آٹھ نو دس ہوئے، بس انشاء بس - آصف محمود

وہ مغلیہ دور حکومت تھا جس کے تذکرے ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں، یہ شغلیہ دور حکومت ہے پھٹی آنکھوں سے ہم جس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ روش روش ٹوٹے وعدوں کی کرچیاں بکھری پڑی ہیں۔ صبح دم فراق گورکھپوری یاد آ جاتے ہیں: ’’ جو کہا تھا اس نے مجھ سے، جو کیا ہے اس نے مجھ سے میری بے کسی سے پوچھو کہ ہے غم بھی...