اہل تصوف اور ان کی تعلیمات – سید قاسم علی شاہ

کسی بھی معاشرے میں مکالمے کا ہونا اس کے صحت مندانہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ مکالمہ اس بات کی علامت ہے کہ سوال اٹھ رہے ہیں، جواب آ رہے ہیں، تلاش جاری ہے، تلاش کرنے والا پا رہا ہے، سوچنے والے ذہن ابھی مٹے نہیں ہیں اور معاشرے میں فکری لحاظ سے ابھی جان باقی ہے۔ لیکن بغیر پڑھے، جانے، پرکھے اور سمجھے بات چیت ہوگی تو معاشرے کی فکر کو قفل لگ جائے گا، پھر وہ ارتقائی مراحل کی طرف نہیں جائے گا۔

ہر وہ بندہ جو روحانیت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں ہی حق پر ہوں، جس کی بنا پر عام شخص کےلیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ میں کس کی پیروی کروں؟ حالانکہ اس کا آسان حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ جو بندہ شریعت پر عمل کرتا ہےاور اللہ اور اس کے رسولﷺ کا کہا مانتا ہے، وہی حق پر ہوتا ہے۔ ایک شخص کسی صاحب کرامت بزرگ کے پاس ں ان کی کرامت دیکھنے کی نیت سے گیا، وہ شخص ان بزرگ کے پاس ایک ماہ رہا، اسے کوئی کرامت نظر نہ آئی تو اس نے واپسی کا ارادہ کیا، جب وہ جانے لگا تو بزرگ نے بلا کر پوچھا کہ تم مجھے پشیمان سے لگ رہے ہو، کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اس گمان کے ساتھ آیا تھا کہ آپ صاحب کرامت ہیں، اور میری یہ نیت تھی کہ میں بھی آپ کی کوئی کرامت دیکھوں لیکن مجھے کوئی کرامت نظر نہیں آئی. بزرگ نے اس سے سوال کیا کہ ایک ماہ میں تم نے میرا ایک کام بھی شریعت کے خلاف دیکھا، اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں، بزرگ نے فرمایا کہ میری سب سے بڑی کرامت یہی ہے کہ میں شریعت پہ عمل کرتا ہوں، اس سے بڑی کرامت میں نہیں دکھا سکتا۔ ہمارے پاس سب سے بڑی کسوٹی سرکاردوعالمﷺ کی سیرت مبارکہ ہے، اگر ہم سیرت رسولﷺ کو معیار بنا لیں تو بڑا آسان ہو جائے گا کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط۔

حضرت علی بن عثمان ہجویری ؒ تصوف کا بہت بڑا نام ہیں، آپ ؒ ان بزرگان دین میں شامل ہیں جنہوں نے برصغیر میں اسلام کی شمع روشن کی. آپؒ کے آنے کی وجہ سے کفر کا اندھیرا مٹ گیا۔ آپؒ نے اپنے نظریات کو اپنی کتاب کشف المحجوب میں انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ دنیا میں جس طرح انسانوں، قوموں اور معاشروں کی زندگی ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے نظریات کی بھی زندگی ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ آج صدیاں گزرجانے کے باوجود بھی آپؒ کی کتاب کشف المحجوب اور آپؒ کا پیغام اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اس کتاب کو کلاسیکل تصوف کی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس نے بھی اس کتاب کو پڑھا، وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوا کہ آج جس کو تصوف کہا جاتا ہے، اصل میں وہ خرافات اور بدعتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آپ ؒ کے مطابق اگر کسی میں طمع، لالچ اور دکھاوا ہے تو وہ تصوف نہیں ہے، بلکہ وہ کفر ہے، اصل تصوف تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور محبت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے متعلق حضرت نظام الدین اولیاء ؒ نے فرمایا کہ جسے پیر نہیں ملتا، وہ اس کتا ب کو پڑھ لے، اسے پیر مل جائے گا۔

ایک شخص حضرت بایزید بسطامی ؒ کے پاس گیا اور کہا کہ حضرت آپ ؒ مجھے اپنے خرقے کا ٹکڑا عنایت فرما دیں تاکہ مجھے بھی فیض مل سکے۔
آپؒ نے فرمایا ”تم خرقے کی بات کرتے ہو، اگر تم بایزید کی کھال بھی پہن لو تو بایزید والا نتیجہ حاصل نہیں کرسکتے. وجہ یہ ہے کہ جب تک بایزید کی نیت تمہارے پاس نہیں ہوگی، یہ خرقہ اور کھال سے بات نہیں بنےگی۔“ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے میں خلوص نیت اور تقویٰ ختم ہوگیا ہے. جب یہ چیزیں ختم ہو جائیں تو پھر چاہے الحاج لکھا جائے، پیرطریقت لکھا جائے، یا کچھ اور لکھ دیا جائے، اندر وہ کردار پیدا نہیں ہوگا جس کی بات حضرت علی بن عثمان ہجویری ؒ کرتے ہیں۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے پاس فرشتے کے روپ میں شیطان آیا، اور اس نے کہا کہ میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نمازیں معاف کر دی ہیں. آپؒ نے لاحول ولاقوۃ اِلا باللہ پڑھا اور کہا کہ اگر رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نمازیں معاف نہیں ہوئیں تو میری نماز کیسے معاف ہو سکتی ہے۔ شریعت کو چھوڑ کر ممکن نہیں ہے کہ تصوف کے راستے پر چلا جا سکے. بنیادی چیز شریعت ہے، شریعت کے اخلاص کا نام تصوف ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور اطاعت کا تعلق قائم کرنا صوفی ازم کہلاتا ہے۔

آج جن کرامات کو کرامت سمجھا جاتا ہے، وہ تمام کرامات تو ایک غیر مسلم بھی کر کے دکھا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صوفی وہ ہے جس کی مجلس، محفل اورگفتگو بندے کو اللہ کی یاد دلا دے۔ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے تم یہ مانگو کہ میری خواہش پوری ہو، میں کچھ مانگوں تو آپ کی خواہش ہی بدل جائے۔ صوفی وہ ہوتا ہے جو خواہشوں کو بدل دے، جو دنیا مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑدے۔ آج ہماری ترجیح میں سکون قلب نہیں رہا، ہم نے سوچ لیا ہے کہ اگر چیزیں آئیں گی تو سکون ملے گا. یہی وجہ ہے کہ سب کچھ تو ہے لیکن سکون نہیں ہے۔ ایک شخص کسی بزرگ کے پاس چلا گیا اور ان سے کہا کہ کیا میری فلاں جگہ پر شادی ہو جائےگی، وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ میں سمجھ رہا تھا کہ تم یہ سوال کرو گے کہ اگر میری یہاں پر شادی ہوگئی تو کیا مجھے سکون ملےگا۔ آج ہم خواہشوں کے غلام ہوگئے ہیں، اور جب بندہ خواہشوں کا غلام ہوتا ہے تو پھر سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ حضرت علی بن عثمان ؒ فرماتے ہیں:
”وہ فرد، وہ لوگ، وہ معاشرے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع نہیں ہوتے، وہ نفس کے غلام بن جاتے ہیں، اور ان کی زندگیوں سے برکت ختم ہو جاتی ہے. ہماری زندگی میں اللہ اور اللہ کی محبت کی کتنی اہمیت رہ گئی ہے؟ اگر وسائل ہیں، طاقت ہے، آسانیاں ہیں، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو پھر یہ توفیق الہی ہے.“

باباجی اشفاق احمد فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں بانٹنے کا شعور اور توفیق عطا فرمائے“۔ توفیق اصل میں وہ کرم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سے کام لے لے، توفیق وہ کرم ہوتا ہے کہ روٹی پوری ہونے کے باجود آدھی کسی کو کھلا دی جائے اور آدھی خود کھا لی جائے۔

ایسی چیز جو پسند نہ ہو لیکن ناپسندیدگی کے باوجود رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رہے تو یہ کرم ہے. گھر، گاڑی، عزت، شہرت کے باوجود اگر رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف رہے تو یہ کرم ہے، اور اگر زندگی میں کوئی غم، پریشانی، یا مشکل آجائے، لیکن پھر بھی رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف رہے تو یہ کرم ہے۔ حضرت علی بن عثمان ؒ فرماتے ہیں: ”اگر تم نے نفس کو طاقت دی تو یہ کرم نہیں ہے، نفس نے غلبہ پا لیا تو یہ کرم نہیں ہے، اگر علم حجاب بن گیا تو یہ کرم نہیں ہے“۔

آج کے پی ایچ ڈی بیٹے کو اگر اپنی ماں ان پڑھ لگتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے علم نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے، اور اس کا پی ایچ ڈی ہونا بھی کرم نہیں ہے. آج اگر بیٹا امیر ہو یا ہے اور اسے اپنا باپ غریب لگتا ہے تو اس کی امارت نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے، اور اس کا امیر ہونا بھی کرم نہیں ہے، آج اگر کوئی عہدے پر بیٹھ گیا ہے، اور اگر اسے دوسرے لوگ چھوٹے لگتے ہیں تو اس کا عہدہ اس کے لیے پردہ بن چکا ہے، اور اس عہدے کا بھی ہونا کرم نہیں ہے. کرم تو یہ ہے کہ سب کچھ پاس ہو مگر رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رہے۔

صوفیائے کرام کی تبلیغ میں محبت تھی، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے کلمہ پڑھ لیا، کیونکہ محبت وہ چیز ہے کہ اگر بوڑھیا کوڑا پھینکتی ہے تو نہ راستہ بدلا جاتا ہے اور نہ ہی بدلہ لیاجاتا ہے، بلکہ عیادت کی جاتی ہے اور معاف کر دیا جاتا ہے، پھر اس کا نتیجہ کلمہ پڑھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ حضرت علی ہجویریؒ سے فیض لینے والے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ لاکھوں لوگوں کو مسلمان کر دیتے ہیں۔ یہ محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ اجودھن پاکپتن بن گیا۔ محبت اور خلوص کے بغیر تبلیغ ممکن نہیں، صرف نصیحت کرنے یا بات کہہ دینے سے تبلیغ نہیں ہوتی. حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”بغیر تعلق کے تبلیغ ایسے ہی ہے جیسے غیر زبان میں تقریر“، لوگوں کو اپنا بنانا اور پھر اپنا بنا کر ان سے بات کرنا صوفیا کا کام ہے۔ جب محبت کا پودا لگایا جاتا ہے، یا کسی کو محبت سے دیکھا جاتا ہے، یا راستہ دیا جاتا ہے، یا آسانی پیدا کی جاتی ہے، تو محبت چلنے لگ پڑتی ہے، پھر چاہے پیغام حضرت با با بلھے شاہؒ کا ہو، علی ہجویریؒ کا ہو، سلطان باہوؒ کا ہو، نظام الدین اولیاء ؒ کا ہو، صابر پیا ؒکا ہو یا کسی بھی بزرگ کا ہو، وہ پھل دینا شروع کر دیتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پیغام محبت کو پھیلایا جائے، اس کی بات کی جائے، اس کو لٹریچر میں شامل کیا جائے تاکہ معاشرے سے شدت پسندی کو ختم کیا جا سکے، اور آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ اللہ پاک ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے۔ آمین

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam