کیا اور اس نے ایک حد سے زیادہ آزادی کو ایک خاص قدغن میں سمو دیا تاکہ اپنے جینے کی راہ کو سہل بنا سکے۔ اسلام میں اس گناہ کو دراصل اﷲ کے بنائے قوانین فطرت کو توڑنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اور اسے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ بتایا گیا ہے۔ یہ آپﷺ کی بتائی قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی بھی ہے۔\n\nیہ بات قابل غور ہے کہ اس فعل شنیع کی مخالفت کے باوجود یہ معاشرے میں سرایت کیوں کر رہا ہے؟ جب معاشرے مادیت پرستی یا جہالت اور غربت میں بری طرح لتھڑ جاتے ہیں تو انسانی قدروں کی پامالی عام ہو جاتی ہے ۔ایسے معاشرے مذہبی اور روحانی طور پر اندر سے کھوکھلے ہو جایا کرتے ہیں۔ رشتوں کا تقدس اور احترام ختم ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنا جواز کھونے لگتا ہے۔ اقدار کی بےحرمتی کی وجہ کبھی کبھی خود معاشرے کے اندر پنپنے والی وہ گھٹن بھی بن جایا کرتی ہے جو فرسودہ اور غیر انسانی جھوٹی اقدار سے جنم لیتی ہے۔ جہاں جھوٹے معیار انسان کو جانچنے کے معیار بن جائیں وہاں کئی بن بیاہی لڑکیاں گھر کے در و دیوار میں بھٹکتا رہنے والا سایہ بن کے رہ جاتی ہیں۔ ماں باپ اپنی غفلت سے جب لڑکوں کو نکاح کے جائز بندھن میں باندھنے کے بجائے ادھیڑ عمری کے حوالے کر دیتے ہیں تو وہاں بدفعلیاں ردعمل بن کر سامنے آتی ہیں۔ اولاد پر بےجا پابندیاں اور سختیاں انھیں نفسیاتی فساد کے کنوئیں میں دھکیل دیتی ہیں۔ اسی طرح والدین نے جب سے اولاد کی ذہنی اور اخلاقی تربیت سے غفلت برتنا شروع کی ہے، ایسے شخصیتی بگاڑ معاشرے کا حصہ بن گیا ہے۔\n\nمعاشرے کے یہ لوگ نہ صرف قابل رحم ہیں بلکہ انھیں تحلیل نفسی کے تجزیوں اور مراقبوں کی بھی ضرورت ہے۔ معاشرے کو بھی فرسودہ روایات سے نکلنا ہوگا۔ والدین اپنی اولاد سے دوستانہ رویہ رکھیں لیکن اس کی سرگرمیوں سے کسی طور غافل نہ رہیں۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ جس بے راہ روی کو روشن خیالی مان کر آج فخر سے اپنایا جا رہا ہے، آنے والے وقت میں اس کا انجام وہی سامنے آئے جو قوم لوط کا ہوا.

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جائزیت کی اصطلاح دیکھنے میں آئی میرے خیال میں یہ جواز کے مترادف کی جگہ نہیں لے سکتی کہ اس کی آواز میں وہ جاذبیت ہی مفقود ہے جو نئی اصطلاحات کو فروغ کے لیے درکار ہوتی ہے ایسے الفاظ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو روایت کے مطابق نہ ہوں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */