شادی شدہ زندگی اور خواتین کا کردار - نیر تاباں

جیسے کسی ندی میں پتھر پھینکا جائے تو ارتعاش پیدا ہوتا ہے، اسی طرح گھریلو زندگی میں جب مسائل پیدا ہوں تو ان کا ripple effect بہت دور تک جاتا ہے۔ خوشگوار گھریلو زندگی کے لیے سبھی کو اپنی اپنی جگہ کوشش کرنی ہوگی لیکن چونکہ دوسرے کو بدلنا آسان نہیں تو آئیے خود میں کچھ ایسی تبدیلیاں لائیں جن سے گھر میں سکون اور خوشیاں پیدا ہوں۔ میری مخاطب اس سلسلے میں آج بہنیں ہیں، بھائیوں کی شامت کسی اور دن پر رکھتے ہیں۔ :)\n\nشوہر جب گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں تو رستے میں billboards پر مسکراتی لڑکیوں پر نظر پڑتی ہے۔ آفس داخل ہوتے ہی ریسیپشن سے ایک مسکراتا ہوا سلام استقبال کرتا ہے۔ سارا دن سجی سنوری خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتی کولیگز کے ساتھ گزرتا ہے، فیس بک آن کریں تو وہاں بھی مسکراہٹیں لیکن گھر کر اندر آتے ہی بیوی پر نظر پڑتی ہے جو کسی اور کام میں مشغول دور سے ہی سلام کر دیتی ہے، مسکراہٹ تو دور کی بات، پاس بھی کم ہی آتی ہے۔ تو سب سے پہلی تبدیلی تو یہ لے کر آنی ہے کہ میاں کو اچھے طریقے سے ویلکم کریں۔ نہیں بھی دل کر رہا تو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر مسکرا دیں، صدقہ سمجھ کر مسکرا دیں۔\n\nدوسری چیز یہ کہ شوہر کے آنے سے دس منٹ پہلے خود کو freshen up کر لیں۔ شاور کا ٹائم نہیں تو کپڑے بدل لیں تاکہ بھنے مصالحے اور لہسن کے تڑکے کی بو آپ سے نہ آ رہی ہو۔ نیچرل سی لپ سٹک، کاجل، ہلکا سا پرفیوم، بس اتنا ہی! دوسرے سے زیادہ آپ کو خود اپنا آپ اتنا اچھا لگے گا کہ مسکرانا مزید آسان ہو جائے گا۔\n\nبہت پہلے کسی نے کہا تھا کہ بیوی کو محبت اور شوہر کو عزت چاہیے ہوتی ہے، یہ ملتی رہے تو شادی شدہ زندگی خوشگوار گزرتی ہے۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ دونوں کو دونوں ہی چیزیں چاہییں۔ بیوی کو بھی عزت ملنی چاہیے، اور شوہر سے بھی محبت کا اظہار ہونا چاہیے۔ دوسرے کو بدلنا چونکہ ہمارے اختیار میں نہیں، فی الحال سارا فوکس ہم اپنی ذات پر کریں۔ شوہر کو عزت بھی دیں اور محبت بھی۔ اس کو کھانا دے دینا، کپڑے استری کر دینا ہی کافی نہیں، آگے بڑھ کر اور کھل کر محبت کا اظہار کریں کیونکہ competition بہت ہے۔ کیسے کیسے محبت کا اظہار کیا جائے؟\n\nایک تو یہ کہ بغیر وجہ کے\n”yes, I love you. Always will!“\n”Nothing. Just thought to remind I love you.“\nکی طرح کے میسج کر دیا کریں۔ ہلکے پھلکے سے۔ اور کبھی بھی ”love you too“ کی توقع نہ رکھیں۔ جواب آ جائے تو اچھی بات، نہ بھی آئے تو گمان رکھیں کہ دل پر کہیں نہ کہیں اثر کر دیا ہوگا۔\n\nدوسرا کام یہ کریں کہ لنچ باکس کے اندر ایک چھوٹا سا نوٹ لکھ کے رکھ دیا کریں۔ چند الفاظ، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کے ہونے کا احساس دلا دیں۔ اگر خود لکھنا نہ سمجھ آئے تو lunch notes for husband سرچ کر کے آئیڈیاز لے لیں۔ شوہر کے acknowledge کرنے کی توقع نہ کریں۔\n\nیہ تو تھے فوری کرنے والے آسان کام۔ اب آئیں کچھ ایسی عادتوں کی طرف جس سے شوہر سخت کوفت کھاتے ہیں اور عورتیں بالکل باز نہیں آتیں۔\n\nسب سے پہلی بات تو یہ کہ ہر وقت کے طعنے دینا۔ Pick your battles! چھوٹی موٹی باتوں کو جانے دیا کریں۔ ہر بات پر محاذ کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں جو ضروری ہو، اس پر بےتکان بولنے سے پہلے دماغ میں سوچ لیں کہ اب مسئلے پر مجھے میاں سے بات کرنی ہے، کیا کہنا ہے، الفاظ بھی سوچ لیں۔ پھر بات کرنے سے پہلے رب اشرح لی والی دعا پڑھ کر ان سے بات کر لیں۔ کوشش پوری کریں کہ سسرال کو زیادہ ڈسکس نہ کریں۔ جیسے آپ کو آپ کے ماں باپ بہن بھائی عزیز ہیں، اسی طرح اسے اس کے پیارے عزیز ہیں۔ سسرال کو لے کر خواتین کو عموماً دو ہی مسائل ہوتے ہیں؛ پیسہ ادھر لٹاتے ہیں یا محبتیں وہاں لٹاتے ہیں۔ اپنے آپ کو یہ سمجھائیں کہ رزق اللہ کی دین ہے۔ وہ انھی لوگوں کے نصیب کا اللہ نے میرے شوہر کو دیا ہوگا۔ اگر آپ اس بات پر جھگڑیں گی، دے گا تو وہ پھر بھی لیکن آپ کو پتہ نہیں لگنے دے گا۔ سسرال میں بھی بری مشہور، شوہر کے دل سے عزت بھی گئی، حالانکہ جو آپ کے نصیب کا ہے وہ تو اللہ تعالی آپ کو دو پہاڑوں کے درمیاں سے بھی عطا کر دیں گے، پھر جھگڑا کاہے کا؟ اور رہی بات محبتوں کی، یاد رکھیں، اگر شوہر کے دل میں جگہ بنانی ہے تو اسے اس کے پیاروں سے محبت کرنے پر نہ ٹوکیں۔ محبت بھی اللہ تعالی ہی دل میں ڈالتے ہیں۔ آپ کے زور زبردستی سے تو آپ اپنا رہا سہا مقام بھی کھو دیں گی۔ ہاں شوہر سے ہر طریقے سے محبت کا اظہار کرتی رہیں تو وہ سب پلٹ کر واپس آئے گا. ان شاء اللہ!\n\nاسی طرح ایک ہی بات کی بار بار تکرار بھی مناسب نہیں۔ نہ ہی کئی سال پہلے کی باتوں کا بار بار تذکرہ کیا جائے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ communication gap ہو اور کبھی اس سے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار ہی نہ کریں لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ زیادہ چیزوں کو قبول کر لیں، کچھ باتوں پر سٹینڈ لیں جو واقعی اس قابل ہوں، الفاظ بھی مناسب ہوں، لہجہ بھی بےعزتی کرنے والا نہ ہو، اور دونوں اس بات کو ڈسکس کر لیں۔ شوہر کا آپ کی بات سے متفق ہونا ضروری نہیں لیکن آپ کہہ دیجیے کیونکہ کہے بغیر دل کا حال صرف اللہ تعالی ہی جانتے ہیں۔ شوہر کے مزاج کی وجہ سے اگر بات کرنا مشکل لگے تو مختصر مگر جامع الفاظ میں بات لکھ کر کہہ دیجیے۔ ای میل یا ٹیکسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔\n\nہر ہر بات اپنے گھر والوں تک فوری پہنچانے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر یہ لگے کہ حالات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں تو ایسے میں اپنے بڑوں کو ساتھ شامل کیجیے۔ ان کی دعا بعض اوقات وہ کرشمے کرتی ہے جو ہماری ہر کوشش مل کر نہیں کر پاتی۔\n\nایک بہت اہم بات: فیس بک پر دیکھ دیکھ کر، یا خواتین کے بتانے پر یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ فلاں کا شوہر بہت اچھا ہے، اس کو گھماتا پھراتا ہے، مہنگے تحائف لے کر دیتا ہے۔ اس کے گھر کی پریشانیاں آپ کو نہیں معلوم۔ اپنے شوہر کا دوسروں کے شوہر کے ساتھ موازنہ کر کے اپنی اور شوہر کی زندگی مشکل نہ بنائیں۔ عین ممکن ہے کہ اس کا شوہر گھر میں کام میں کوئی مدد کرتا ہو نہ اس کو میکے والوں سے ملنے دیتا ہو، چھوٹی چھوٹی بات پر بےعزتی کر دیتا ہو لیکن آپ سے یہ سب باتیں مخفی ہوں۔ خود موازنہ کریں نہ شوہر کو ایسی کوئی بات جتائیں۔\n\nاس کے علاوہ یہ کہ کھلے دل سے صدقہ کیا کریں، دعاؤں کی قبولیت کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں، اور چونکہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا کروانا شیطان کا پسندیدہ کام ہے تو شیطان کو بھگانے کے لیے سورۃ البقرۃ کی تلاوت کو روٹین بنا لیں کیونکہ حدیث میں آتا ہے جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔\n\nمیری دعا ہے کہ ہر گھر میں میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اتنی محبت اور عزت ہو اور یہ تعلق اس قدر مضبوط ہو کہ شیطان کا ہر وار اور ہر ضرب خالی جائے۔ آمین!\n\nشوہر کےلیے مفید مشورے اس لنک پر ملاحظہ کریں\n شوہر بیوی کو خوش کیسے کرے؟

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.