ریل کی سیٹی از محمد حسن معراج - علی عبداللہ

میں ریلوے سٹیشن سے صرف اتنا دور ہوں، کہ جب جب حکومت انگلشیہ کے دور میں تعمیر ہوئے اس بوڑھے سٹیشن پر ریل گھڑی بھر سستا کر، کوچ کرنے کا اعلان کرتی ہے، تو اس کی سیٹی کانوں میں اس درویش کی مانند صدا لگاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جو اس عالم رنگ و بو کی بے ثباتی اور مخلوق کی عدم توجہی سے بیگانہ ہو کر بس منزل...