ایاز نظامی حوالات میں کیوں روتا ہے؟ زوہیب زیبی

بقول FIA آفیسر، ایاز نظامی کو روتا ہوا پایا۔ وجہ پوچھنے پر کہنے لگا کہ راتیں جاگتے کٹتی ہیں، نیند بالکل نہیں آتی۔ جب اسے کہا گیا کہ موت کا تو اک وقت مقرر ہے، پھر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ تو کہنے لگا کہ ایک تو مچھر بہت کاٹتے ہیں اور اصل بات مزید پڑھیں

کچے ذہن کے نوجوانوں کو بچائیں – نوفل ربانی

تکلیف انسانیت کی نہیں ہے، اگر ہوتی تو شام کے بچوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی جتنی کہ مشال پر ہو رہی ہے۔ درد آدمیت کا نہیں، اگر ہوتا تو مفتی ندیم محمودی پر ہونے والے قاتلانہ حملے پر بھی ہوتا، مسجد میں سجدہ کناں روحوں کے قالب میں مزید پڑھیں

ٹی وی اینکرز کی نجی عدالتیں – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سیاسی حالات میں مدوجزر کے باوجود مردان واقعے کی مسلسل کئی نجی عدالتوں میں سماعت جاری ہے۔ ایک عدالت وہ تھی جس نے مشال اور اس کے ساتھیوں کو گستاخی کا مرتکب قرار دیا اور پھر من مانی سزا کا نفاذ کیا۔ اس کے بعد کئی نجی عدالتیں جم گئیں۔ کچھ سوشل میڈیا پر، کچھ مزید پڑھیں

مرتدین کے خلاف جنگ، مردان واقعہ، اور ماورائے عدالت قتل – تزئین حسن

کہتے ہیں عرب کی تاریخ میں کوئی خبر کبھی اتنی تیزی کے ساتھ نہیں پھیلی جتنی آ نحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی رحلت کی. بہت کم اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے کہ اس نازک وقت میں مکّہ اور مدینہ اور اس کے اردگرد محدود علاقے کو چھوڑ کر پورا عرب بغاوت پر مزید پڑھیں

وارننگ – محمد عامر خاکوانی

پچھلے چار پانچ دنوں میں دو ایسے بڑے و اقعات ہوئے، جن کے اثرات ملک پر خاصے عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک واقعہ نے میڈیا پر بہت زیادہ کوریج بھی حاصل کی، یہ سب تھا ہی ایسا اندوہناک کہ ہر صاحب دل تفصیل جان کر دہل گیا۔ مشال خان کو مزید پڑھیں

سفاکی سے ہنستی اک نعش – حافظ یوسف سراج

عبدالولی خان یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر ایک کے فلور پروہ نعش پڑی تھی۔ یہ نعش عریاں تھی۔ اس کے قابلِ ستر انسانی اعضا بھی کپڑوں سے عاری ہو چکے تھے۔ اس پر تشدد ہوا تھا۔ یہ تشدد معمولی نہیں تھا۔ کم از کم بیالیس مشتعل جوانیوں کے زورِ بازو اور زورِ جذبات نے اس نعش مزید پڑھیں

مشعال خان اور نورین لغاری، تصویر کے دو رخ – ثمینہ رشید

مشعال خان کے بہیمانہ قتل کی تفتیش میں ہر روز ناقابل یقین قسم کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ ایک یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک طالب علم کے قتل کی سازش کی اور اس کو انجام تک پہنچایا۔ مشعال خان کے دوست عبداللہ اور یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم مزید پڑھیں

اہانت اور گستاخی ایک حساس مسئلہ – ارشد زمان

آئیے ایک مسلمان کی حیثیت سے ایک مشترکہ نکتے پہ سوچتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے اس موضوع کوایک سائیڈ پہ رکھ لیتے ہیں کہ مشال خان مجرم تھا یا ملزم؟ گناہ گار تھا یا بےگناہ؟ اپنوں نے مارا یا غیروں نے؟ مذہب نے مارا یا سیاست نے؟ ریاست کو مارنا چاہیے تھا، ہجوم نے مزید پڑھیں

میں بلاسفیمی لا کے حق میں کیوں ہوں؟ انعام رانا

مشال خان کا بہیمانہ قتل، ہمارے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ گیا ہے۔ خیبر سے کراچی، گلگت سے مظفرآباد اور کوئٹہ سے لاہور تک ہر وہ شخص، خواہ وہ روایتی مذہبی ہو یا ماڈرن، جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے، صدمے میں آ گیا۔ اب جبکہ ہر گزرتا دن مشال کی بےگناہی کو ثابت کرتا مزید پڑھیں

بندر کے ہاتھ میں ماچس – محمد ارشد خان

مردان یونیورسٹی کے المناک سانحے میں توہین مذہب و رسالت کے الزام میں طلبہ کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک نوجوان کے بیہمانہ، غیر قانونی اور وحشیانہ قتل کی اپنے وال پر بجا طور پر ایک مذمتی پوسٹ اور عبرتناک سزا کے مطالبے کے جواب میں حسب توقع مجھے کئی پیغامات موصول ہوئے، جن میں مزید پڑھیں