ہوم << قحط الرّجال : منیر احمد خلیلی

قحط الرّجال : منیر احمد خلیلی

اس عہد کا بڑا مسئلہ کیا ہے؟غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ’گھٹ گئے انسان ، بڑھ گئے سائے ‘سب سے بڑا مسئلہ ہے۔انسان کی انسانیت رو بہ زوال ہے۔معاملہ ہر جگہ ایک جیسا ہے۔ امریکی سیاست میں آج اگر کوئی جارج واشنگٹن ، تھامس جیفرسن، ابراہام لنکن اور ٹیڈی روزولٹ کو ڈھونڈنے نکلے تواسے مایوسی ہو گی۔ وہاں بھی انسانیت کا قداتنا کوتاہ ہو گیا ہے کہ کئی بانس باندھ کر بھی اونچا کیا جائے تو بمشکل جارج ڈبلیو بش ہاتھ آتا ہے۔اب توبانس بھی کام نہیں دیتے۔ بش ہی کی پارٹی نے جس آدمی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔جی ہاں ڈونلڈ ٹرمپ ہوس پرستی، عیاشی ،تعصب، نفرت کو جس نے اپنی شناخت بنایا ہے۔ عظیم انسان تو درکنار محض اس سطح کے لوگ بھی اب خال خال ملتے ہیں جن کو آدمی سمجھ کے کوئی ان کے پاس جا بیٹھے۔
انسان کو بڑا کیا چیز بناتی ہے؟ دولت؟ جی نہیں۔
دولت تو ٹرمپ کے پاس بہت ہے لیکن مقاصد کی بلندی سے وہ خالی ہے اور مقاصد ہی سے انسان کی شخصیت سازی ہوتی ہے۔مقاصد پست اور گھٹیا ہو ں تو انسان کی انسانیت بھی اسی نسبت سے گر جاتی ہے۔مقاصدمیں پاکیزگی اور علویت نہ ہو توعقلیں کوتاہ اور زبانیں لمبی ہو جاتی ہیں۔چھوٹے لوگ بڑے نصب العین لے کر کبھی نہیں اٹھتے ہیں ۔ ان کی تگ و دو چھوٹے مقاصد کے لیے ہوتی ہیں ۔ان کی ساری کائنات اپنی ذات اور اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔وہ اپنی ذات کے اسیر اور اپنی اغراض کے بندے بن کر رہتے ہیں۔
میں نے بارہا 19ویں صدی کے ادوسرے عشرے سے بیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک کے عرصے پر نظر ڈالی۔دورِ زوال اور عہدِ غلامی تھا مگر اس عرصے میں پیدا ہونے والی شخصیات دیکھیں ۔سید جلال الدّین افغانی، مفتی عبدہ ، علامہ رشید رضا، قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال ، مولانا ظفر خا ن، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی ، مولانا حسرت موہانی سے لے کر سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ، حسن البنا ، شاہ عبدالعزیز بن سعود اور روح اللہ خمینی تک کتنی ہی ایسی شخصیات گزریں جنہوں نے اپنے افکار اور جدجہد سے تاریخ کا دھاڑا موڑا ، ایک دور کو متأثر کیا اور جو آسمانِ عظمت پر جگمگائیں ۔ ان کی دنیوی امیدیں قلیل تھیں اوران کے مقاصد جلیل ۔یہ امت اس کے بعد مقاصد کے اعتبار سے بلندی سے پھسلی تواس کے نصیب میں جمال عبدالنّاصر، حافظ الاسد،صدام حسین ، کرنل قذافی اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ لکھے گئے۔اور یہاں پاکستان میں ہم اس سے نیچے آئے تو آصف علی زرداری، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، شریف برادران، چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز اِلٰہی، ڈاکٹر طاہر القادری، پرویز مشرف، الطاف حسین ، مولا نا فضل الرحمٰن ، شیخ رشید اور عمران خان جیسے لوگ ہمارے رہبر بن گئے۔
تحریکِ خلافت سے تحریکِ پاکستان تک صرف بر صغیر کے مسلمانوں کو جو فکری و نظریاتی اور سیاسی قیادت ملی ،علم و مطالعہ،اخلاص اور بے لوثی ، تہذیب و شائستگی، تعمیر و ترقی ، گِرہ کشائی اور تدبیر کاری جیسی اعلیٰ صفات اس کا طرۂ ِ امتیاز تھیں۔ ان میںقوم و ملت کا درد تھا۔ان میںدانش و فکر اور سیاسی قیادت کا جوہر تھا۔وہ منبر و محراب اور قلم و قرطاس اور میدانِ عمل میں بیک وقت اپنا کردار ادا کرتے رہے۔اکثر کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کا سابقہ لگا ملتا ہے لیکن وہ نرے مولوی نہیں تھے۔اپنے زمانے کے لحاظ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے سیاست کو وقار بخشا اور صحافت کو چار چاند لگائے ۔شاعری کو ان سے وزن ملا ، ادب نے ان سے توقیر پائی اور دانش و فکر ان کے دم سے با اعتبار ہوئی اور صحافت و ابلاغ کو انہوں نے روشنی بخشی ۔ بڑی دلیری سے وہ مسلط قوتوں کے جبر و استبداد سے ٹکرائے ۔سیاست ان کے نزدیک کچھ پانے اور مال بنانے کا نہیں بلکہ اپنا بہت کچھ گنوانے کا نام تھا۔انہوں نے تو اپنا بہت کچھ بنا بنایا سیاست میں آ کر قومی مقاصد پر نچھاور کر دیا۔علی برادران، مولانا ظفر علی خان، مولا نا حسرت موہانی ، نے قوم کی خاطر اپنا آرام و آسائش تیاگا ، اپنی صحت بگاڑی، جیلیں کاٹیں ،اپنے اخبار بند کرائے ، جرمانے بھرے ، گھر بار لٹائے ، تنگیاں دیکھیں، عسرتوں سے گزرے ، وطن سے بے وطن ہوئے ۔مولانا محمد علی جوہر ؒ جیسے رہنمائوں کا حال یہ تھا کہ ملتِ اسلامیہ کے کسی حصے پر بھی کوئی افتاد پڑتی تو مضطرب اور بے قرار ہو جاتے تھے۔جرأت و بے باکی ایسی تھی کہ گول میز کانفرنس میں گئے تو فرنگی استعمار کو اس کے گھر میں للکارا کہ مجھے غلام ملک میں دفن ہونا گوارا نہیں ہے۔ مجھے یا تو آزادی دینی ہو گی یا مجھے ہندوستان سے باہر قبر کی جگہ۔اور اسی سفر میں بیمار ہوئے ، بلکہ بیماری کی حالت میں واپسی کے لیے بحری جہاز کا سفر کیا۔ راستے میں طبیعت بگڑی اور جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ مسجدِ اقصیٰ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آج بھی شاید کوئی ڈھونڈے تو وہاں کسی کو عربی عبارت والی لوحِ مزار مل جائے جس کا ترجمہ ہے ’یہاں السّید محمد علی جوہر الہندی مدفون ہیں‘۔آج سیاست میں بھائیوں کی جوڑی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی ہویا تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن میں بیٹھے ہوئے اسد عمر اور زبیر عمر کی ، مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا عطا الرحمٰن بھی دو بھائی ہیں۔چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز اِلٰہی اگرچہ کزن ہیں لیکن چوہدری برادران ہی کہلاتے ہیں۔سچی بات ہے کہ ان کے ساتھ جب علی برادران --مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی --کا خیال آتا ہے تو بے ساختہ زبان پر’ چہ نسبت خال را بہ عالمِ پاک ‘کے الفاظ آ جاتے ہیں۔ علی برادران کی طرف دھیان جائے تو ان کی عظیم ماں کا وہ قول سامنے آ جاتا ہے جسے تاریخ نے سنہری حروف میں زیبِ اوراق بنایا ہواہے : ’بولی اماں محمد علی کی ، جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘۔یعنی مقاصد کی بلندی انہیں آغوشِ مادر میں مل گئی تھی۔ آج ہمارے سارے سیاست دانوں کو کسی امتحان گاہ میں بٹھا کر سیاست و صحافت کی آبرو ان شخصیات کے بارے میں پوچھیں شاید دو چار بھی ان کے بارے میں جاننے والے نہ نکلیں۔
اور وہ محمد علی جناح ؒ !کیا چیز تھی جس نے ان کو منفرد و ممتاز بنا دیا تھا؟ اخلاص اور بے لوثی، اصول پسندی اور بے غرضی، گہرے غور و فکر کے بعد ایک موقف قائم کرنا اور پھر چٹان کی طرح اس پر جم جانا۔نہ شعلہ بیانی اور نہ دھواں دھاری ۔نہ بے موقع و بے معنی الفاظ کا استعمال۔ دو ٹوک اور واضح نقطۂ ِ نظر۔مقابل میں ایک طرف نہرو، گاندھی اور پٹیل کی صورت میں چانکیائی ذہنیت تھی اوردوسری طرف گھاگ اور شاطر انگریزقوم۔لیکن انہوں نے اپنی بصیرت سے ان سب کو مات دی اور دلیل کی قوت اور موقف کی صداقت سے ہندوستان کے جغرافیائی ڈھانچے کے اندر سے پاکستان کا نام کا آزاد اور خود مختار ملک حاصل کر لیا تھا۔ سوچ سمجھ کر جو رائے قائم کی اس پر ڈٹ گئے۔نہ کوئی انہیں خرید سکا اور نہ جھکا اور دباسکا۔ان کوہوسِ اقتدار اور حرصِ مال وزرکھینچ کر سیاست میں نہیں لائی تھی۔ سیاست ان کی نظرمیں قومی خدمت تھی اور اس خدمت کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔ان کے سخت ترین مخالف بھی ان کی ساکھ) (credibility کا اعتراف کرتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے خوابِ غفلت میں ڈوبی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔ قائد اعظم ؒ نے جس ملک کی تشکیل کا بیڑا اٹھایا تھا اس کا تصور اقبال ؒ ہی نے دیا اور اقبالؒ ہی نے قائد اعظم ؒ کو مسلمانان ِ پاک و ہند کی قیادت پر آمادہ کیا تھا۔
سیاست کو یہ جو آج ہم گھن لگا دیکھتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ قوم کی خدمت کا وسیلہ نہیں بلکہ جاہ و حشمت اور دولت و ثروت اور سماجی مراتب اور وقار کا ذریعہ بن گئی ہے۔یہ منفعت کا سودا بنی تو سیاست دانوں میں خود غرضی پیدا ہو گئی اور اانہوں نے سیاسی کاروبار کو موروثی چیز بنا لیا تا کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی سیاست کی منفعتیں سمیٹیں ۔ہر سیاست دان خاندانی وراثت کی طرح اپنی سیاسی حیثیت بھی اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرتا ہے۔سیاست میں مسابقت اب سیاسی منشور کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقابلہ بد عنوانی میں ہو رہا ہے۔ مال بنانا کرپشن کی ایک صورت ہے۔ سیاست دانوں کی فطرت کے فساد کا ایک نتیجہ
ہے۔ عمران خان شاید زرداری، شریف برادران ، چوہدری برادران ، اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرّحمٰن کے مقابلے میں زیادہ پاک داماں ہوں لیکن ان کی وزیر اعظم بننے کی طوفانی خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جانے والوں کے لیے اس کی نفرت،بغض، عداوت اور اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ہر حد کو پار کر جانے کی ضد نے عمران خان کے دامن کو کئی اور طریقوں سے داغ دارکر دیا ہے۔ خان صاحب نے جن کو اپنا حریف قرار دے کر ان کے پیچھے ’کرپٹ کرپٹ ‘ کا ڈھول پیٹنا شروع کیا، ان کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اپنے ان حریفوں سے بھی بڑے کرپٹ اور گندے لوگوں کو ساتھ ملا لیاہے۔چنانچہ عمران خان میں اگر کبھی ایک ’رجلِ رشید‘ کی کوئی ایک صفت تھی بھی تو وہ اسے شیخ رشید جیسے لوگوں کی رفاقت و صحبت میں گنوا بیٹھے ہیں۔ وہ سارے جھوٹ جو عمران خان کے کیمپ میں بولے جاتے ہیں، سارا مبالغہ جس سے وہاں کام لیا جاتا ہے اور وہ ساری گالی گلوچ ،تہمت بازی اور الزام تراشی جو ان کے جلسوں میں کی جاتی ہے اور وہ ساری کیچڑ جووہاں سے اچھالی جاتی ہے وہ اپنی طرز کی ایک مکروہ کرپشن بن گئی ہے۔قوم نے سوچا تھا کہ شاید قحط الرّجال کے موسمِ خزاں میں عمران خان کی صورت میں ایک پھول کھل اٹھے وہ سوچ حسرت بن گئی اور معاملہ وہیں قحط الرّجال پر ٹھہر گیا ہے ۔

Comments

Click here to post a comment