’’قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند‘‘ مستنصر حسین تارڑ

کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھیے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001ء میں یا شاید 2002ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ...