رات کے راز – نورین تبسم

رات کبھی ہماری مرضی سے، ہم سے اجازت لے کرنہیں آتی۔ وہ بس آ جاتی ہے کب کوئی چمکیلی صُبح، ایک بھری دوپہر مقدر کے مُہیب بادلوں کی زد میں آ کر ایک برستی کالی رات بن جائے، ہم نہیں جانتے۔ ہم تو اس سے بھی انجان ہیں کہ آنے والی رات کس کے ساتھ گزرے؟ کہاں گزرے؟ اس پر بھی ہمارا اختیار نہیں۔ دن کو ہوش ہوتا ہے، بھاگ سکتے ہیں، فرار کا حوصلہ بھی مل جاتا ہے، کچھ نہ بھی ملے اپنی مرضی سےآنکھیں بند تو کر سکتے ہیں۔ بھیگنے کے بعد اپنے آپ کوسنبھال سکتے ہیں۔ رات کی بارش تو سب بہا لے جاتی ہے۔ رات گزر ہی جاتی ہے۔ دبے پاؤں چپ چاپ۔ کبھی درد کی ایسی آخری رات بھی آتی ہے کہ لگتا ہے جس کے بعد تاریکی ہی تاریکی ہے، اور یہ رات کاٹے نہیں کٹتی۔

زندگی رات دن کے دائروں میں سفر کرتی بالآخر ختم ہو جاتی ہے، کئی روشن دن اندھیری راتوں کی آغوش میں غروب ہو جاتے ہیں۔ دن اگر پہچان ہے، شناخت ہے تو رات کی تاریکی بھی اپنے اندر اُجالے سمیٹے ہوئے ہے۔ سورج کی روشنی ہماری آنکھیں چُندھیا دیتی ہے جبکہ رات کے اندھیرے میں آنکھیں بند ہونے کے بعد یکایک جب کھلتی ہیں تو ایسی روشنی روح میں اترتی ہےکہ نئی دنیا، نئے منظر سامنے آجاتے ہیں ۔

انہی روز وشب کے اُتار چڑھاؤ میں کبھی نہ بھولنے والی راتیں بھی آتی ہیں۔ کچھ راتیں زندگی میں صرف ایک بار اُترتی ہیں، اسی لیے وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہتی ہیں۔ کردار بدلتے ہیں، رشتے بدلتے ہیں، لیکن رات ایک ہی ہوتی ہے۔ شب کی تاریکی عرفانِ ذات کی وہ منزلیں طے کراتی ہے جس کے دن کی چمک دمک میں صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔

کبھی شبِ دیجور فراقِ یار میں عشق کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے تو کہیں وصال ِیار کے رمز و آداب سکھاتی ہے۔
کبھی یہ ہجر میں وصال کی لذت سے آشنا کرتی ہے تو کبھی ملن کی انمول گھڑیوں میں جدائی کے نغمے سناتی ہے۔
کبھی بار بار ملنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے تو کبھی ایک بار مل کر ساری زندگی پر محیط ہو جاتی ہے۔
کبھی یہ محفل میں کٹتی ہے تو کبھی ذات کی انجمن میں۔
کبھی عشق ِمجازی کے دھوکے میں تو کبھی عشق ِحقیقی کی چاہ میں۔
کبھی کسی انجان کے پہلو میں توکبھی کسی نادان کی راہ میں۔
کبھی اپنے آنسوؤں کی حدّت میں توکبھی قہقہوں کی شدّت میں۔
کبھی سفر میں تو کبھی حضر میں۔
کبھی اجنبی راستوں پر نئی منزلوں کی تلاش میں تو کبھی دیکھے بھالے راستوں پر دھوکے کی چاہت میں۔
کبھی دوست کی قربت میں تو کبھی دشمن کی قدرت میں۔
کبھی پورے یقین کے ساتھ ہمسفر کے سنگ توکبھی کسی پردیسی کے ساتھ آگہی کے سفر میں۔
کبھی محرم تو کبھی نا محرم کے تذبذب میں۔
کبھی مہربان ساعتوں کی نوید لیےکسی کی کائنات کی قربت میں۔
تو کبھی ان چاہی منزلوں کے خوف میں اپنے وجود کی چادراوڑھ کرایک عالم ِتنہائی میں۔
کبھی بے وفائی کی خلش لیے تو کبھی امیدِ صبح نو کی تلاش میں۔
کبھی اپنوں سے دُور اپنے پن کے کھوج میں تو کبھی اپنی محبت کی آزمائش میں۔
کبھی کسی اندھیرے مدفن میں تو کبھی ابدی عطا کی لذت میں۔

کبھی یہ رات پوری زندگی پر پھیل جاتی ہے تو کبھی ایک پوری زندگی اس رات میں سما جاتی ہے اور پھر وصل ہی وصل، یکجائی ہی یکجائی۔ نہ دن نہ رات، بس وقت ہی وقت اور تصور حقیقت بن کر روح جگمگا دیتا ہے، اور وہی رات ہمیشہ خاص ہوتی ہے کہ اس رات کی صبح نہیں ہوتی۔ اس رات کی روشنی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ یہ ہمارے دن کی تابانی بن کر ہمارے خون میں دوڑتی ہے اور آنے والی راتوں کی تنہائی کا خوف دور کر دیتی ہے۔ وہ رات جو رات کے ختم ہونے کی گواہی ہے تو کبھی ایک نئی صبح کی آمد کی پیش رو بھی ہے۔

ہر رات کا اپنا حُسن اپنی دلکشی اپنی لذت ہوتی ہے، ایسی راتیں ہم میں سے ہر شخص کی زندگی میں اترتی ہیں، کوئی بےخبر رہتا ہے اور کوئی اُن کے ایک ایک لمحے کو کشید کر کے اپنے اندر اتار لیتا ہے۔ جس طرح زندگی میں کوئی رات پہلی بار آتی ہے۔ اسی طرح سفر تمام ہونے یا ایک نیا سفر آغاز ہونے سے پہلے کی آخری راتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسی آخری ہر رات بہت خاص ہوتی ہے لیکن ہر آخری رات کا ادراک ہمیں نہیں، اگرچہ لاشعوری طور پر کسی حد تک جان لیتے ہیں۔ وہ رات جو لوح ِمحفوظ پر تو رقم ہے، پر جب ہمارے جسم و جاں پر اُترتی ہے تو پھر ہی ہمیں اس کے اسرار و رموز سے آگاہی ہوتی ہے۔

ہماری زندگی میں دستک دینے والی دو آخری راتیں ایسی ہیں کہ جب ہم پر گزرتی ہیں تو صرف ہمارا لاشعور ہی اُن کا راز جان پاتا ہے۔ ان راتوں میں ایک رات تو دُنیا میں سانس لینے سے پہلے کی وہ آخری رات ہے، جب بچہ اندھیرے سےروشنی کے سفر کی جستجو میں ہوتا ہے، اور دوسری اس آئینۂ رنگ وبو کو برت کر ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں ڈوب جانے سے پہلے کی رات۔ عجیب سی مماثلت ہے ماں کی کوکھ اور دھرتی ماں کی آغوش میں۔ ان اندھیروں میں اگر ذرے سے زندگی کی نمو ہے تو فنا ہوتے ہوئے جسم کی ابدی بقا کا پیغام بھی ہے۔ ہماری عقل کی روشنی کبھی بھی ان اندھیروں کے راز نہیں جان سکی اور نہ ہی اُسے اس کی استعداد عطا ہوئی ہے۔

رات اور ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ وجود کی تکمیل کی گواہی ایک رات سے بڑھ کر کوئی نہیں دے سکتا۔ ہمارا اوّل و آخر وجود کی شناخت ہے جس کے حصول کے لیے کبھی محبت، کبھی عشق، کبھی ہوس، کبھی ضرورت تو کبھی مجبوری کے لبادے اوڑھ کر ہم دردر بھٹکتے ہیں۔ ایک روگ ہے جو جان نہیں چھوڑتا۔ کبھی کسی در کے سوالی تو کبھی خود داتا کا بھیس بدل کر اپنی خواہش کے بھکاری، کبھی زرق برق ملبوسات اور بیش قیمت بناؤ سنگھار میں اپنی تکمیل کے خواہش مند۔ جان کر بھی اَن جان بنتے ہوئے کہ یہ نشہ ہے، خمار ہے، جو وقتی ہے۔ آنکھ آگہی کے اُس لمحے کُھلتی ہے جب رات گُزر جاتی ہے، اور زندگی باقی رہ جاتی ہے۔ اور ہم حیران پریشان اپنے وجود کے چیتھڑے سمیٹے پھر کسی نئی منزل کی تلاش میں گھسٹتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری عقل بس یہیں تک ساتھ دیتی ہے کہ ہم اپنے آپ سے باہر نکل کر کبھی نہیں جھانکتے۔

اللہ کے کرم سے خیال کی طاقتِ پرواز بُلند ہو جائے تو روشنی کے جھماکے میں آنکھ یوں کُھلتی ہےکہ سب اُلٹ پلٹ ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ یہ ساری تلاش تو فقط گنتی کے دن رات پر محیط تھی جسے ہم نے اپنی زندگی کے لامحدود وقت پر ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ طلب بڑھتی گئی اور وقت گھٹتا گیا۔ اصل ساتھ تو اس رات کا ہونا چاہیے تھا جس کی تنہائی حشر تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ رات جو اپنے اندر اتنے عجائبات رکھتی ہے کہ کسی ہمدم کی قربت کے بنا ان سے نبرد آزما ہونا محض خسارہ ہی خسارہ ہے۔

اس رات کا انتظار ہماری روح کو شاید تخلیق کے پہلے لمحے سے ہوتا ہے اور تکمیل کے آخری پل تک اس کی چاہ مکمل نہیں ہوتی۔ اس کی جُزئیات تک جاننے کے باوجود ہم اس کی آمد کے احساس سے بھی بےخبر رہتے ہیں۔ اس لمس کا خوف تو ہماری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے، اس کی شدّت ہمیں ڈراتی بھی ہے، اور اپنی جانب کھینچتی بھی ہے، ہم ساری زندگی ”ہاں یا ناں“ کے بیچ گزار دیتے ہیں۔ کبھی اپنا آپ سنوارتے ہیں، محبوب کی پسند میں ڈھالتے ہیں، اپنے آپ کو اُس کے قابل بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ آئینے میں جائزہ لیتے ہیں کہ جب بلاوا آئے تو ناز و ادا کا کون سا جلوہ محبوب کو پسند آئے گا۔ کبھی تھک ہار کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتے ہیں. جب محبوب بے نیاز ہے، بااختیار ہے تو ہم جو بھی کر لیں، وہ راضی ہو یا نہیں، یہ اس کی صوابدید ہے۔ کبھی ہم اپنی زندگی آپ جیتے ہیں، بےخبر انجان یوں چلے جاتے ہیں کہ کوئی تکرار نہی،ں کوئی جھجھک نہیں، اور کبھی روتے پیٹتے لڑتے جھگڑتے زبردستی کا سودا کرتے ہیں، جیسے ناخوش دن گزارے رات بھی ویسی ہی کٹے کون جانے۔

یہ رات راز کی وہ رات ہے جو آشکار تو ہے لیکن اس کی حقیقت صرف اور صرف ”میں اور تو“ میں پنہاں ہے۔ کوئی شراکت نہیں، کوئی خیانت نہیں، جس وجود پر چھا جاتی ہے وہی اس کا ”امین“ ہے اور وہی ”حق الیقین“ ہے۔ اپنی زندگی میں آنے والی ہر رات کی قدر کرو، اس کو اپنا لو تو تمھیں کئی اندھیری راتوں کے آسیب سے پناہ مل جائے گی۔

”اللہ ایسی ہر اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح طلوع کرے.“ آمین یا رب العالمین۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam