کیا ہم ایک ہیں :دعا عظیمی

ایسا نہی تھا کہ بھرے شہر میں میری فریکوینسی کسی سے نہی ملتی تھی ،بس شہر پر آشوب سے گھٹن ہوتی تھی اور فطرت اور خاموشی مجھے مجھ پہ روشن کرتی تھی کبھی کبھار خود سے ملاقات بھی ضروری ہوتی ہے۔ جنگلی خود رو جھاڑیوں سے بچتا پھولوں کو دیکھتا ماحول میں ہوا کی سرسراہٹ کو سنتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، اچانک آہٹ نے...