انسانی تاریخ، دراصل، بقا کی ایک طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد کا نام ہے۔ یہ وہ داستان ہے جس میں انسان نے ہمیشہ فطرت کے سخت گیر قوانین اور امراض کے مہلک حملوں کے مقابل سینہ سپر رہنے کی سعی کی۔ ارتقائے حیات کے اس پرپیچ سفر میں بیسویں صدی عیسوی کو اگر “طبی معجزات کی صدی” کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں؛ اس لیے کہ اسی دور میں انسان نے ان خردبینی دشمنوں یعنی بیکٹیریا پر ایسی فیصلہ کن برتری حاصل کی جس نے صدیوں سے انسانی آبادیوں کو قبرستانوں میں بدل رکھا تھا۔
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب انسان اعتدال کی حدود پھلانگ کر فطرت کے داخلی نظام میں ضرورت سے بڑھ کر مداخلت کرتا ہے تو وہی نعمت، جو کبھی زندگی کی محافظ تھی، آہستہ آہستہ ایک خاموش قاتل کا روپ دھار لیتی ہے۔ آج کا انسان اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈز کا بے دریغ اور غیر محتاط استعمال محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک ہمہ گیر عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے،ایسا بحران جس کے مضمرات طبی، سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ سیاسی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ تحریر لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس حقیقت کو آشکارا جا سکے کہ انسان کس طرح اپنی ہی ایجاد کردہ ادویات کو اپنی بقا کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
طب کی تاریخ میں اینٹی بائیوٹک کی دریافت ایک ایسا انقلابی موڑ تھا جس نے موت کے تعاقب کو پہلی بار سست کر دیا۔ 1928ء میں الیگزینڈر فلیمنگ کے ہاتھوں پنسلین کی دریافت نے طبِ جدید کی بنیادوں کو ایک نئی جہت عطا کی۔ اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ ایک معمولی زخم یا عام نمونیا بھی انسان کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتا تھا۔
(تھا مس ہیگر، دی ڈیمن انڈر دی مائیکروسکوپ، ہارمونی بکس، 2006ء، صفحہ 74)
فلیمنگ نے 1945ء میں نوبل انعام وصول کرتے ہوئے پیش گوئی سے انسان کو اس انداز میں خبردار کیا تھا:
“وہ وقت دور نہیں جب پنسلین عام دکانوں پر دستیاب ہوگی اور جاہل لوگ اسے ناکافی مقدار میں استعمال کر کے جراثیم کو اس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کا موقع دیں گے۔”
اس کی پیش گوئی آج کے دور میں ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ بیسویں صدی کی چالیس اور پچاس کی دہائیوں کو بجا طور پر “اینٹی بائیوٹکس کا سنہری دور” کہا جاتا ہے، لیکن اسی عرصے میں سٹیرائیڈز کی آمد نے طب کی دنیا میں ایک نیا ہنگامہ برپا کیا۔ 1948ء میں مایو کلینک کے معالج فلپ ہنچ نے جب “کمپاؤنڈ ای” یعنی کارٹیسون کو جوڑوں کے درد کے مریضوں پر آزمایا تو گویا ایک معجزہ رونما ہوا بستر سے لگے مریض چلنے پھرنے لگے۔ اسے “جادوئی دوا” کا لقب دیا گیا، مگر جلد ہی اس کے مہلک ضمنی اثرات نے ماہرینِ طب کو چونکا دیا۔
اینٹی بائیوٹکس دراصل ایسے کیمیائی مرکبات ہیں جو بیکٹیریا کی نشوونما کو روکتے یا انہیں ختم کرتے ہیں۔ لیکن جب ان کا استعمال غیر ضروری طور پر، غلط تشخیص کے تحت، یا ادھورے کورس کی صورت میں کیا جاتا ہے تو جراثیم اپنی جینیاتی ساخت میں تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں۔ اس عمل کو سائنسی اصطلاح میں “اینٹی مائیکروبیئل ریزسٹنس” کہا جاتا ہے۔ اس عمل کی نوعیت نہایت سادہ مگر نتائج انتہائی خطرناک ہیں۔ جب کوئی شخص اینٹی بائیوٹک استعمال کرتا ہے تو کمزور جراثیم ختم ہو جاتے ہیں، مگر وہ جراثیم جو جزوی مزاحمت رکھتے ہیں زندہ بچ جاتے ہیں۔ یہی زندہ رہ جانے والے جراثیم اپنی مزاحمتی خصوصیات اگلی نسل کو منتقل کر دیتے ہیں، اور یوں “سپر بگز” وجود میں آتے ہیں—ایسے جراثیم جن پر طاقتور ترین ادویات بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔
(عالمی ادارۂ صحت، گلوبل رپورٹ آن سرویلنس: اینٹی مائیکروبیئل ریزسٹنس، 2014ء، جلد 1، صفحہ 12)
تحقیقی اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2050ء تک سالانہ ایک کروڑ افراد صرف اس وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے کہ عام نوعیت کے انفیکشن بھی لاعلاج ہو چکے ہوں گے۔ یہ گویا انسانیت کی “قبل از پنسلین عہد” کی طرف واپسی ہوگی، جہاں سرجری، زچگی اور کینسر کا علاج بھی موت کے مترادف ہوگا۔دوسری جانب سٹیرائیڈز، خصوصاً کارٹیکو سٹیرائیڈز، جسم میں سوزش کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال بعض شدید بیماریوں میں ناگزیر ہوتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں انہیں فوری آرام کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔
سٹیرائیڈز کا غیر ضروری یا طویل المدتی استعمال انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں:
ہڈیوں کا بھربھرا پن، کیونکہ یہ کیلشیم کے جذب کو متاثر کرتے ہیں؛
ہارمونل بے ترتیبی، کیونکہ یہ ایڈرینل گلینڈز کو قدرتی ہارمون بنانے سے روکتے ہیں؛
اور نفسیاتی اثرات، جیسے شدید ڈپریشن، اضطراب اور مزاج میں غیر معمولی تبدیلیاں۔
( ہیریسنز پرنسپلز آف انٹرنل میڈیسن، بیسویں ایڈیشن، جلد دوم، صفحہ 2315۔)
یہ بحران محض طبی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ ایک پیچیدہ سماجی و معاشی ڈھانچہ کارفرما ہے۔ ادویات ساز کمپنیاں زیادہ منافع کے حصول کے لیے جارحانہ مارکیٹنگ کا سہارا لیتی ہیں اور معالجین کو مختلف مراعات دے کر ادویات کے بے جا استعمال پر آمادہ کرتی ہیں۔
(جیکی لا، بگ فارما: ایکسپوزنگ دی گلوبل ہیلتھ کیئر سسٹم، 2006ء، صفحہ 112)
ترقی پذیر ممالک میں صورتِ حال مزید ابتر ہے جہاں بغیر نسخہ ادویات کی فروخت ایک معمول بن چکی ہے۔ کوئی بھی شخص باآسانی طاقتور اینٹی بائیوٹکس خرید سکتا ہے، جو ریاستی نگرانی کی کمزوری کا بیّن ثبوت ہے۔عوامی رویہ بھی اس بحران کو بڑھانے میں کم ذمہ دار نہیں۔ مریض فوری شفا کا خواہاں ہوتا ہے اور معمولی نزلہ زکام کے لیے بھی طاقتور ادویات کا مطالبہ کرتا ہے، حالانکہ ایسے امراض عموماً وائرل ہوتے ہیں جن پر اینٹی بائیوٹکس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حالیہ برسوں، خصوصاً COVID-19 کے دوران، اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈز کا جس بے دریغ استعمال دیکھنے میں آیا، اس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ اب ایسے انفیکشن سامنے آ رہے ہیں جن کے علاج کے لیے مؤثر ادویات موجود نہیں رہیں۔ پاکستان میں ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی موجودگی اسی المیے کی واضح علامت ہے۔
یہ تمام صورتحال اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ محض طبی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک گہرا سماجی و انتظامی بحران کارفرما ہے۔ اس تناظر میں ذمہ داری کا تعین ایک پیچیدہ سوال بن جاتا ہے۔ بعض حلقے اس کا ذمہ دار معالج کو قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے عوامی لاعلمی اور نظامی کمزوریوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سہ فریقی مسئلہ ہے جس میں ڈاکٹر، مریض اور ریاست تینوں برابر کے شریک ہیں۔ یہی صورتِ حال دراصل ایک تثلیثی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے—ایسا بحران جس میں ڈاکٹر، مریض اور ریاست تینوں برابر کے ذمہ دار ہیں؛ تاہم گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ قانون سازی، نگرانی اور صحت عامہ کے نظام کی درست سمت کا تعین اسی کے اختیار میں ہے۔
اس سنگین بحران سے نکلنے کے لیے ایک جامع اور مربوط اصلاحی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے قانونی سطح پر یہ لازم ہے کہ ادویات کی بغیر نسخہ فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ طبی میدان میں “اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ” پروگرام کو نافذ کیا جائے اور ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ تربیت کو مسلسل بنیادوں پر مضبوط بنایا جائے تاکہ ذمہ دارانہ تجویز نویسی کو فروغ مل سکے۔اسی کے ساتھ عوامی شعور کی بیداری ناگزیر ہے؛ اس مقصد کے لیے میڈیا مہمات کو مؤثر بنایا جائے اور صحت سے متعلق بنیادی آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ معاشرہ خود اس خطرے کی نوعیت کو سمجھ سکے۔
مزید برآں تحقیق و ترقی کے میدان میں نئی ادویات کی تیاری کے لیے حکومتی فنڈنگ میں اضافہ ضروری ہے، تاکہ آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ زرعی میدان میں بھی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں؛ مویشیوں میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال پر پابندی عائد کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی عمل خاموشی سے انسانی صحت کے لیے ایک بڑے خطرے کو جنم دے رہا ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈز بیک وقت نعمت بھی ہیں اور آزمائش بھی۔ اگر ان کا استعمال حکمت کے ساتھ کیا جائے تو یہ زندگی کی نوید ہیں، اور اگر انہیں جہالت اور ہوس کا شکار بنا دیا جائے تو یہی انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
انسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ فطرت پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ اسے اس کے ساتھ توازن قائم رکھنا ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو بعید نہیں کہ ایک معمولی خراش بھی انسانی زوال کی داستان رقم کر دے۔ وقت کی یہی صدا ہے:
“علاج سے پہلے احتیاط، اور شفا سے پہلے بقا کی فکر لازم ہے۔”



تبصرہ لکھیے