کفن سے شانزہ طارق کی بہنوں کے معصوم سوال - حافظ یوسف سراج

وہ دمکتا تازہ گلاب تھا اور یہ بِن کھلے موتیے کی مہکتی کلیاں۔ مگر اب یہ پھول اور کلیاں گاؤں کے گھر میں بے دردی سے مسلے اور کچلے پڑے تھے۔ کوئی سانحے سا سانحہ گزر گیا تھا۔ گاؤں کی کوئی گلی اور گلی میں کھلتا کوئی دروازہ ایسا نہ تھا کہ جہاں یہ خبر پہنچی ہو تو کہرام نہ مچ گیا ہو اور آہوں اور سسکیوں کا...