دھیان، بیان اور انسان - ریاض علی خٹک

انسان ضروریات اور خواہشات کا مارا ہے. یہ مار جتنی شدید ہوتی ہے، دھیان اتنا ہی آسماں تک بلند ہوجاتا ہے. اس کا بیان ممکن نہیں. جب آسودہ ہوتا ہے، تو بیان اس گیان کے لفظ بن جاتے ہیں. جتنی دھیان کی شدت اتنا ہی مکمل بیان دیتا ہے ”اسی لیے بھوک اپنے بیان کے لفظوں کے لیے آسودہ پیٹ کا محتاج.“ سوداگر وہ لفظ...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */