یہ ہے غیرتِ مُسلماں جو قصۂ پارینہ ہوئی – عادل سہیل ظفر

286 ہجری میں الری کے قاضی مُوسیٰ بن اِسحاق کی عدالت میں ایک عورت نے اپنے خاوند کے خِلاف مقدمہ دائر کیا کہ اُس کے خاوند نے اُس کا طے شُدہ مہر پانچ سو دینار ابھی تک ادا نہیں کِیا۔ قاضی صاحب نے عورت کے وکیل سے گواہ طلب کیے، گواہوں کے آنے پر قاضی صاحب نے کچھ گواہوں کو کہا کہ" وہ عورت کو دیکھ لیں تا کہ...

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!