ہوم << ثبوت حاضر ہیں - عبدالسلام فیصل

ثبوت حاضر ہیں - عبدالسلام فیصل

تین سال قبل جب میں نے دہریوں کے خلاف کام کا آغاز کیا تھا تو یہ بات کھٹکتی تھی کہ ایک دہریا قرآن و سنت کے متون میں کس طرح چالبازی سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور کس طرح ”اردو“ زبان میں وہ ایسے عجیب و غریب اعتراضات اپ لوڈ کرتا ہے جس سے حیرت و شکوک سے بننے والے سوالات دینداروں اور لادینوں دونوں کے دلوں میں شیطانی وساوس کا باعث بنتے ہیں؟ کس طرح یہ آسانی سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں شدید گستاخیاں کرتے ہیں؟ اور ان کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا؟ تو یہی بات سمجھ آتی تھی کہ یہ لوگ کسی نہ کسی طاغوتی طاقت کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں اور ان سے بڑی مالی معاونت حاصل کرتے ہیں۔
”ویک اپ“ اور اس کے بعد ”ارتقائے فہم و دانش“ اس کے علاوہ ”جرات تحقیق“ جیے فیس بک گروپس بنا کر اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو ایڈ کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ان دہریوں کے بڑے بڑے لوگ ایسے دہریوں کو تلاش کرتے تھے جن میں عامۃ الناس کے سامنے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی اور فیس بک جیسی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ پھر انکشاف ہوا کہ دہریے فیس بک پر ”سیکریٹ گروپ“ بنا کر اپنے ساتھیوں کے لیے ماہانہ بنیادوں پر فنڈنگ اکٹھی کرتے ہیں تاکہ وہ فارغ رہ کر اپنی تمام تر توجہ الحاد پھیلانے پر دیں اور ان کو کسی قسم کی معاشی تنگی نہ ہو۔
پھر جب حکومتی سطح ہر ”توہین رسالت ایکٹ“ کے تحت ان گستاخوں کے خلاف کام کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنے ساتھیوں کو بیرون ملک بالخصوص مغربی ممالک میں سیاسی پناہ اور شہریت دلوانے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ ابتدائی طور پر یہ تو یہ معاملہ ”پاکستان فری تھنکرز“ اور ”پاکستان لبرل پارٹی“ جیسے اداروں نے اپنی سطح پر کرنا شروع کیا لیکن اتنی بڑی تعداد میں ان دہریوں کا ملک پاکستان سے فرار ایک بہت بڑا معمہ تھا۔ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ دہریوں کا کون سا نمائندہ گروپ یا ادارہ ہے جو پاکستان جیسے ملک میں ان کی مالی معاونت کر رہا ہے؟
دو سال قبل اپنی پرانی آئی ڈی سے میں نے ایک پوسٹ لگائی تھی کہ Atheist Alliance international نامی ادارہ جنوبی ایشیائی ممالک میں ”دہریوں“ کی مالی، علمی اور سفارتی مدد کر رہا ہے۔ یہ ادارہ امریکہ سے کام کر رہا ہے لیکن چونکہ ہمارے پاس ثبوت نہیں تھے کہ پاکستانی ”دہریے اور اگناسٹک“ دونوں کہاں سے فنڈز لیتے ہیں یا ان کا اس ادارے سے الحاق ہے بھی یا نہیں۔ اس لیے میں نے اس بارے میں لکھنا بند کر دیا۔
حال ہی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کا نام Atheist and agnostic Alliance Pakistan ہے، اس کا کام پاکستان میں ہونے والی Anti atheist activities پر نظر رکھنا اور سیکولر ممالک میں اس کو اچھالنا ہے تاکہ پاکستان کو دنیا میں بدنام کیا جا سکے، اور اسلام اور اہل اسلام کی توہین کی جا سکے۔ دہریہ-الائنس.jpg اس سلسلہ میں جب اس ویب سائٹ کو وزٹ کیا گیا تو دیکھا کہ امریکی ادارے Atheist Alliance international کے ساتھ پاکستانی دہریوں کی تنظیم Atheist and agnostic Alliance Pakistan کا الحاق ہو چکا ہے۔ اس کے آفیشل پارٹنرز ”پاکستان فری تھنکرز“ اور ”جرات تحقیق“ کو بتایا گیا ہے۔ چونکہ امریکی ادارے کے مینی فیسٹو میں یہ بات لکھی ہے کہ اس ادارے کا قیام اس لیے ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے کمزور دہریوں کی سیاسی، مالی اور سفارتی مدد کی جائے، اس لیے پاکستانی دہریہ تنظیم کا اس سے الحاق اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ لوگ مغربی ممالک سے روپیہ حاصل کرتے ہیں، اور مغربی ممالک میں ہی بیٹھ کر پاکستانی بلاگ ویب سائٹس استعمال اور سوشل میڈیا پیج وگرپس ایکٹو کر کے دہریت کو فروغ دے رہے ہیں۔ امریکی ادارے کی ویب سائٹ میں atheist-asylum نامی ایک پیج ہے جس پر یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے وہ دہریے جن کی جان کو خطرہ ہے، ان کے لیے امریکن یا کینیڈین ویزے کے لیے 25000 امریکی ڈالر کی امداد کا انتظام کیا جاتا ہے۔دہریہ-الائسنس.jpg پاکستان میں موجود ان کا ایجنٹ امریکی ایمبیسی تک اس دہریے کو رسائی دیتا ہے۔ ویزا لگ جانے کے بعد اس کو ماہانہ 2000 ڈالر خرچہ پانی دیا جاتا ہے، اور اس کے معاشی استحکام تک اس کو 45000 امریکی ڈالر دیے جاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود ایسے شخص کو یہ لوگ اتنی بڑی رقم کیوں فراہم کرتے ہیں؟ اتنا پیسا کیوں دیتے ہیں؟ اور اس کو امریکہ اور کینیڈا میں کیوں بلا لیا جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان سے کوئی اسلام کی خدمت اور اسلام کی حمایت کا کام تو لیا نہیں جاتا۔ بلکہ یہ لوگ پاکستان میں بیٹھے لوگوں کی سادہ لوحی اور معلومات کی کمی کا فائدہ اٹھانا، اور ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ ملک پاکستان اور اس میں بسنے والے موحدین کی حفاظت فرمائے. آمین
میرا مقصد ان لوگوں کی گندی سوچ، ذہنیت اور ان کے پیچھے چھپے پس پردہ حقائق کو سامنے رکھنا تھا، جو مجھے معلوم تھے، تاکہ روز قیامت اس پر اللہ میری پکڑ نہ کرے۔

Comments

Click here to post a comment