تعلیم، ہنر اور مواقع سب کے لیے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جس عورت نے تعلیم حاصل نہیں کی، وہ ابھی آغاز کرے. جس کے پاس ہنر نہیں، وہ من پسند ہنر سیکھنے کا آغاز کرے. گھر، شوہر اور بچے سب سے اہم ضرور ہیں لیکن اتنی ہی اہم وہ عورت بھی ہے جو ان سب کو جوڑ بنا کر رکھتی ہے، اور اس کا کوئی نام نہیں ہوتا.

کوئی شرمندگی سے بتاتا ہے کہ میری والدہ ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ ہیں، اس وقت وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جب وہ دن رات پڑھ کر کچھ بن رہا تھا تو دن رات اس کی خدمت خاطر کرنے والی وہی ان پڑھ ماں تھی، جس کا تعارف اب اس کے لیے باعث شرمندگی ہے.

جب ایک کامیاب ویل ڈریسڈ شوہر اپنے سرکل میں اپنی وقت گزیدہ بیوی کا تعارف کرواتے ہچکچاتا ہے، تب بھول جاتا ہے کہ یہی عورت اس کے اسٹرگل کے زمانے کے فاقوں کی ساتھی رہی ہے. اس پر وقت کا روڈ رولر جس سختی سے گزرا ہے، اس کی بنیادی وجہ اس عورت کی ماضی کے فاقہ مست اور حال کے کامیاب شوہر کی مستقل مزاجی سے خدمت اور وفاداری ہے.

یہ عورت آج اپنے گٹےگوڈے اس لیے پکڑ کر بیٹھی ہے کہ اس نے جوانی اور تنگی ترشی کے زمانے میں اپنی جان کی طاقت سے بڑھ کر کام کیا تھا. لیکن آج یہ عضو معطل اور بےکار بوجھ بن گئی ہے، جس کے ساتھ سرکل میں موو کرنا مشکل ہے. ایسے وقت کے لیے عورت کا اپنا تعارف از بس ضروری ہے تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے.

جو حضرات اپنی بیوی بیٹی سے کام نہیں کروانا چاہتے، بالکل حق بجانب ہیں، لیکن اس وقت کے لیے تیار رہیں جب وہ نہ ہوں گے اور ان کی بیوہ، بیٹوں کے گھروں میں پنگ پانگ بنے گی. کم از کم وہ اپنی مسز کے لیے بیوگی کے زمانے کے لیے باعزت ٹھکانہ اور مناسب ذریعہ آمدنی چھوڑ کر جائیں کیونکہ ان کی خواہش کے احترام میں خاتون نے اپنی ذاتی شناخت مسز فلاں ہی رکھی. اسی طرح بیٹی کے مستقبل کے لیے بھی کوئی پلاننگ کر رکھیں، اگر کبھی وہ طلاق یافتہ ہوگئی یا بیوہ، یا کسی وجہ سے اسے کام کرنا ہی پڑا، تو کیسے گزر بسر کرے گی؟ کس بھابی کے تلوے چاٹے گی؟ کس طرح خود اپنا اور اپنی اولاد کا بوجھ اٹھائے گی؟

یہ بھی پڑھیں:   پہاڑوں کی عورت - سخاوت حسین

مجھے یہ کوئی نہ سنائے کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں، یا اللہ مالک ہے، وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا. یہ سب اسی دنیا کے حقائق ہیں . بےشک اللہ ہی مالک ہے، لیکن اس نے تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکا، نہ ہی مشکل وقت کے لیے تیاری کرنے سے منع کیا ہے.

اب بھی کسی کو خاتون کے تعارف یا شناخت کا معنی سمجھ نہیں آیا تو بہتر ہے کہ وہ جا کر کچی جماعت میں دوبارہ داخلہ لے.

رشتوں کا کال ان گھریلو بچیوں کے لیے ہے جو کم تعلیم یافتہ یا بے ہنر ہیں. حتی کہ اچھے سے اچھے خاندان کی کم تعلیم یافتہ لڑکی کا رشتہ ہونا مشکل کام ہے جبکہ کسی عام سے گھرانے کی باہنر بیٹی نہ صرف اپنے خاندان کا تعارف بن جاتی ہے بلکہ اس کے لیے زندگی میں اچھا رشتہ حاصل کرنا واحد مقصد زندگی نہیں ہوتا.

میرے کالج میں بابا سلامت ایک نہایت شریف النفس ملازم تھے. نائب قاصد کے عہدے پر ہونے کے باوجود ان کا ایک معیار اور وقار تھا کہ بڑے بڑے پروفیسرز بھی ان کو ادب سے مخاطب کرتے تھے. مجھ پر خصوصی شفقت فرماتے. ایک روز مجھ سے میری پچھلے سالوں کی کتب مانگیں. وجہ پوچھنے پر بتانے لگے کہ میری بیٹی کا میڈیکل کالج کا میرٹ آ گیا ہے. میرے پاس تو اتنا نہیں تھا کہ میں اسے پڑھا سکتا، وہ خود ہی پوزیشن لیتی رہی، وظیفے پر پڑھتی رہی، اب اس کا داخلہ کے ای میں ہو گیا ہے. میرے پانچ بیٹوں میں سےکوئی بھی دسویں جماعت سے آگے نہیں گیا، اور سب میری طرح لاہور کے مختلف کالجوں میں چپراسی لگے ہوئے ہیں، ہمارے محلے میں ہم چپڑاسیوں کا گھرانہ مشہورہیں. میں بیٹی کو پرایا مال سمجھتا تھا اور اس کی تعلیم کے خلاف تھا. بیٹوں سے امید تھی اور انہیں پڑھانے کی پوری کوشش بھی کی، لیکن دیکھیں قدرت نے مجھے یہ کیسا دن دکھایا ہے. آج میرے اللہ نے مجھے ڈاکٹر بیٹی کا باپ بنا دیا ہے، اس نے میری پہچان بدل دی ہے. میں اپنی بیٹی کو چپڑاسی کی بیٹی اور چپڑاسی کی بہن ہی بنا سکا تھا، اس نے ہمارا گھر ڈاکٹر کا گھر بنا دیا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   "باپ، بچے اور بد سلوکی" - خواجہ مظہر صدیقی

یہ فرق ہے بیٹی اور بیٹے کے احساس ذمہ داری اور تعلیم میں

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں