مؤمن کا بےسکونی، بدشگُونی، مایوسی کا شِکار ہونا – عادل سہیل ظفر

بدشگُونی صِرف یہ ہی نہیں ہوتی کہ اپنے سامنے سے گزرنے والی کالی بلی سے خوف زدہ ہوکر، یا کسی گھوڑے گدھے یا کسی اور جانور کی آواز سُن، یا کِسی مخصوص شخصیت کو دیکھ کر، کِسی ہاتھ پاؤں میں کھجلی ہونے پر، آنکھ کے کِسی پپوٹے کے پھڑکنے پر، چھینک آنے وغیرہ پر، اپنا کام چھوڑ دِیا جائے، اپنے گھر واپس بھاگا...

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!