ماں کا دُکھ – نورین تبسم

اپنے ذاتی مسائل سےاُلجھتے\0 معاشرے کے حالات پر کڑھتے اور سیاست کے تڑکے پر طنز کرتے ہوئے پکے گھروں میں رہنے والے دوسرے پاکستانیوں کی طرح ہم سب اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ دہشت گردی، حادثات اور ناگہانی آفات کی خبریں صرف خبریں ہی رہتی ہیں جب تک ہم ان کا حصہ نہیں بنتے۔ بظاہر ہر فورم پر کتنی ہی بےچینی کا اظہار کریں لیکن اندر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ لاشعوری طور پر ہی کیوں نہ ہوں\0، ہمارے رشتےناطے، محبتیں نفرتیں ہمارے اپنے حصارکے اندر ہی پھلتی پھولتی ہیں۔ ہم سب دبے لفظوں ”سانوں کی“ کی گردان کرتے اپنے روز و شب بتاتے چلے جاتے ہیں۔ عورت ہو یا مرد اُن کی ”حساسیت“ اپنے مفاد کی چھاؤں میں ہی پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح ماؤں کے لیے اُن کے اپنے بچے، اُن کے دکھ، اُن کے سکھ ہی خاص ہوتے ہیں۔\n\nلیکن! مامتا کا جذبہ سانجھا ہے۔ ماں کا احساس ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ چاہے وہ تخلیق کا اولین کرب ہو یا جدائی کی گھڑی کے طویل تر ہونے کا احساس۔ وہ ماں جس کے بچے اس کے ساتھ، اس کے پاس رہتے ہیں، اس کی زندگی کا جواز، اور اس کے صبح و شام کا حساب ہوتے ہیں۔ صبح اگر ان کے کاموں سے شروع ہوتی ہے تو رات ان کو سلا کر آنکھیں موندتی ہے۔ وقت دبے پاؤں گزرتا ہے، بچے بڑے ہوجاتے ہیں، ماؤں کے قد سے بھی بڑے لیکن ماں کا دل کبھی بڑا نہیں ہوتا۔ پرندوں کی طرح اڑنا سکھانے کے بعد خوشی خوشی پرواز کی اجازت دینے تک بھی رات کے بڑھتے سائے اسے بچوں کی بخیریت گھر واپسی کا دھڑکا لگائے رکھتے ہیں۔ ایک ماں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سکون آور لمحہ رات کو اس کے بچوں کا اپنے اپنے بستروں پر موجود ہونا ہے۔ رات اگر رازداں ہے تو رات بہت ظالم اور بےحس بھی ہے کہ اس کی تاریکی انسان کو راہ سے بھٹکاتی ہے تو تنہائی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور اذیتوں سے نبٹنے کا حوصلہ بھی کھو دیتی ہے۔ جس طرح ہر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن طلوع ہوتا ہے، اسی طرح غم کے دن کے بعد آنے والی رات اس سے بڑھ کر سیاہ اور ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بےشک اللہ کسی نفس پراس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ لیکن! آہ! وہ پہلی رات، وہ لمحہ اس کا تصور ہی بڑا کربناک ہے، جب ایک ماں دن کا آغاز بچے کو اٹھانے سے کرے اور رات کواپنے بچے کا بستر ہمیشہ کے لیے خالی پائے، اور اور اگر اس کا بےجان لاشہ گھر کے آنگن میں پل دو پل کا مہمان ہو تو یہ رات کٹ بھی جائے لیکن اس کا دل بھی اس کے ساتھ کٹ جاتا ہے۔\n\nآخری بات!\nبچے کی ہمیشہ کے لیے جدائی کے بعد آنے والی پہلی رات اگر ماں کے صبر و رضا کا اصل امتحان ہے تو مائیں بھی سدا بچوں کے ساتھ نہیں رہتیں۔ چاہے بچے کتنے ہی بڑے ہو جائیں، اور مائیں اپنا فرض اپنی ذمہ داری سے سبکدوش بھی ہو جائیں، لیکن ان کے جانے کے بعد آنے والی پہلی صبح کی خاموشی ایک عجیب سی تنہائی اندر اتار دیتی ہے۔ ایک خاموش چیخ جسے صرف اپنے کان ہی سن سکتے ہیں۔ بےوزنی کا احساس جیسے مرکز ثقل ختم ہو گیا ہو۔ ماں کی زندگی اگر بچے کے گرد گھومتی ہے توماں جانے کے بعد بچے کو دکھائی دیتی ہے۔ اس سمے صرف اُس کا اپنا کاندھا اُس کا رازدار ہوتا ہے یا پھر جو اس درد سے آشنا ہو۔\nاللہ اکبر

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam