سدرہ سحر عمرانسدرہ سحر عمران کی شخصیت کئی رنگو ں کا امتزاج ہے۔ ان کے باغی خیالا ت مصنوعی رسم و رواج، نمائشی مذہبیت اور معاشرے کی غیر منصفانہ تقسیم سے متصادم ہیں۔ ان کی نظموں کے مزاج میں بلا کی سفاکیت، کاٹ اور شدت پسندی ہے تو ایک اسکرپٹ رائٹر کے بطور یہ رنگ جذبات و احساسات، محبت اور سماجی رویوں کے عکاس ہیں۔ ان کی نثر میں طنز و مزاح بھی ہے، برجستگی اور روانی بھی۔

عورت چادر کو پھانسی کا پھندا کیوں سمجھتی ہے؟ سدرہ سحر عمران

یہ معاشرہ مردوں کا ہے۔ گاؤں دیہات، قبیلے، علاقے، جرگے، پنچایتوں کے ان پڑھ مرد ہوں یا شہری زندگی کے پڑھے لکھے بابو، چونکہ اس معاشرے پر ان کا تسلط ہے تو ان کی حاکمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت کو ہمیشہ سے ہی بہت مظلوم سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ اس روایتوں سے جڑی ہوئی ہے جہاں عورت کے...