"پھر یوں ہوا کہ" - سید مستقیم معین

رات کا آخری پهر شروع هو چکا تھا۔ مجرم کال کوٹھڑی میں تھا۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے بیوی سے ملاقات هوئی تھی۔ اس نے بتایا تھا که هر جگه سے رحم کی اپیل مسترد هو چکی هے۔ مجرم پر مایوسی طاری هو چکی تھی۔ اسے اپنے کیے پر ندامت تھی۔ ره ره کر اپنے ان لیڈروں پر غصه آ رها تھا جن کی جیب کی گھڑی اور هاتھ کی چھڑی...