سائبر کرائم بل کا جائزہ - ارشد اللہ

8f31d113_o عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شاہی سید کی سربراہی میں کام کرنے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے متازعہ سائبرکرائم بل 2015 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بل کے متعلق بحث جاری ہے. آئیے ایک نظر جائزہ لیتے ہیں کہ اس بل میں ایسا کیا ہے جس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے.\n\n \n\n

\n\n

بل کے اہم نکات:

\n\n \n\n \n\n◄ سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے مشورے سے سائبر کرائم کورٹ قائم کی جائے گی۔\n\n◄ عدالت کی اجازت کے بغیر سائبر کرائم کی تحقیقات نہیں ہوسکیں گی۔\n\n◄ دہشت گردی سے متعلق سائبر جرائم پر 14 سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔\n\n◄ نفرت انگیز تقاریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال قید کی سزا ہوگی۔\n\n◄ انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ دھوکہ دہی پر 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا.\n\n◄ بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔\n\n◄ انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال قید کی سزا ہوگی۔\n\n◄ موبائل فون کی چھیڑچھاڑ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔\n\n◄ موبائل فون سموں کی غیر قانونی فروخت پر 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔\n\n◄ انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا۔\n\n◄ سائبرکرائم قانون کا اطلاق پاکستان سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد پر بھی ہوگا۔\n\n◄ سائبر کرائم قانون کا اطلاق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نہیں ہوگا۔\n\n◄ ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے متعقلہ ممالک سے رجوع کیا جائے گا۔\n\n

عوام کے تحفظات:

\n\n \n\n \n\nمجوزہ منظور شدہ سائبر کرائم بل پر عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہا ر کیا جارہا ہے. مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد مجوزہ بل کی منظوری پر برہم دکھائے دے رہے ہیں اور بل کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار پر پابندی سے تعبیر کر رہے ہیں.\n\n \n\ngersfd\n\nکچھ لوگوں کے خیال میں سائبر کرائم بل سوشل میڈیا پر اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی سخت مخالفت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے لاگو کیا جا رہا ہے. سوشل میڈیا کو کنٹرول میں رکھ کر حکومتی مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی.\n\nبل سے اگر ایک طرف فرد کی اظہار رائے کی بنیادی آزادی کو چھینا جارہا ہے تو دوسری طرف اس کے مثبت پہلو بھی ہیں. دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے میں کامیاب رہتے ہیں، اور افراتفری پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں. سوشل میڈیا ایپس کو باہمی رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے بڑے نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے.\n\nmazah\n\nان قوانین کے تحت ہیکنگ، غیر قانونی رسائی (کسی ای میل اکاﺅنٹ کی ہیکنگ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ وغیرہ)، مداخلت، پرائیویسی کی خلاف ورزی، الیکٹرونک و ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور گرے ٹریفک سمیت دیگر کو اہم جرائم قرار دیا گیا ہے، جس سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی، اور انٹرنیٹ کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کا سدباب ہوگا.