چھوڑ کر شہرِ ہوس عشق کے ویرانے میں (3) - ریحان خان

ریحان خان ارات کے دیڑھ بج رہے تھے. طویل سفر اور سارے دن کی آوارہ گردی کے باوجود آنکھ سے نیند کوسوں دور تھی. منہ میں ایک سگریٹ دبائے اپنے روم کی عقبی کھڑکی کی جانب آیا جو حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کی جانب کھلتی تھی. مزار برقی قمقموں اور لائٹس کی وجہ سے بقعہ نور بنا ہوا تھا. اگر میں اہلِ دل ہوتا تو یہی گمان کرتا کہ ایک نورانی سا غبار منجانب آسمان اتر کر محبوبِ الٰہی کے مزار پر ہجوم کررہا ہے. حضرت نظام الدّین نے بیس سال کی عمر میں ظاہری علوم کے حصول کے بعد پاکپتن میں حضرت فرید الدین گنج شکر رح کی خدمت میں حاضری لگائی تو حضرت فرید الدین گنج شکر نے شعر کہا:\r\nاے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ\r\nسیلابِ اشتیاقت جانہا خراب کردہ\r\nپیر و مرشد سے بیعت ہو کر محبوب الٰہی نے ان سے باطنی علوم حاصل کیے، خلیفہ کا منصب ملا، پھر مرشد کے حکم پر دلّی روانہ ہوگئے. دلّی میں اس فقیر کے در پر شاہوں کا ہجوم ہوتا تھا. شاہ غیاث الدین بلبن کے پوتے معزالدین کیقباد کو محبوب الٰہی سے اس درجہ عقیدت تھی کہ اس نے خانقاہ کے قریب قصر تعمیر کروایا اور اس میں سکونت اختیار کی. محبوب الٰہی اکثر فرماتے تھے.\r\n’’جتنا غم و اندوہ مجھے ہے اتنا اس دنیا میں اور کسی کو نہ ہوگا کیونکہ اتنے لوگ آتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنے دکھ درد سناتے ہیں، وہ سب میرے دل میں بیٹھ جاتے ہیں. عجب دل ہوگا جو اپنے مسلمان بھائی کا دکھ سنے اور اس پر اثر نہ ہو۔‘‘\r\n\r\n

نظام الدین ب محویت کے اس عالم میں ہونٹوں میں دبا سگریٹ کب نیچے گرگیا، اس کا علم خود مجھے بھی نہیں ہوسکا. میں اولیا کے مرقد کو دیکھنے کے ایک نئے تجربے سے گزر رہا تھا کہ دور کہیں سے مزار پر نگاہ جمائی جائے اور صاحبِ مزار کی تعلیمات پر غور کیا جائے. جو استغراق اس طرح حاصل ہوتا ہے وہ لوح مزار کو سینے سے لگا کر بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا. شرک و بدعت کے دلدل میں پھنسے افراد کا ایک بے ہنگم ہجوم اس استغراق میں گستاخ قہقہے کی مانند خلل انداز ہوتا ہے.

\r\n\r\nاس گلی کی ہوائوں اور عمارتوں کے شکستہ در و بام کو محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء کی تصنیفات فوائد الفواد، فصل الفواد، راحت المحبین اور سیر الاولیاء کی سرگوشیوں کی امین رہنے کا شرف حاصل ہے. معرفت کے اسرار و رموز کا کون سا ایسا پیمانہ ہے جو اس گلی میں لبریز نہیں کیا گیا. حضرت نظام الدین جیسا صوفی اس گلی کا مکین ہے، اسد اللّہ خاں غالب جیسا فلسفی یہاں کا باسی ہے، طوطی ہند امیر خسرو جیسا آل راؤنڈر یہاں اپنے علم و فن کے جام لنڈھا چکا ہے. محبوب الٰہی کے مزار کے احاطے میں مشرقی جانب محبوب محبوبِ الٰہی امیر خسرو کا مزار موجود ہے. امیر خسرو کے مزار سے محبوب الٰہی کے مزار کی جانب دیکھا جائے تو امیر خسرو کے ہی الفاظ یاد آتے ہیں.\r\nمن تو شدم تو من شدی\r\nمن تن شدم تو جان شدی\r\nتا کس نہ گوید بعد ازیں\r\nمن دیگرم تو دیگری\r\n\r\nامیر خسرو ابوالحسن یمین الدّولہ امیر خسرو کے والد امیر سیف الدّین ایک ترک تھے جو منگولوں کی خونخواری کے ایّام میں ہند آئے اور سلطان محمد تغلق کے دربار میں اعلی عہدے پر فائز ہوئے. امیر خسرو کی پیدائش ہند میں ہوئی. خسرو نے دلّی میں تغلق، غلاماں اور خلجی خاندان کے آٹھ بادشاہوں کا عروج و زوال دیکھا. امیر خسرو نے شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی. شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی یدِ طولی رکھتے تھے. ہندوستانی موسیقی میں ترانہ، قول اور قلبانہ امیر خسرو کی ہی ایجاد ہے۔ بعض راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے، انہی کی ایجاد ہے۔ ستار پر تیسرا تار امیر خسرو نے ہی چڑھایا. اس وقت کی دلّی کے بارے میں امیر خسرو حق بجانب تھے.\r\nاگر فردوس بر روے زمین است\r\nہمیں است و ہمیں است و ہمیں است\r\nاسی فردوس میں اردو زبان کی داغ بیل پڑی تھی اور اردو کا پہلا شعر بھی یہیں امیر خسرو سے منسوب ہوا. اسی فردوس میں امیر خسرو نے تغلق نامہ، خمسہ نظامی، اعجاز خسروی، خزائن الفتوح، افضل الفوائد اور افضل الباری جیسی کتابیں تحریر کیں. اس زمانے کے مصنفین دس دس کتابیں لکھ کر بھی زمین سے جڑے رہتے تھے. آج کا لکھاری ایک کتاب لکھ کر مالیخولیا کا شکار ہوجاتا ہے، اور چڑچڑا بن کر ہر ایک کی مخالفت کرنے لگتا ہے. امیر خسرو کی وفات 1325ء عیسوی میں ہوئی اور وہ اپنے مرشد محبوبِ الٰہی کی نزدیک دفن ہو کر اپنے الفاظ ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ کی مجسّم تفسیر بن گئے.\r\n\r\nرات کے ڈھائی بج چکے تھے. فضا میں سکوت چھایا ہوا تھا. شب کی اس خاموشی میں محبوب الٰہی اور طوطی ہند کا یہ خوبصورت سنگم مجھے صدیوں پرانے ماحول میں لے گیا.\r\nعقب سے غالب نے صدا لگائی.\r\nاہلِ ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل\r\nپر عاصیوں کے زمرے میں، میں برگزیدہ ہوں\r\nعاصی ہونے کے ناطے میری آنکھیں چمک اٹھیں. میں محبوب الٰہی اور امیر خسرو کو فلائنگ کس دے کر روم سے باہر اس مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں سے مزارِ غالب نظر آتا تھا.\r\nاسٹریٹ لائٹ کی تیز روشنی غالب اکیڈمی پر پڑ رہی تھی جس کے سائے میں مزارِ غالب پر تاریکی تھی. اگر غالب اکیڈمی کو ڈھا دیا جائے تو مزارِ غالب کا ذرّہ ذرّہ روشنی سے معمور ہوگا.\r\n(جاری ہے)\r\n\r\nسفرنامے کی پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی دوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی چوتھی قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی پانچویں قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی چھٹی قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی ساتویں قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.