بےنظیر، واہ زرداری، آہ زرداری - نورین تبسم

اِک قطرۂ خوں سے نئی زندگی کی نوید دے کر اور پھر اپنے جسم و جاں کی تمام تر توانائی نچوڑنے کے بعد عورت کا خون اتنا ارزاں اتنا بےمول کیوں ہو جاتا ہے کہ وہ جو اپنی تخلیق کا ببانگ دہل اعلان کرتی ہے، اُس کا اپنا خون زمین پر گرنے کے بعد محض پانی کے فواروں سے یوں صفحۂ ہستی سےمٹا دیا جاتا ہے کہ ہاتھ کے نشان چھوڑو، اپنے چاہنے والوں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کے اذہان بھی بےحس ہو جاتے ہیں۔

عورت کہانی بس اتنی ہی ہے جتنی اُس کی زندگی ہے۔ اُس کے رنگ، اُس کی چمک، اُس کا علم، اُس کی قابلیت کی چکاچوند زندگی بھر کسی کو رشک تو کسی کوحسد میں مبتلا رکھتی ہے لیکن اُس کی تلاش کا سفر جاری و ساری رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ عورت کی جہدِمسلسل اُس کی ”گریس“ ہے ورنہ ناقدری اور ہوس زدہ رویوں کا کُھردراپن رگڑ کی صورت اُس کے وجود پر خراشیں ڈالتا رہتا ہے۔ عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اسے ٹشو پیپر بھی نہیں رول ٹشو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ عورت بےنظیر ہے، بخت آور ہے، چاہے وہ بگولوں کی زد میں کیوں نہ ہو۔

کہانی ختم ہو گئی یا کہانی شروع ہو گئی، کوئی نہیں جانتا اور ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کہانی کب شروع ہوئی۔ زندگی کی کتاب میں بکھری کہانیاں ہمیں کبھی سمجھ نہیں آتیں۔ ہم صرف اُن کے رنگ دیکھتے ہیں، ذائقے چکھتے ہیں، لمس محسوس کرتے ہیں، آوازیں سنتے ہیں اور اُن کی مہک اپنے اندر سموتے ہیں۔ ہم صرف دیکھتے ہیں، نہیں جانتے کہ انمٹ پھیکے بدنما رنگ، کڑوے ذائقے، کیکر لمس، کرخت آوازیں اور ناقابل ِبرداشت بھبھکے کسی کی مقدر کہانی میں کیوں لکھے جاتے ہیں؟ اور سدا بہار رنگوں سے سجی شیریں لذتیں، ریشمی لمس، سریلی اور رسیلی چہکاروں سے مہکتے ماہ و سال کیوں دوسروں کو احساس ِکمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں؟ ہم میں سے اکثر کی زندگی ساغر صدیقی کے اس شعر کی مانند گُزرتی چلی جاتی ہے۔
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

دیکھتی آنکھوں کی بعض کہانیاں ایسی پُراسرار ہیں کہ سرتوڑ کوشش کے باوجود کوئی سرا کہیں سے بھی ہاتھ نہیں لگتا۔ ایسی ہی ایک کہانی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے ایک گمنام امیر زادے کی بھی تھی جو ایک چھوٹے سے شہر میں بسنے والے خاندان کے پر آسائش ماحول میں سانس لیتا تھا۔دوستوں کے محدود حلقہ احباب میں مطمئن و مسرور، تعلیمی مدارج معمول کے انداز میں طے کرتا، بظاہر اُسے کسی چیز کی ہوس نہ تھی۔ اُس کی خواہشات ضرورت کی سیڑھی پر پہنچنے سے پہلے ہی پوری ہوتی رہتیں۔ نہ جانے اُس کی کون سی صفت کس کو بھائی کہ اُسے ایک شہزادی کے ہمسفر کے طور پر چُن لیا گیا۔ وہ شہزادی، جو اس لمحے خود اپنی کھوئی ہوئی شناخت کی تلاش میں تھی۔ کسی تعصب سے قطع نظر دیکھیں تو بندھن کہانی کے آغاز میں شہزادی کے پاس قابل ِفخر خاندانی پس منظر، شاندار ماضی، اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور تگ و دو کرتے حال کے سوا کیا تھا۔ اُس کا مستقبل ابھی اُمیدوں اور اندیشوں کے بیچ ہلکورے لیتا تھا اور اس مرد ِبےنام کے پاس اپنے نام سے جُڑے زر کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان میں کوئی قدرمشترک نہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

شہزادی سے اگر ایک زمانہ آشنا تھا تو یہ شہزادہ شاید ابھی خود شناسائی کی منزل سے بھی بہت دور تھا۔ اسی تضاد کے ساتھ ایک رشتے کی بنیاد رکھی گئی تو کہانی اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ عام عوام تو کیا اُس کے کرداروں نے بھی کبھی اس کا تصورنہ کیا ہوگا۔ اقتدارکی مسند میں شراکت داری کے بعد پھر ”اُس“ نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ تک کے سفر میں قوم نے جو کھویا سو کھویا، لیکن اُس نے بھی بہت کچھ کھو کر کیا کچھ پایا، یہ ہم کبھی نہیں جان سکے۔

حاکمیت کی غلام گردشوں کی چکاچوند میں رہ کر بھی اُس کی ذات، اُس کے افعال پر دبیز پردے ہی پڑے رہے، ڈھونڈنے والے لاکھ کوشش کے باوجود کہیں بھی اس پتھر صورت میں خون ِناحق کا ایک قطرہ تلاش نہ کرسکے۔ معذرت کے ساتھ یہ اُس کی فتح نہیں ساری دُنیا کی نا اہلی تھی۔ صرف ہم پاکستانی نہیں، اقوام ِعالم کے انسانی حقوق کے علم برداروں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا کہ جو اس کھلے راز کا پردہ چاک کر سکا ہو۔ آنکھوں دیکھا کانوں سنا سب سچ ہے تو پھر یہ بھی حق ہے کہ پاکستان میں رہنے والے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں اور دیارِ غیر میں بسنے والے محب ِوطن پاکستانیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا جو اصل حقیقت جاننے کے بعد اسے سامنے لانے کی جۂرات بھی رکھتا ہو۔

پاکستان کا امیر ترین اور سب سے کرپٹ شخص ہونے کے تمغے سے لے کر، اپنے بچوں کی ماں اور ہماری قومی لیڈر کے سرِعام بہنے والے خون کےخراج تک ہر قسم کا الزام اُس پر لگ چکا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ہمارے ملک کے سب سے اعلیٰ عُہدے پر فائز رہا اور پیٹھ پیچھے اُسے رکیک سے رکیک الزامات سے نوازنے والے اُس کے سامنے ”جناب ِصدر“ کہتے کورنش بجا لاتے۔ وہ اپنی کرپشن کی چھڑی گھما کر یا ہلاکو خان کی طرح کھوپڑیوں کے مینار سجا کر اس تخت ِشاہی تک نہیں پہنچا تھا، ہم عوام نے خود اُسے کاندھوں پر اُٹھا کر اس جگہ پر بٹھایا۔ اُس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ہم ایک شخص کو اپنے گھر کے دروازے پر پہرے دار تعینات کریں، اور نہ صرف گھر کے تمام کمروں بلکہ اُن کی خفیہ تجوریوں تک بھی رسائی دے دیں اور پھر آسمان سر پر اُٹھا لیں کہ وہ چور ہے، ڈاکو ہے، قاتل ہے، نااہل ہے۔

دُکھ کی بات یہ نہیں کہ اُس نے ہمارے ملک کو اور ہمیں ناقابل ِتلافی نقصان پہنچایا۔ بلکہ دُکھ یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم فہم و فراست کے امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ کوئی بھی عالم فاضل اور بڑی سے بڑی ڈگری لینے والا اُس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ عام عوام کا تو کیا کہنا، جتنی بددعائیں اور کوسنے اُسے پڑے، اُس کی سات پشتیں بھی کم ہیں ان کے اثرات سے فیض یاب ہونے کے لیے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر وہ واقعی وہی کچھ تھا جس کے چرچے زبان زد ِعام ہیں تو اپنی منصوبہ بندی اور اپنے ٹیلنٹ میں کمال کا آدمی تھا۔ کاش اُس کی یہ جہت مثبت انداز میں ہوتی تو شاید ہم دُنیا کی سپر پاور بن جاتے۔ لیکن ہم عقل سے عاری جذباتی لوگوں کی وہ قوم ہیں جو پہلے خود ہی کسی کو اپنا مختارِکُل بناتی ہے، اورجب وہ اپنی من مانی کرتا ہے تو نجس جانور سے تشبیہ دیتے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کیے دھرے میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ جب وہ کرسی سے اُتر جاتا ہے یا اُتار دیا جاتا ہے تو اس کے جانے کے بعد اُس کے گن گانے لگ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں جو کھلی آنکھوں سے عیاں ہیں، اور یہ وہ سبق ہے جو ہر پڑھا لکھا یا جاہل بخوبی جانتا ہے۔ ڈر ہے تو اُس وقت کا جب اُسے برا بھلا کہنے والے ہمیشہ کی طرح سر پر بٹھائیں گے کہ یہی ہمارا وطیرہ رہا ہے۔ لیکن کیا ڈرنا، ہم ڈھیٹ قوم ہیں جس کا ”ہاضمہ زبردست اور حافظہ کمزور“ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

ڈرنا صرف اللہ کے عذاب سے چاہیے کہ ابھی اس کی رسی دراز ہے۔ ہمارا مالک ہمیں گرنے کے بعد سنبھلنے کے مواقع دیے جا رہا ہے،گناہوں میں لت پت ہونے کے باوجود توبہ کے دروازے کھلے ہیں ابھی۔گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سے صبحِ نو کے اشارے مل رہے ہیں۔ وقت کی باگ ٍڈور ابھی ہمارے ہاتھ سے نکلی نہیں۔ ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ اُس پرگرفت مضبوط رکھنی ہے، اندھا دھند تو ریس کے گھوڑے بھی نہیں بھاگتے، اُن کے سامنے بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔آنکھوں پر پٹی باندھ کر صرف وہ دوڑتے ہیں جن کو اپنے سواروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی، اور تماشائی اُن کی چیخوں سے حظ اُٹھاتے ہیں۔

آخری بات!
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ایوریج تعلیمی معیار کا حامل ”محض ایک شخص“ ساری قوم کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے (محض ایک شخص اس لیے کہ ہم نے ہمیشہ اس نام کو ہی ساری برائیوں کا گڑھ قرار دیا، کبھی کسی نے اس کے پیچھے کسی لابی، کسی سُپر پاور، کسی مافیا کا ذکر نہیں کیا)، پوری دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے تو ہمارے بڑے بڑے دماغ اگر اپنی صلاحیتیں ملک و قوم کے لیے وقف کرنے کا تہیہ کر لیتے تو پھر ہم نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ افسوس ہم آج تک اپنی ذات کی بقا اور اپنے وجود کی شناخت کی جدوجُہد میں ہی لگے رہے۔

اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں مستقبل میں وہ فیصلے کرنے کی توفیق نہ دے جن پر بعد میں پچھتانا پڑے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں