میں حرافہ، اور وہ کیا؟ مدیحہ ریاض

میرے باز پرس کرنے پر میرے سابقہ شوہر نے طلاق نامہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا کہ رفعت بیگم! تم خواتین چاہے جتنا بھی حقوق نسواں کا واویلا مچا لو، یہ معاشرہ مردوں کا تھا، ہے اور رہے گا۔ صدیوں قبل کی یہ سوچ تم خواتین کے واویلے سے کبھی ختم نہیں ہوگی، چاہے جتنی مرضی آواز بلند کر لو۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ...