اشفاق احمد اور 7 ستمبر، 2004ء کی رات - بانو قدسیہ

the-best-known-intellectual-couple-in-the-history-of-pakistan چھ ستمبر کی رات عجیب بےکسی سے پا پیادہ چل رہی ہے۔ خاں صاحب کی ڈوبتی نبض اتنی دھیمی تھی کہ بار بار شُبہ ہوتا ابھی ہے ابھی نہیں ہے، سُرخ وسپید چہرہ جس تکیے پر دھرا تھا اُسی کی مانند سفید ہو چکا تھا۔ بازوؤں کا گوشت جھالر صفت لٹک رہا تھا۔ نہ بالوں میں آب وتاب باقی تھی نہ داڑھی میں چمک تھی۔ درد مسلسل چھاپے مار رہا تھا، لیکن اُن کی آواز میں ناصبوری، نا شکیبائی یا رتی بھر شکایتی لہجہ در نہ آیا تھا۔ وہ بار بار اُٹھتے مجھے بلاتے، میں اُٹھتی پاس جاتی، وہ کمزور مدھم آواز میں کہتے ”میں نے تمہیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔“ میں جواب میں کچھ نہ کہہ پاتی۔ کچھ دیر میں اُن کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھتی۔ پھر وہ بڑے تردد کے ساتھ مجھے کہتے ”سو جاؤ اوراب میرے بلانے پر بھی نہ اُٹھنا۔“ اُن کی تکلیف اس قدر زیادہ تھی کہ اندر ہی اندر یہ دکھ مجھے ستا رہا تھا کہ کاش وہ قوت ِبرداشت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے روئیں، چلائیں، واویلا مچائیں لیکن خاموش شیر قالین تو صاحب ِفراش تھا۔ ہم دونوں جاگ رہے تھے، دونوں ایک دوسرے کو سلانے کا مشغلہ اپنائے ہوئے تھے۔ رات قطرہ قطرہ گزر رہی تھی جیسے ڈرپ میں لگا خون۔ کمرے میں ائیر کنڈیشنر کی آواز چہرے پر منڈلانے والی مکھی کی طرح بھنبھنا رہی تھی۔کمرے میں لگا کلاک بڑی نحوست پھیلانے کے انداز میں سیکنڈ کی سوئی بجائے جا رہا تھا ۔آج اس کی آواز گویا کوچ کا نغمہ تھا۔کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا ،جس کی روشنی پر یاس کا پیلا پن نمایاں تھا۔

کتابوں سے لدی الماریاں جامد باسی اور پرانے کاغذوں کی بو باس کمرے میں سپرے کر رہی تھیں۔ پتہ نہیں کیوں میری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا تھا تھا کہ تمام خاکستری کتابیں زرد رنگ کی ہو چکی ہیں اور اُن پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ کتابوں کے عنوانات جو خاں صاحب کی لکھائی میں کتابوں کے پشتوں پر تھے، پڑھے نہ جاتے تھے۔ اُبھرنے والی صبح بچھڑنے والی رات سے گلے مل رہی تھی۔ گویا مستقل وچھوڑے سے خوفزدہ ہو کر آنسوؤں سے بھیگ گئی ہو۔

قریباً چار بجے تھے جب انہوں نے مجھے بلایا۔ ”سنو انیس خاں کو فون کر دو، وہ آ جائے۔“ میں نے پُراُمید ہونے کے انداز میں غلط جواب دیا ”آپ فکر نہ کریں خاں صاحب! ابھی صبح ہونے والی ہے۔ وہ خواہ مخواہ پریشان ہوجائے گا۔“ ”اچھا“۔ انہوں نے اپنی کربل کربل کرتی پریشانی کو برداشت کے پتھر تلے دبا لیا۔ پھر چھ بجے کےقریب انہوں نےآواز دی ”بانو ۔۔ سو گئیں؟“ میں جان بوجھ کر آنکھیں ملتی اُٹھی، جی خاں جی ”یہ ذرا میری نبض دیکھنا۔“ وہ بدھا روپی چہرہ لیے لیٹے تھے۔ چہرے پر رتی بھر پریشانی نہ تھی۔ گرہ نیم باز کا قرض چکانے کے بعد مکمل اطمینان کی صورت۔سات ستمبر 2004 ، زندگی کا آخری دن۔

خاں صاحب راضی با رضا بندے کی طرح مطمئن سیٹ سے کمر لگائے بیٹھے تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر آگے ہو کر اُن کے کلے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔ اُن کی آواز گو دھیمی تھی لیکن نہ اُن کے حواس پراگندہ ہوئے نہ انہوں نے اپنے کسی انداز سے بچھڑنے ہی کا احساس دلایا۔ چھ ستمبر کی رات اُن کے صبر کی تصویر تھی۔ اُن کے درد کا یہ عالم تھا کہ بار بار چہرہ اس درد کا شاکی ہو جاتا۔ آنکھوں میں اسی درد کے باعث خوف اور پریشانی لکھی تھی لیکن برداشت کا یہ عالم تھا کہ کسی حرکت، آواز اور اشارے سے انہوں نے انداز کی حالت کا اظہار نہ کیا۔ پاسپورٹ بن چکا تھا، ویزہ لگ چکا تھا، ٹکٹ بیگیج چیک ہو چکا تھا۔ انہیں شاید سیٹ نمبر بھی معلوم تھا، لیکن انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور پھر اُن کا سر ذرا سا ڈھلک گیا۔ وہ اپنے بےجان ہاتھ سے میرا ہاتھ تھپتھپاتے رہے۔ وہ اپنے گھر جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔

داستان سرائے سے سائرہ ہسپتال تک کا راستہ دور نہ تھا۔ راستے میں درخت، پرندے، سڑک سب مل مل کر الوداع کہہ رہے تھے۔ جوں ہی کار رُکی، وہیل چئیر پر اُنہیں بٹھایا گیا۔ میں اُن کے ساتھ تھی۔ پھر سسٹر مجھے ڈاکٹر صاحب کے حکم کے مطابق ڈاکٹر کے دفترمیں لے گئی۔ ”آپ پلیز یہاں بیٹھیں۔ ہم اُنہیں آکسیجن لگانے لگے ہیں۔“ اس وقت میں نے دو رکعت نفل پڑھے۔ خاں صاحب کہتے تھے ”جب بھی کوئی لمبے سفر پر روانہ ہو تو شکرانے کے دو نفل ضرور گزارنے چاہییں کہ اللہ میاں کا مال واپس کرتے وقت نہ جھگڑا ہو نہ تقاضا، نہ ندامت ہو نہ پچھتاوا۔ حق کو حقدار کے سپرد کرنے کے بعد کسی قسم کا ملال نہ ہونا چاہیے۔“ ایسے ہی دو نفل میں نے اپنی ماں کی رُخصتی کے وقت پڑھے۔ ایسے ہی دو نفل میں نے اپنے بھائی کے جانے کے وقت پڑھے تھے۔ علیم ِمطلق جانتا ہے کہ کب اور کس وقت کس کی روانگی موزوں، برحق اور پردہ پوش ہے۔ دفتر میں سسٹر طاہرہ اندر آئی۔ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے گئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح آنکھیں موندے لیٹے تھے، اُن کی ڈرپ ایک طرف لٹکی ہوئی تھی۔ انیس اور اثیر اُن کی پائینتی کھڑے تھے۔ نہ جانے کب اور کیسے ڈاکٹر صاحب نے انہیں راستوں سے بلا لیا تھا۔ مجھے خاں صاحب کی حاشیہ برداری سے چھٹی مل گئی تھی، انہوں نے مجھے برطرف کر دیا تھا اور کوئی سفارشی خط بھی لکھ کر نہیں دیا تھا کہ میں کسی اور جگہ اسامی ڈھونڈ لیتی۔ یوں لگتا تھا واپسی کےجہاز میں وہ اس وقت اپنی سیٹ بیلٹ باندھ رہے تھے، لاہور کا منظر چھوٹے چھوٹے گھروں ہرے بھرے قطعوں اور بےمصرف سوئی ہوئی سڑکوں سے اوپر جا رہا تھا، پچھلے منظر دھندلا رہے تھے۔ شاید اُنہیں اس شہر، اس کے رہنے والوں سے بچھڑنے کا اتنا غم نہ تھا جس قدرگھر جانے کی خوشی تھی۔

(اشفاق احمد اور 7 ستمبر، 2004ء کی رات - راہ رواں از بانو قدسیہ، انتخاب نورین تبسم)

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.