ہنسی، دکھ یا مقام ِماتم؟ - روبینہ فیصل

ہم جتنا چاہیں اتنا ہنس سکتے ہیں اپنی اخلاقی تننزلی پر،اپنے چھوٹے پن پر،اپنی جھوٹی اناؤں پر اور اپنے اوپر چڑھائے خولوں پر،مگر جب دن کا اختتام ہوگا تو ہمیں ایک دفعہ جی بھر کر رونا پڑے گا کہ ایسے رویے اینڈ آف دی ڈے آنسوؤں پر ہی جا کر ختم ہوتے ہیں۔ پرائیویسی اور عوام میں انتشار کے خوف سے نام صغیہ راز...