اک گل پچھاماروگے تاں نہیں،محکمہ پولیس میں اخلاقی فقدان - نسیم الحق زاہدی

گردش ایام ،تلخی وقت،بے روزگاری ،بے لگام مہنگائی اور ناقص غذائوں نے چھوٹی عمراں وچ کی کی روگ لادتے نے آپ زیادہ نہیں آج سے دس پندرہ سال پیچھے چلے جائیں تو یقین کریں بلڈ پریشر ،شوگر، ہارٹ اٹیک جیسی مہلک اور موذی امراض اس قدر نہ تھیں جس برق رفتاری سے یہ امراض آج بڑھ رہی ہیں پہلے یہ امراض زیادہ تر بڑھتی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب نوجوان ان کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ نبی رحمت سرکار دوعالم ؐکی حدیث کے مطابق قرب قیامت وبائوں کا پھوٹنا اور اچانک اموات کا ہونا لازم ہے ۔ویسے تو الحمدللہ ،اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہر بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طر ح کی روحانی جسمانی بیماریوں ،عذابوں،وبائوں،آفتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ۔چند عرصہ سے امراض معدہ اور ذہنی تنائو کا شکار ہوچکا ہوں۔ایک بات کو مسلسل سوچتے رہنا اور پھر خود سے خوفزدہ رہنا عجیب سی الجھنیں ہیں کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور انکی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے کیونکہ ایک مسلمان جس کے پاس قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت اور کامیاب زندگی کے لیے نبی رحمت ؐ کے فرامین موجود ہوں وہ مسلمان کبھی بھی ان الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان سے روگردانی نہ کرلے ،منہ نہ موڑ لے۔

اور یقینا ایسا ہی ہے کہ فکر معاش نے فکر الٰہی سے غافل کردیا ہوا ہے۔چندروز قبل ہفتہ کے دن شام سات بجے کے قریب لوہاری سے BP Operatorلینے کے لیے گیا تو واپسی پر فرمان بیگم پر عملدرآمد کرتے ہوئے شاہ عالمی سے پلاسٹک کے ڈبے لینے کے لیے داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی ایک ملازم نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا فوراً سے پہلے بائیک روکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک ملازم نے آئی ڈی کارڈ مانگا فوراً پیش کیا موبائل نمبر پوچھا فوراً بتایا ایک Profarmaپر سب کچھ لکھ لیا۔ادھر کیا لینے آئے ہو؟ عرض کی کہ پلاسٹک کے ڈبے۔تمہیں نہیں پتا کہ ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے عرض کہ اکثر شام کے وقت چند لوگ زمین پر سستی چیزوں کی سیل لگاکربیٹھے ہوتے ہیں یہی سوچ کر ادھر کارخ کرلیا ۔اتنے میں ڈرائیونگ سیٹ کی دوسری جانے بیٹھے صاحب بولے توں کی کردا اے؟عرض کی کہ قلم کا مزدور ہوں ۔سدھی طرح دس عرض کی کالم نگار (صحافی )یہ بات سننی تھی کہ اعلیٰ حضرت ایک موٹی گالی کے ساتھ بولے یہ صحافی تو ہوتے ہی (یہاں وہ گالی لکھنا مناسب نہیں کیونکہ میری زبان اور قلم مجھے زیب نہیں دیتا)ایسے ہیں ۔انتہائی ادب سے عرض کی کہ جناب کہ میرے پیشے کوگالی نہ دیں قلم کی حرمت پامال مت کریں کیونکہ صحافت پیغمبری پیشہ ہے ۔آپ نے جو مانگا حضور کو پیش کردیا پھر گالی دینا اچھی بات نہیں بس یہ بات سننی تھی کہ جناب کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک دم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا دساں تینوںایتھے لمیاں کے چھترمارا گا کہ تینوں دادی یادآجاوے گی ایک اور موٹی گالی ۔یقین کریں اس وقت میں نے دل میں سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اپنی بیوی اور معصوم بیٹیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لے او یار حوالے رب دے۔مجھے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی کہ ابھی سانحہ ساہیوال ،سانحہ اسلام آباد،سانحہ صلاح الدین کی طرح گولیوں سے بھون دیا جائے گا اور پھر مجھے دہشت گرد ثابت کردیا جائے اور میرے ہاتھ میں بلڈ پریشر میٹر کی جگہ Hand Grenadeشو کیا جائے گا ۔کیونکہ وطن عزیز میں غریب کی جان کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی امیر کے پاس سے پکڑنی جانے والی شراب بعد میں شہد اور زیتون کا تیل بن جاتا ہے۔چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی کہ گائوں پانڈوکی میں کاہنہ پولیس کی طرف سے جعلی مقابلے میں قتل کیے گئے نوجوانوں۔جعلی مقابلہ کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے لواحقین کے بقول پولیس والے انکو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ادھر سانحہ ساہیوال جن میں محمد خلیل ،اسکی اہلیہ اور تین معصوم دہشت بچوں کو گولیاں لگیں ۔دو بچے خوش قسمتی سے بچ گئے ۔

اس سانحہ پر شدید عوامی رد عمل سامنے آیا ۔ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔سی ٹی ڈی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب نے اس محکمے کے سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ۔سی ٹی ڈی کے تین اعلیٰ افسران سے وفاقی حکومت کو رپورٹ کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ۔ایس ایس پی اورڈی ایس پی معطل ہوئے ۔فائرنگ کرنے والے پانچ اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ درج ہوا۔سانحہ ساہیوال کے بعد جہاں مبینہ طور پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ایس ایس پی کو ستارہ شجاعت سے نوازا گیا ہے۔بے گناہ نوجوان طالب علم اسامہ ستی قتل کیس میں اسلام آبادانسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ذہنی معذور صلاح الدین جوکہ پولیس حراست کے دوران ہلاک کردیا گیا تھا اسکے والد کو علم تھا کہ اس کو زندگی میں کبھی انصاف نہیں ملے اس لیے اس نے ملوث پولیس والے کو معاف کردیا ۔مقتول مظلوم صلاح الدین پولیس والوں سے پانی مانگتا رہا ،اللہ کے واسطے دیتا رہا پولیس والے کتے کی طرح زبان باہر نکالنے کا کہتے ہوئے ویڈیوز میں صاف دکھائی سنائی دیتے ہیں۔بچارا ایک گھونٹ پانی کے لیے کتے کی طرح آوازیں بھی نکالتا رہا ۔’’اک گل پچھاں تسی لوکاں نے مارنا کتھوں سکھیا اے ‘‘اللہ جانتا ہے یہ الفاظ سن کر روح تڑپ جاتی ہے اور ڈر لگتا ہے کہ کہیں میراکریم رب کو جلال نہ آجائے کہ اور بستیوں کی بستیاں الٹ کر نہ رکھ دے کہ اس کے ایک ذہنی معذور بندے کو ایک گھونٹ پانی کے یہ لوگ کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کرتے رہے۔پتنگ بازی کے حوالے بہت سی ویڈیوزسوشل میڈیا پر آچکی ہیں جن میں پولیس والے چادروچاردیواری کو تقدس کو پامال کرتے ہوئے زبردستی گھر میں گھستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یقین جانیے مجرم ،مجرم ہی ہوتا ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہو ۔نبی رحمت آقا کریم ؐ کا فرمان کریم ہے کہ وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے جس میں قانون امیر کے لیے کچھ اور ہوتا ہو اور غریب کے لیے کچھ اور ہوتا ہو۔مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری اور حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہے کہ بنومخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو نبی ﷺ سے درخواست کی گئی کہ اس عورت نے چوری کی ہے ،لیکن شریف گھرانے کی ہے ،اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ،کوئی اور سزا دیدی جائے ۔نبی ؐ کو یہ بات سخت ناگوارگزری آپ ؐ نے فرمایا کہ قومیں اسی طرح تباہ ہوئی ہے کہ ان میں جو بااقتدار اور شریف سمجھے جاتے تھے انہوں نے اگر کوئی غلط کام کیا تو ان کو سزا ء نہیں دی گئی اور جو کمزور تھے انکو سزا دی گئی ۔پھر اس کے بعد وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو یقیناًپیغمبر ہی کی زبان سے نکل سکتا ہے ۔آپ ؐ نے فرمایا کہ اس عورت کی جگہ اگر محمد ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ بھی چوری کرتیں تو آج میں اسکا بھی ہاتھ کاٹ دیتا (متفق علیہ)اگر ایک بااثر مجرم کو سزا دیدی جاتی تو آج یہ بڑے بڑے سانحات نہ ہوتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */