روشن رات - عظمیٰ ظفر

رات دھیرے دھیرے اپنی چادر پھیلا رہی تھی، کالی سیاہ چادر جس میں سب کچھ چھپ رہا تھا ، سب کچھ۔۔۔۔ یہاں تک کہ اس کے گناہ بھی۔ وہ کس گناہ کو یاد کرتی، کسے بھولتی؟ کس گناہ کی معافی پہلے مانگتی؟ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔ گناہ کوئی ایک تھا؟ گناہوں کا تو پُر تعفن انبار تھا، ڈھیر تھا۔ خولہ! آجاؤ کنسرٹ شروع...