قلم کو ہتھکڑی - عرفان صدیقی

درِ زنداں کھلا…! میں اڈیالہ جیل کی کھولی سے نکل کر مختصر سے مستطیل برآمدے میں چہل قدمی کرنے لگا۔ برآمدے کے باہر ایک بلند قامت آہنی جنگلا تھا جو مقفل تھا۔ ہماری چار کھولیوں کے مدمقابل برآمدے کے سامنے بھی ایسی ہی چار کھولیاں تھیں۔ ان کھولیوں کے قیدی بھی اپنے برآمدے میں نکل آئے تھے۔ یکایک تیز...