قندیل بلوچ اور مجرم معاشرہ - صہیب اکرام

چلتے چلتے تذکرہ معاشرے کے ایک بدقسمت کردار قندیل بلوچ کا بھی کر لیا جائے. آغاز زندگی میں جبری شادیاں اور طلاقیں، شاید ہمارا مجموعی معاشرتی مسئلہ نہیں، یہ تو ہر شہر میں ہوتا ہے، قندیل بھی کمپرومائز کرلیتی. خیر فیس بک پر کسی صاحب طرز کا سٹیٹس پڑھا کہ بے حیائی کا ایک باب بند ہوا. ذہن میں قندیل بلوچ کی مختصر زندگی آگئی، ایک ناکام و گمنام ماڈل جو اپنے بےپناہ غیرت میں لتھڑے بھائیوں کے حیات ہوتے ہوئے بھی اپنے گھر کی واحد قندیل تھی.\n\nخیر میرا یہ مسئلہ بھی نہیں، پھر بے حیائی کے مجسمہ حسن جسے دنیا قندیل بلوچ کہتی ہے، اس کی بدنام زندگی سامنے آنے لگی، یہ ہوٹل کے کمرے میں مفتی قوی صاحب کے ساتھ ایک بہت خوبصورت سلیفی لیتے ہوئے موجود، مفتی قوی معاشرے کے شریف طبقے کا نمائندہ اور شرافت و پارسائی کا دعوے دار،، مگر ماڈل گرل معاشرے کے ماتھے کا کلنک، میڈیا اس کے جسم کو نوچ نوچ کر ریٹنگ حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہا، شرفا گھروں، ہوٹلوں میں اس کو دیکھ دیکھ کر بھی باوضو رہے، مگر قندیل معاشرے کا ناسور،، کالجوں، یونیورسٹیوں کے طالب علم جو ہر فلم سینما میں جاکر دیکھنا اسلام کا رکن سمجھتے ہیں اور ہر سیزن کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں ، ان کی زبان سے بھی اس بازار کی ماڈل کے لیے صرف نازیبا الفاظ ،،\n\nسوچنے لگا کہ قتل غیرت کے نام پر ہونا ہے تو پہلے قندیل کا بھائی ہوتا، جس کے جیتے جی گھر کا سہارا یہ بنی تھی، مجرم قندیل بلوچ ہے تو مفتی قوی آج بھی معزز کیوں ہے؟ جسموں کی منڈی لگانے والا میڈیا اب بھی محترم کیوں؟ جعلی شرفا اور یہ تعلیمی اداروں کے نوجوان کیوں گناہگار نہیں؟ پورا معاشرہ تب کہاں تھا جب ایک غریب کی عزت کسی محل کی قندیل بن رہی تھی. میں نہیں جانتا کہ اس کا انجام آخرت کیا ہوگا اور مجھے تو جاننا بھی نہیں، میں تو انتظار میں ہوں کہ کب آزاد غیرت مند میڈیا اور تماشائی سوسائٹی ایک اور قندیل بلوچ کو جنم دیتی ہے.\n\nآج منٹو یاد آگیا کہ یہ طبقہ دھبہ ہے، اسے شہر بدر کر دو اور پھر بیس سال بعد یہ طبقہ پھر دھبہ ہے، پھر شھر بدر کر دو،، مگر دیکھنے والے، عیاشوں کی محفلوں میں نچوانے والے، ہوٹلوں کے کمروں میں باوضو سلیفیاں لینے والے سب ہمارے معاشرے کی غیرت ہیں اور صرف قندیل بلوچ مجرم، بے حیا اور بدنما داغ تھی.\n\nآخر میں شورش کے آلفاظ کو چراتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،،،\n'' آہ ــــــ میرے پاس طاقت ہوتی تو میں اس کو نہ لکھتا بلکہ اس معاشرے کے در و دیوار ہلا ڈالتا جس میں عورت کسبی ہے، میرے پاس تلوار ہوتی تو میں سیاسی کھوپڑیوں کی فصل کاٹتا کہ پک چکی ہے. میرے پاس صرف قلم ہے اور میں نے اس عورت کے زخم پیش کیے ہیں جس کا روپ عیاش انسانوں کے قہقہوں کی دستبرد میں ہے. کاش! مجھے اختیار ہوتا کہ میں بڑے بڑے عماموں کے پیچ کھولتا، ان کی دستار فضیلت کے پھریرے بنا کر بالاخانوں پر لہراتا، عالمگیری مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر فقیہ شہر کو للکارتا، اس کی دراز قبا پھاڑ ڈالتا اور اس کے ٹکڑے دریدہ عفتوں کے حوالے کرتا کہ اپنی برہنگی ڈھانپ لیں. قبا نہیں، اورنگزیب کی بیٹی زیب النسا کا کفن ہے.''