امیر زادے کی مایوسی اور پہلوان کا شکر - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں روزانہ کی طرح جیسے ہی اپنے آفس کی کار پارکنگ میں پہنچا، ابھی میں کار سے اترا بھی نہیں تھا کہ ایک نوجوان تیز ی سے میری کار کی طرف بڑھا۔ اس کی بے چینی اور بے قراری کی وجہ سے میں بھی جلدی سے باہر نکلا اور اس کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا کہ کیا بات ہے تو اس نے سلام کے بعد ایک بہت بڑی جیپ نما...