آزاد کشمیر الیکشن؛ نتائج کا ایک تجزیہ - محمد عمیر

آزاد کشمیر میں الیکشن کے نتائج اس بار بھی روایتی رہے. وفاق میں جس پارٹی کی حکومت تھی وہی پارٹی آزاد کشمیر کے الیکشن جیتی رہی ہے اور اس بار بھی وہی جیت گئی. اس سے قبل 2006 میں پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم کانفرنس اور 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنائی تھی اس کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی کا اپنی تمام ضروریات کے لیے وفاقی حکومت کا مرہون منت ہونا ہے. بجٹ، قانون سازی اور دیگر امور کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی کا دارومدار وفاقی حکومت پر ہوتا ہے. اسی وجہ سے وفاق میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے وہی پارٹی آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بناتی ہے.

حالیہ الیکشن کی سب سے اہم بات اس کا پرامن انعقاد تھا. کسی بھی جگہ کوئی افسوسناک واقعہ پیش نہیں آیا. ایک دو جگہ پر فائرنگ کے واقعات ہوئے تاہم الیکشن کمیشن اور سکیورٹی فورسز فوری حرکت میں آئیں اور ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا. کسی بھی پارٹی کی طرف سے دھاندلی کے الزامات عائد نہیں کیے گئے بلکہ عمران خان نے الیکشن کے نتائج کو قبول کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر میں الیکشن جیتنے پر مبارک باد دی. دوسری اہم بات یہ تھی کہ پہلی دفعہ آزاد کشمیر کے الیکشن قومی سطح پر ڈسکس ہوئے اور انتخابات کی روایتی گرمجوشی اور پرجوش خطاب دیکھنے کو ملے. تمام سیاسی پارٹیوں نے جلسے کیے اور ریلیاں نکالیں. عمران خان نے آزاد کشمیر میں 9 جبکہ بلاول بھٹو نے 6 جلسے کیے. پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی زیادہ تر کمپین وفاقی وزراء کی مدد سے چلائی. پرامن انتخابات کا کریڈٹ الیکشن کمیشن اور فوج کو دیا جانا چاہیے، دونوں ادارے اپنی بہترین کارکردگی پر شاباش کے مستحق ہیں.

آزاد کشمیر اسمبلی کی کل 42 سیٹوں میں سے 33 سیٹیں مسلم لیگ ن، 3 مسلم کانفرنس، 2 تحریک انصاف اور 2 پاکستان پیپلز پارٹی نے جیتیں. دو سابق وزرائےاعظم بیرسڑ سلطان محمود اور چوہدری عبدالمجید اپنی سیٹیں ہار گئے. مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرلی ہے جو حکومت کو مضبوط کرے گی اور اسے کسی طرح کی جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں پڑے گی.

یہ بھی پڑھیں:   "تحریک انصاف کی تنقید و الزامات - حقیقت یا افسانہ" محمد فیضان

بیرسٹر سلطان محمود پاکستان تحریک انصاف کے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے مگر وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سے شکست کھا گئے. دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما غلام محی الدین دیوان نے لاہور میں ن لیگ کو ہرا دیا جو کہ ن لیگ کے لیے لمحہ فکریہ ہے. ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے رہنما شعیب صدیقی کی پنجاب اسمبلی کی سیٹ پر فتح کے بعد یہ فتح ن لیگ کے لیے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہے. غلام محی الدین دیوان کی یہ مجموعی طور پر چوتھی فتح ہے، اس سے قبل وہ دو بار پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر بھی کامیاب ہوچکے ہیں.

پیپلز پارٹی کی طرف سے آزاد کشمیر الیکشن کے تمام تر انتظامات چیئرمین بلاول بھٹو کے ہاتھ میں تھے، تاہم پیپلزپارٹی کی نئی قیادت بھی اپنا رنگ نہ دکھا سکی. بلاول بھٹو کی تقریروں نے جلسوں کو تو گرمایا مگر ووٹرز کو نہ گرما سکیں. پانچ سال حکومت کرنے کے بعد پیپلز پارٹی صرف دو سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جو کہ لمحہ فکریہ ہے.

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اپنی مہم کے دوران ن لیگ کو نشانہ بنایا. پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کی تو سمجھ آتی ہے تاہم تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید نہ بنانے کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا. پانامہ سکینڈل پر پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے لیے عمران خان سمیت کسی بھی رہنما کی طرف سے پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید نہیں بنایا گیا جس پر کشمیر کے نوجوان ووٹرز میں سخت غم وغصہ پایا گیا. ان ووٹرز کا خیال تھا کہ جس پارٹی نے پانچ سالہ حکومت کے دوران عوام کے لیے کچھ نہیں کیا، اس کے خلاف نہ بولنا اور ان کی کرپشن پر چپ رہنا ایک فاش غلطی تھی.

راجہ فاروق حیدر اور مشتاق منہاس وزارت اعظمی کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جارہے ہیں. وزارت اعظمی اور صدرات جس کے ہاتھ میں آئے، انھیں سابق وزیراعظم اور نئی اسمبلی کو سابقہ اسمبلی سے سبق سیکھنے، عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ اگلے الیکشن میں ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس بار دوسابق وزرائے اعظم کا ہوا ہے

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.