حوروں کا مقابلہ حسن۔عبدالخالق بٹ

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
یہ شعر خواجہ الطاف حسین حالیؔ کا ہے۔ شعر کا دوسرا مصرع غلط طور پر یوں مشہور ہے:
’ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا ‘
نہیں معلوم حالیؔ سے کس نے وعدہ خلافی کی تھی، مگر ہمیں یہ شعر جس تقریب سے یاد آیا ہے،اس کا تعلق ایک خوش رو، خوش گفتار، خوش اطوار، خوش لباس اور خوش خوراک نوجوان سے ہے۔ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ آنکھوں میں شرارت۔ڈاڑھی اس سلیقے سے ترشی ہوئی جیسے آرڈر پر لگوائی ہو۔ اتنی خوشیوں، خوبیوں اور خصلتوں کے باوجودموصوف وعدہ محض اس لیے وفا نہیں کرتے کہ مولاناحالیؔ کے مصرع کی لاج رہ جائے۔ہم نے جب اس پیہم وعدہ خلافی پر تشویش کا اظہار کیا تو یہ کَہ کر بات بدل دی:’ کہیں وعدے
بھی نبھانے کے لیے ہوتے ہیں ‘۔
یہ بھی پڑھیں: باز خان اور عمران خان۔عبدالخالق بٹ
حاصل کلام یہ کہ وعدہ اگر وفا کرنے کے لیے ہوتا تو اس موضوع پر اشعار کیسے تخلیق ہوتے۔ادب کا یہ پہلو تشنہ رہ جاتا اور کتنے ہی شاعر سبحان اللہ ۔۔۔ واہ واہ ۔۔۔۔اور مکرر مکرر کی صداؤں سے محروم رہ جاتے۔مختصر یہ کہ اس وعدہ خلافی کو ادب کی خدمت سمجھا جائے وغیرہ وغیرہ۔
آپ چاہیں بھی تو ہم ممدوح کا نام افشا نہیں کریں گے۔ تاہم اتنا اشارہ کافی ہے کہ ان کا طویل نام ’اپنی ذات سے انجمن ‘ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ ان کے نام کا جز اول ’جمل‘ سے جا ملتا ہے جب کہ خود مجسم جمال ہیں۔ اس رعایت سے ہم پر پہلی بار انگریزی ترکیب manimal کے معنی واضح ہوئے۔اتنا اور بتاتے چلیں کہ موصوف کا تعلق ایک خوبصورت وادی سے ہے، جو اہل دل کے درمیان وادی جنت کے نام سے مشہور ہے۔
غالبؔ نے جنت کو خیالِ خوش کن قرار دیا ہے۔بلکہ وہ تو جنت کو نذِر جہنم کرنے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں:
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
یہ بھی پڑھیں: کازیاں دا منڈا ۔عبدالخالق بٹ
دیگر شاعروں نے بھی جنت کے نام پر خوب گرد اڑائی ہے۔ کسی نے جنت کو واعظوں کی رنگین بیانی بتایا تو کسی کو وہاں لاکھوں برس کی حوریں نظر آئیں اور تو اور کسی کو کوچۂ جاناں ہی جنت نظیر دکھائی دیا ۔ہماری دلچسپی ان باتوں میں نہیں کہ ہمیں تو جنت کے لفظی معنی سے غرض ہے۔
جنت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادّہ ’ج۔ن۔ن‘ ہے۔ اس مادے سے بننے والے تمام الفاظ کا مشترک مفہوم پوشیدہ ہونا،۔۔۔ڈھانپنا،۔۔۔ چھپانا۔۔۔ اور اوجھل ہونا ہے۔اسی لیے عربی میں گھٹا ٹوپ اندھیرے کو ’ جَنَّ الظَلامُ ‘ کہتے ہیں۔
لفظ جنت پر ہی غور کرلیں، اللہ نے اسے پوشیدہ رکھا ہے۔ اسی طرح لفظ جان ۔ جنین ۔ جن۔ مجنون وغیرہ ہیں، کہ ان میں سے کسی چیز کا مشاہدہ کھلی آنکھوں نہیں ہوتا۔ ’جان نکلنے ‘یا ’جان میں جان آنے‘ کا مشاہدہ اس کے آثار سے ہوتا ہے۔ خود ’جان‘ نظروں سے روپوش رہتی ہے۔۔۔۔ ’جنین‘ کو عام انسانی آنکھ سے دیکھنا نا ممکن ہے۔۔۔۔ ’جن‘ کس نے دیکھا ہے، جنات کی موجودگی یا وجود کا احساس ان کے کسی عمل ہی سے لگایا جاتا ہے۔۔۔۔ ’مجنون‘ کے بارے میں کَہ سکتے ہیں کہ اسے تو دشت عرب میں پھرتے دکھا گیا ہے۔مگر حقیقت یہ کہ وہ ’جنون ‘کا اثر ہوتا ہے ورنہ خود’جنون‘ نظروں سے پوشیدہ ہی رہتا ہے۔۔۔۔آسان لفظوں میں کَہ سکتے ہیں کہ ’جنون‘ اگر پاگل پن ہے تو ’مجنون‘ اس پاگل پن کی کیفیت ہے۔ مطلب دماغ میں کسی مقام پر انگلی رکھ نہیں بتایا جا سکتا کہ یہ رہا ’جنون‘ جس
کی وجہ سے بندہ ’مجنون‘ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آگ اور خون کا آلاؤ ۔عبدالخالق بٹ
اس وضاحت کے باجود سوال کیا جاسکتا ہے کہ لفظ ’جنت‘ تو عام باغ کے لیے خود قرآن میں بھی آیا ہے اور جب جنت بصورت باغ برسر زمین موجود ہے تو اس کا نظروں سے پوشیدہ ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟
اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جنت کے مفہوم میں قسم قسم کے سایہ دار درخت ، انواع اقسام کے پھل، رنگا رنگ پھول اور خوش الحان پرندے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کی موجودگی شامل ہے، اس رعایت سے ایک درجے میں باغ کو مجازاً جنت کہتے ہیں، کہ یہ سب کچھ ’ جنت‘ میں بھی ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بہادر شخص کو اس کی بے جگری اور بے خوفی کی نسبت سے ’شیردل‘ کَہ دیاجائے ،حالانکہ اس کے سینے میں اس کا اپنا دل دھڑک رہا ہوتا ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ایسا باغ جو درختوں کی کثرت اور زبردست سبزے کی وجہ سے زمین کو ’ڈھانپ‘ دے، جنت کی تعریف میں داخل ہے۔
جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ’ فردوس‘ ہے۔مگر میر تقی میرؔ کوچۂ جاناں کو فردوس سے بڑھ کر جانتے ہیں: ’ کوچۂ یار تو ہے غیرتِ فردوس ولے‘ ۔
پر یہ عجب تماشا ہے کہ جس کوچے کو وہ غیرتِ فردوس مانتے ہیں، وہاں عشّاق کی عزت دو کوڑی کی بھی نہیں، بقول منشی انوار حسین تسلیم:
یوں پکارے ہیں مجھے کوچۂ جاناں والے
ادھر آ بے، ابے او چاک گریباں والے
’احمقوں اور جاہلوں کا جنگل‘- عبدالخالق بٹ
لفظ ’فردوس‘ کو اگر بہت سی زبانوں کی مشترکہ میراث کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک معروف مفسر قرآن ’فردوس‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’فردوس‘،جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو تمام انسانی زبانوں میں مشترکہ طور پر پایاجاتاہے۔ سنسکرت میں ’پردِشا‘،۔۔۔ قدیم کلدانی زبان میں ’پردیسا‘،۔۔۔ قدیم ایرانی ژند میں’پیری دائزا‘، ۔۔۔عبرانی میں ’پردیس‘،۔۔۔ارمنی میں ’پردیز‘،۔۔۔سریانی میں ’فردیسو‘،۔۔۔ یونانی میں ’بارادائسوس‘،۔۔۔ لاطینی میں ’بارادائیسس‘۔۔۔ عربی میں ’فردوس‘۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایسے باغ کے طور پربولا جاتا ہے جس کے گرد حصار موجود ہو،۔۔۔ وسیع ہو،۔۔۔ قیام گاہ سے متصل ہو،۔۔۔ ہرقسم کے پھل خصوصاً انگور پائے جاتے ہوں۔۔۔ اور بعض زبانوں میں تومنتخب پالتو پرندوں، جانوروں کا بھی پایاجانا اس کے مفہوم میں شامل ہے‘۔
یہ تو قدیم زبانوں کا احوال تھا۔ ذرا انگریزی کے پیراڈائز (paradise) پر غور کریں۔ پھر انگریزی ہی نہیں بلکہ درجنوں جدید یوروپی زبانوں میں یہ لفظ لہجے کے اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ جدید ارمنی زبان میں فردوس کے لیے لفظ درخت (դրախտ) بولا جاتا ہے جو ’فردوس‘ کی رعایت سے باغ ۔پھل۔پھول۔پرندوں اور سائے کا مفہوم لیے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اونٹوں کی شتر بانی ۔عبدالخالق بٹ
اس قبل کہ بات جنت کی رعایت سے حور و غلامان تک پہنچے اور حورانِ جنت اور حورانِ یورپ کی میں’ مقابلہ حسن ‘ شروع ہوجائے، ہمیں اجازت دیجیے۔ ویسے اس مقابلے کے نتیجے کا اعلان علامہ اقبالؒ بہت پہلے حورانِ غرب کے حق میں کرگئے ہیں :
’حورِ جنت سے ہے خوشتر حورِ غرب‘

آنڈے گرم آنڈے۔عبدالخالق بٹ

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں - نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے شعر علامہ اقبال کا ہے اور انڈے نئی تہذیب کے۔انڈے مرغی کے ہوتے تو گندے ہونے کے باوجود کمرشل استعمال میں آجاتے۔یقین نہ آئے تو بیکری میں کام کرنے والے ’اندر کے آدمی‘سے پوچھ لیں۔ اردو زبان میں انڈے کی رعایت سے بہت سے محاورے موجود...